اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-07-18

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ14؍جون 2024بطرز سوال وجواب

سوال: حُیی بن اخطب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کیلئے کیا منصوبہ بنایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حُیی بن اخطب نے کہا: اے یہود کی جماعت! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ تمہارے پاس آئے ہیں۔ ان کی تعداد دس سے بھی کم ہے۔ اس گھر کے اوپر سے بڑا پتھر گرا کر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قتل کر دو۔ تمہیں اس سے بہتر موقع دوبارہ نہیں ملے گا۔ اگر انہیں قتل کر دیا تو ان کے ساتھی بکھر جائیں گے۔ مکہ سے آئے ہوئے ان کے ساتھی واپس مکہ چلے جائیں گے اور یہاں صرف اوس اور خزرج رہ جائیں گے جو تمہارے حلیف ہیں اس لیے تم جو کرنا چاہتے ہو ابھی کر ڈالو۔
سوال:قبیلہ بنو نضیر کے متعلق حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: قبیلہ بنونضیر کا تعارف یہ ہے کہ بنونضیر مدینہ کے یہود کا ایک خاندان تھا۔ بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ یہ بنونضیر خیبر کے یہود کا ایک قبیلہ تھا اور ان کی بستی کو زَہرہ کہا جاتا تھا۔
سوال:غزوۂ بنونضیر کب پیش آیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: غزوۂ بنونضیر ربیع الاول چار ہجری میں پیش آیا۔ایک قول یہ ہے کہ غزوۂ اُحد سے پہلے کا واقعہ ہے اور امام بخاری کا قول بھی یہی ہے۔ البتہ امام بخاری نے اسی جگہ یہ بھی لکھا ہے کہ ابنِ اسحاق کے نزدیک یہ جنگ اُحد اور بئر معونہ کے بعد ہوا تھا۔ البتہ علامہ ابنِ کثیر اور ان کے علاوہ اکثر مؤرخین اور سیرت نگاروں نے کہا ہے کہ غزوۂ بنونضیر غزوہ اُحد کے بعد ہی ہوا تھا۔
سوال:غزوہ بنونضیرہونے کا سبب پیش آیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: غزوہ بنونضیرکے اسباب کے متعلق بیان ہوا ہے کہ قریش مکہ نے غزوۂ بدر سے پہلے عبداللہ بن ابی بن سلول اور اوس اور خزرج کے دیگر بت پرستوں کو لکھا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تھے کہ تم نے ہمارے ساتھی کو پناہ دی ہے۔ مدینہ میں تمہاری تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ہم قسم کھا کر کہتے ہیں کہ یا ان کے ساتھ قتال کرو یا انہیں اپنے شہر سے نکال دو یاپھر ہم عرب کو اکٹھا کر کے تم پر حملہ آور ہو جائیں گے۔ تمہارے جنگجوؤں کے ساتھ جنگ کریں گے۔ تمہاری عورتوں اور بچوں کو تہ تیغ کر دیں گے۔ کفار ِمکہ نے یہ خط مدینہ کے سرداروں کو لکھا۔ جب اِبنِ اُبَی اور دیگر بت پرستوں کو یہ خط ملا تو انہوں نے ایک دوسرے کی طرف پیغام بھیجا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے ساتھ جنگ کا پختہ ارادہ کر لیا۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی تو آپؐ صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ انہیں ملے یعنی مدینہ کے سرداروں کو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قریش نے تمہیں سخت دھمکی آمیز خط لکھا ہے۔یہ خط تمہیں کسی فریب میں مبتلا نہ کر دے کہ تم خود کو مکرو فریب میں مبتلا کر دو اور تم اپنے ہی بھائیوں اور بیٹوں سے لڑنے لگو۔ جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سنی تو انہیں یہ بات سمجھ آ گئی اور انہوں نے اپنے ارادےملتوی کر دیے اور منتشر ہو گئے اور یوں قریشِ مکہ کی یہ دھمکی کارگر نہ ہوئی۔
سوال:آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جن اصحاب کے ساتھ تشریف لے گئے ان کی تعداد کتنی تھی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جن اصحاب کے ساتھ تشریف لے گئے ان کی تعداد دس سے کم تھی۔ اس روایت میں یہ لکھا ہے۔ ان میں حضرت ابوبکرؓ ، حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ بھی تھے۔ حضرت زبیر ؓ، حضرت طلحہ ؓ، حضرت سعد بن معاذؓ ، حضرت اسید بن حضیرؓ اور حضرت سعد بن عبادہؓ کے نام بھی ملتے ہیں۔
سوال:یہود نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کرنے کے متعلق کیا سازش کی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: حُیَی ّبن اَخْطَب نے کہا یہود سے کہا: اے یہود کی جماعت! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ تمہارے پاس آئے ہیں۔ ان کی تعداد دس سے بھی کم ہے۔ اس گھر کے اوپر سے بڑا پتھر گرا کر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قتل کر دو۔ تمہیں اس سے بہتر موقع دوبارہ نہیں ملے گا۔ اگر انہیں قتل کر دیا تو ان کے ساتھی بکھر جائیں گے۔ مکہ سے آئے ہوئے ان کے ساتھی واپس مکہ چلے جائیں گے اور یہاں صرف اوس اور خزرج رہ جائیں گے جو تمہارے حلیف ہیں اس لیے تم جو کرنا چاہتے ہو ابھی کر ڈالو۔
سوال:جب عمروبن جَحَّاش نے کہا کہ میں اس گھر پر چڑھ کر پتھر گرا کر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو نعوذ باللہ قتل کروں گا تو بنو نضیر کے سردارسلام بن مشکم نے کیا کہا ؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:جب عمروبن جَحَّاش نے کہا : میں اس گھر پر چڑھ کر پتھر گرا کر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو نعوذ باللہ قتل کروں گا۔ جب یہ ساری مشاورت ہو رہی تھی اس وقت بنونضیر کے ایک سردار سَلَّام بن مِشْکَم نے کہا: اے یہود کی جماعت! تم بےشک ساری زندگی میری مخالفت کر لینا لیکن آج میری بات مان لو۔ اللہ کی قسم! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو تمہارے اس ارادے کی خبر کر دی جائے گی اور یہ ہمارے اور ان کے درمیان معاہدے کی خلاف ورزی ہو گی۔لیکن یہود نے اس کی ایک نہ سنی اور اپنے عزم پر قائم رہے۔
سوال: غزوہ بنونضیر کے ہونے کا فوری سبب کیا تھا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اس غزوہ کا ایک اہم اور فوری سبب یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ بئر معونہ سے واپسی پر جب حضرت عَمرو بن اُمَیّہ ضَمْرِیؓنے بنو عامر کے دو افراد کو قتل کیا تھا جن کے ساتھ مسلمانوں کا معاہدہ تھا اور اب ان کی دیّت کا معاملہ تھا۔ اس سلسلہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بنونضیر کے پاس تشریف لے گئے تھے۔کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود سے جو معاہدہ کیا تھا اس کی ایک شق یہ بھی تھی کہ أَنْ يُعَاوِنُوْهُ فِي الدِّيَاتِ یعنی وہ لوگ دیت کے معاملات میں مسلمانوں سے تعاون کریں گے۔
سوال: غزوۂ بنو نضیر کے اسباب کے متعلق حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنے کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنے فرمایا:اس غزوہ کا سبب بیان کرتے ہوئے اربابِ حدیث وسیر مختلف وجوہات بیان کرتے ہیں اور اس اختلاف کی وجہ سے اس غزوہ کے زمانہ کے متعلق بھی اختلاف پیداہوگیا ہے۔
سوال:سردار حُیَّی بن اَخْطَب کے بارے میں حضور انور نے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو اس وقت بنونضیر کا سردار حُیَّی بن اَخْطَب تھا۔ اس کے آباؤ اجداد میں چھٹی نسل میں نَضِیر بنِ نَحَّام کا نام آتا ہے جس کے نام سے یہ قبیلہ بنونضیر کہلاتا ہے۔ امّ المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنونضیر کے اسی سردار حیی بن اخطب کی بیٹی تھیں۔ حیی بن اخطب کا سلسلہ نسب حضرت موسیٰؑ کے بھائی حضرت ہارونؑ سے جا ملتا ہے۔ حیی کے نسب میں کئی اشخاص انبیاء کے شرف سے نوازے گئے جن پر اسے فخر تھا اور اسی گھمنڈ میں یہ کہا کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہم پر اس دنیا میں مہربان ہے اور آخرت میں بھی وہ ہم پر شفقت اور مہربانی فرمائے گا۔ وہ ہمیں گناہوں کی وجہ سے چند دن سزا دے گا بالآخر جنت ہی ہمارا ٹھکانہ ہو گا۔ اسی نسبی فخر اور تکبر کے باعث حیی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے روگردانی کی تھی۔
…٭…٭…٭…