سوال:حضور انور نے خطبہ کے شروع میں کون سی آیات کی تلاوت فرمائی؟
جواب:حضور انور نے خطبہ کے شروع میں سورہ الانبیاء کی آیت نمبر 108 اور سورہ الاحزاب کی آیت نمبر 57 تا 58 کی تلاوت فرما ئی وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ۔
اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ۔ یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ لَعَنَھُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَاَعَدَّلَھُمْ عَذَابًا مُّھِیْنًا۔
سوال:ڈنمارک اور مغرب کے بعض ممالک میں جو آنحضرت ﷺکے بارے میں انتہائی غلیظ کارٹون اخباروں میں شائع ہو رہے ہیں اس پر مسلمانوں کا کیا رد عمل ہونا چاہئے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:ایک مستقل مہم ہونی چاہئے، دنیا کو بتانا چاہئے کہ اس عظیم نبی کا کیا مقام ہے اس بارے میں جہاں جہاں بھی جماعتیں Activeہیں وہ کام کر رہی ہیں لیکن جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارا رد عمل کبھی ہڑتالوں کی صورت میں نہیں ہوتا اور نہ آگیں لگانے کی صورت میں ہوتاہے اور نہ ہی ہڑتالیں اور توڑ پھوڑ، جھنڈے جلانا اس کا علاج ہے۔
سوال:کیا اسلامی معاشرے اور مغربی سیکولرجمہوریت کے درمیان تصادم ہے ؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:ڈنمارک کے ایک صاحب نے لکھا تھا کہ اسلامی معاشرے اور مغربی سیکولرجمہوریت کے درمیان تصادم ہے یہ بالکل غلط بات ہے، یہ کوئی تہذیبوں کا یا سیکولر ازم کا تصادم نہیں ہے۔ یہ آزادی اظہار کا مسئلہ بھی نہیں ہے۔ بات صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق پیغمبر پر خدا نے براہ راست اپنی تعلیمات نازل کیں وہ زمین پر خدا کے ترجمان ہیں جبکہ یہ(یعنی عیسائی) سمجھتے ہیں،(اب یہ عیسائی لکھنے والا لکھ رہا ہے)کہ انبیاء اور ولی ان کی تعلیمات انسانی حقوق اور آزادیوں کے جدید تصور سے ہم آہنگ نہ ہونے کے سبب تاریخ کے دھندلکوں میں گم ہو گئے ہیں۔ مسلمان مذہب کو اپنی زندگی کا حصہ سمجھتے ہیں اور صدیوں کے سفر اور تغیرات کے باوجود ان کی یہ سوچ برقرار ہے جبکہ ہم نے مذہب کو عملاً زندگی سے علیحدہ کر دیا ہے۔ اس لئے ہم اب مسیحیت بمقابلہ اسلام نہیں بلکہ مغربی تہذیب بمقابلہ اسلام کی بات کرتے ہیں اور اس بنیاد پر یہ بھی چاہتے ہیں کہ جب ہم اپنے پیغمبروں یا ان کی تعلیمات کا مذاق اڑا سکتے ہیں تو آخر باقی مذاہب کا کیوں نہیں۔
سوال:کن باتوں کا یہ فائدہ اٹھا کر اسلام پر حملہ کرتے ہیں؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:کچھ رویہ بھی مسلمانوں کا تھا جس کی وجہ سے ایسی حرکت کا موقع ملا، لیکن ان لوگوں میں شرفاء بھی ہیں جو حقائق بیان کرنا جانتے ہیں۔ مَیں نے مختلف ملکوں سے جو وہاں رد عمل ہوئے، یعنی مسلمانوں کی طرف سے بھی اور ان یورپین دنیا کے حکومتی نمائندوں یا اخباری نمائندوں کی طرف سے بھی جو اظہار رائے کیا گیا ان کی رپورٹیں منگوائی ہیں۔ اس میں خاصی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے جنہوں نے اخبار کے اس اقدام کو پسند نہیں کیا۔ کہیں نہ کہیں سے کسی وقت ایسا شوشہ چھوڑا جاتا ہے جس سے ان گندے ذہن والوں کے ذہنوں کی غلاظت اور خدا سے دُوری نظر آجاتی ہے۔ اسلام سے بغض اور تعصب کا اظہارہوتا ہے بدقسمتی سے مسلمانوں کے بعض لیڈروں کے غلط ردّ عمل سے ان لوگوں کو اسلام کو بدنام کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ یہی چیزیں ہیں جن سے پھر یہ لوگ بعض سیاسی فائدے بھی اٹھاتے ہیں۔
سوال: لیکھرام کی ہلاکت کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ خداتعالیٰ نے ایک اللہ اور رسول کے دشمن کے بارے میں جو آنحضرت ﷺکو گالیاں نکالتا ہے اور ناپاک کلمے زبان پر لاتا ہے جس کا نام لیکھرام ہے مجھے وعدہ دیا اور میری دعا سنی اور جب مَیں نے اس پر بددعا کی کہ تو خدا نے مجھے بشارت دی کہ وہ 6سال کے اندر ہلاک ہو جائے گا۔ یہ ان کے لئے ایک نشان ہے جو سچے مذہب کو ڈھونڈتے ہیں ۔
سوال:جو لوگ رسول کو اذیت پہنچاتے ہیں ان کے متعلق خدا تعالیٰ کیا فرماتا ہے؟
جواب:اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ لَعَنَھُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَاَعَدَّلَھُمْ عَذَابًا مُّھِیْنًا(الاحزاب:58)یعنی وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچاتے ہیں، اللہ نے ان پر دنیا میں بھی لعنت ڈالی ہے اور آخرت میں بھی اور اس نے ان کے لئے رسوا کن عذاب تیار کیا ہے۔
سوال:ہمیں ان لوگوں کو کس طرح سمجھانا ہے جو رسول اللہ ﷺکو گالیاں دیتے ہیں؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایااس قسم کی حرکت کرنے والوں کو سمجھاؤ۔ آنحضرت ﷺکے محاسن بیان کرو، دنیا کو ان خوبصورت اور روشن پہلوؤں سے آگاہ کرو جودنیا کی نظر سے چھپے ہوئے ہیں اور اللہ سے دعا کرو کہ یا تو اللہ تعالیٰ ان کو ان حرکتوں سے باز رکھے یا پھر خود ان کی پکڑ کرے۔ اللہ تعالیٰ کی پکڑ کے اپنے طریقے ہیں وہ بہتر جانتا ہے کہ اس نے کس طریقے سے کس کو پکڑنا ہے۔
سوال:دفاعی جنگ کے متعلق آنحضرت ﷺپر کون سی آیت نازل ہوئی؟
جواب:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا۔ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ(البقرۃ:191) کہ اے مسلمانو! لڑو اللہ کی راہ میں جو تم سے لڑتے ہیں مگر زیادتی نہ کرو یقینا اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
سوال:ایک احمدی کا کیا رد عمل ہونا چاہئےجب ہم ایسی ناپاک باتیں سنیں اور دیکھیں؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: ہمارا ردّ عمل ہمیشہ ایسا ہونا چاہئے جس سے آنحضرت ﷺکی تعلیم اور اسوہ نکھر کر سامنے آئے۔ قرآن کریم کی تعلیم نکھر کر سامنے آئے۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عشق رسولؐ کی غیرت کے متعلق حضور انور نے کیا فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عشق رسولؐ کی غیرت پردو مثالیں دیتا ہوں۔ پہلی مثال عبداللہ آتھم کی ہے جو عیسائی تھا۔ اس نے اپنی کتاب میں آنحضرت ﷺکے متعلق اپنے انتہائی غلیظ ذہن کا مظاہرہ کرتے ہوئے دجّال کا لفظ نعوذباللہ استعمال کیا۔ اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ اسلام اور عیسائیت کے بارے میں ایک مباحثہ بھی چل رہا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ سو میں پندرہ دن تک بحث میں مشغول رہا، بحث چلتی رہی اور پوشیدہ طور پر آتھم کی سرزنش کے لئے دعا مانگتا رہا۔ یعنی جو الفاظ اس نے کہے ہیں اس کی پکڑ کے لئے۔ حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں کہ جب بحث ختم ہوئی تو مَیں نے اس سے کہا کہ ایک بحث تو ختم ہو گئی مگر ایک رنگ کا مقابلہ باقی رہا جو خدا کی طرف سے ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ نے اپنی کتاب’’اندرونہ بائیبل‘‘ میں ہمارے نبی ﷺکو دجّال کے نام سے پکارا ہے۔ اور مَیں آنحضرت ﷺکو صادق اور سچا جانتا ہوں اور دین اسلام کو مِنجانب اللہ یقین رکھتا ہوں۔ پس یہ وہ مقابلہ ہے کہ آسمانی فیصلہ اس کا تصفیہ کرے گا۔ اور وہ آسمانی فیصلہ یہ ہے کہ ہم دونوں میں سے جو شخص اپنے قول میں جھوٹا ہے اور ناحق رسول کو کاذب اور دجال کہتا ہے اور حق کا دشمن ہے وہ آج کے دن سے پندرہ مہینے تک اس شخص کی زندگی میں ہی جو حق پر ہے ہاویہ میں گرے گا بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔ یعنی راستباز اور صادق نبی کو دجال کہنے سے باز نہ آوے اور بے باکی اور بدزبانی نہ چھوڑے۔ یہ اس لئے کہا گیا کہ صرف کسی مذہب کا انکار کر دینا دنیا میں مستوجب سزا نہیں ٹھہرتا بلکہ بے باکی اور شوخی اور بدزبانی مستوجب سزا ٹھہرتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں جب مَیں نے یہ کہا تو اس کا رنگ فق ہو گیا، چہرہ زرد ہو گیا اور ہاتھ کانپنے لگے تب اس نے بلا توقف اپنی زبان منہ سے نکالی اور دونوں ہاتھ کانوں پر دھر لئے اور ہاتھوں کو مع سر کے ہلاناشروع کیا جیسا ایک ملزم خائف ایک الزام کا سخت انکار کرکے توبہ اور انکسار کے رنگ میں اپنے تئیں ظاہر کرتا ہے اور بار بار کہتا تھا کہ توبہ توبہ مَیں نے بے ادبی اور گستاخی نہیں کی۔