سوال: سَریہ بئر معونہ میں روانہ ہونے والے صحابہؓ کو لوگ کس نام سے یاد کیا کرتے تھے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:سَریہ بئر معونہ میں روانہ ہونے والے سب صحابہؓ نوجوان تھے۔ قرآن کے قاری ہونے کی وجہ سے لوگ انہیں قرّاء کے لقب سے یاد کیا کرتے تھے۔
سوال:حضرت حَرَام بن مِلْحَانؓنے بئرمَعُونَہ والوں کو کس کس چیز کی دعوت دی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت حَرَام بن مِلْحَانؓ نے کہا: اے بئرمَعُونَہ والو! مَیں تمہارے پاس اللہ کے رسول ﷺکا فرستادہ بن کر آیا ہوں۔ مَیں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺاس کے بندے اور رسول ہیں۔ تم اللہ اور اس کے رسول ﷺپر ایمان لے آؤ۔
سوال:کیا اسلام نے تلوار کے زور سے فتح پائی؟
جواب:حضرت مصلح موعودؓنے فرمایا:اسلام نے تلوار کے زور سے فتح نہیں پائی بلکہ اسلام نے اس اعلیٰ تعلیم کے ذریعہ سے فتح پائی ہے جو دلوں میں اتر جاتی تھی اور اخلاق میں ایک اعلیٰ درجہ کا تغیر پیدا کر دیتی تھی۔
سوال: سَرِیَّہ حضرت مُنذِر بن عَمروؓیا سریہ بئر معونہ کب ہوا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: سَرِیَّہ حضرت مُنذِر بن عَمروؓ یا سریہ بئر معونہ 4ہجری میں ہوا۔ بعض کے نزدیک یہ سریہ رجیع سے پہلے اور بعض کے نزدیک رجیع کے بعد ہوا۔ یہ واقعہ بھی سریہ رجیع کی طرح دشمن کی بدعہدی اور سفاکی کا بدترین نمونہ ہے۔
سوال: سَرِیَّہ حضرت مُنذِر بن عَمروؓ یا سریہ بئر معونہ کے متعلق حضر ت مرزابشیر احمد صاحبؓنے کیا فرمایا؟
جواب:حضر ت مرزابشیر احمد صاحب فرماتے ہیں :قبائل ِسُلَیم وغَطْفَان… یہ قبائل عرب کے وسط میں سطح مرتفع نجد پر آباد تھے اورمسلمانوں کے خلاف قریش مکہ کے ساتھ ساز باز رکھتے تھے اور آہستہ آہستہ ان شریر قبائل کی شرارت بڑھتی جاتی تھی اور سارا سطح مرتفع نجد اسلام کی عداوت کے زہر سے مسموم ہوتا چلا جا رہا تھا۔ ان ایام میںایک شخص ابوبَرَاء عَامِری جووسط عرب کے قبیلہ بنو عامر کا ایک رئیس تھا آنحضرت ﷺکی خدمت میں ملاقات کے لئے حاضر ہوا۔ آپؐنے بڑی نرمی اورشفقت کے ساتھ اسے اسلام کی تبلیغ فرمائی اور اس نے بھی بظاہرشوق اور توجہ کے ساتھ آپؐکی تقریر کو سنا مگر مسلمان نہیں ہوا۔اس نے آنحضرت ﷺسے یہ عرض کیا کہ آپؐمیرے ساتھ اپنے چند اصحاب نجد کی طرف روانہ فرمائیں جووہاں جا کر اہل نجد میں اسلام کی تبلیغ کریں اور مجھے امید ہے کہ نجدی لوگ آپؐکی دعوت کو ردّ نہیں کریں گے۔ آپؐنے فرمایا:مجھے تو اہلِ نجد پراعتماد نہیں ہے۔ ابوبَرَاء نے کہا کہ آپؐہرگز فکر نہ کریں۔ مَیں ان کی حفاظت کاضامن ہوتا ہوں چونکہ ابوبَرَاء ایک قبیلہ کا رئیس اور صاحبِ اثر آدمی تھا آپؐنے اس کے اطمینان دلانے پر یقین کر لیا اور صحابہؓ کی ایک جماعت نجد کی طرف روانہ فرمادی۔
قبائل رِعْل اور ذَکْوَان وغیرہ ان کے چند لوگ آنحضرت ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام کا اظہار کرکے درخواست کی کہ ہماری قوم میں سے جولوگ اسلام کے دشمن ہیں ان کے خلاف ہماری امداد کے لئے… چندآدمی روانہ کئے جائیںجس پر آپؐنے یہ دستہ روانہ فرمایا۔اس موقعہ پر قبائل رِعل اور ذَکْوَان وغیرہ کے لوگ بھی آنحضرت ﷺکی خدمت میں آئے تھے اورانہوں نے یہ درخواست کی تھی کہ چند صحابہؓ ان کے ساتھ بھجوا ئے جائیں۔آنحضرت ﷺنے صَفر4ہجری میں مُنذِر بن عَمروانصاریؓکی امارت میں صحابہؓ کی ایک پارٹی روانہ فرمائی۔ یہ لو گ عموماً انصار میں سے تھے اور تعداد میں ستر تھے اور قریباً سارے کے سارے قاری یعنی قرآن خوان تھے۔
سوال:حضرت حَرَام بن مِلْحَانؓکے اس خط لے جانے کے متعلق حضور انور نے کیا بیان کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت حَرَام بن مِلْحَانؓ کے اس خط لے جانے کی تفصیل میں لکھا ہے کہ حضرت حَرَام بن مِلْحَانؓنے اپنے ساتھ دو اَور ساتھیوں کو لیا جن میں سے ایک صحابی ایک ٹانگ سے معذور تھے۔ ان کا نام کعب بن زید تھا جبکہ دوسرے ساتھی کے نام کے بارےمیں اکثر سیرت نگار خاموش ہیں البتہ بخاری کی ایک شرح فتح الباری میں زیرِ باب غزوۃ الرجیع میں اس واقعہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے دوسرے ساتھی کا نام مُنذِر بن محمد بیان کیا ہے۔ بہرحال یہ تینوں افراد چل پڑے۔حضرت حرامؓنے اپنے دونوں ساتھیوں کو پہلے ہی بتا رکھا تھا کہ تم میرے قریب ہی رہنا۔ مَیں ان کے پاس جاتا ہوں اگر انہوں نے مجھے امان دے دی تو ٹھیک ہے اور اگر مجھے قتل کر دیا گیا تو آپ دونوں اپنے ساتھیوں کے پاس واپس چلے جانا۔
سوال:حضرت عامر بن فُہَیْرَہؓکی شہادت کے متعلق حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:اس سریہ میں حضرت عامر بن فُہَیْرَہؓکی شہادت کا ذکر یوں ملتا ہے: یہ حضرت ابوبکرؓ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ ان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ آنحضرت ﷺاور حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ ہجرتِ مدینہ میں شامل تھے۔ یہ بھی بئر معونہ کے وقت میں شہید ہوئے تھے۔ جب وہ لوگ بئر معونہ میں قتل کیے گئے اور حضرت عَمرو بن امیہ ضَمْرِیؓقیدکیے گئے تو عامر بن طفیل نے ان سے پوچھا یہ کون ہے؟ اور اس نے ایک مقتول کی طرف اشارہ کیا تو عَمرو بن امیہ نے جواب دیا کہ یہ عامر بن فُہَیْرَہ ہیں۔ عامر بن طفیل نے کہا کہ مَیں نے عامر بن فُہَیْرَہ کو دیکھا کہ وہ قتل کیے جانے کے بعد آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں۔ یہ ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا۔ تب اس نے یہ نظارہ دیکھا۔ یہاں تک کہ مَیں اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ آسمان ان کے اور زمین کے درمیان ہے۔ پھر وہ زمین پر اتارے گئے۔ نبی کریم ﷺکو ان کی خبر پہنچی اور آپ ﷺنے ان کے قتل کیے جانے کی خبر صحابہؓ کو دی اور فرمایا تمہارے ساتھی شہید ہو گئے ہیں اور انہوں نے اپنے ربّ سے دعا کی ہے کہ اے ہمارے رب! ہمارے متعلق ہمارے بھائیوں کو بتا کہ ہم تجھ سے خوش ہو گئے اور تُو ہم سے خوش ہو گیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق بتا دیا۔ صحیح بخاری کی یہ روایت ہے۔حضرت عامر بن فُہَیْرَہؓکو کس نے شہید کیا، اس کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ آپؓکو عامر بن طفیل نے شہید کیا جبکہ دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؓکو جَبَّار بن سَلْمیٰ نے شہید کیا۔
سوال:حضرت عامر بن فُہَیْرَہؓکی شہادت کے وقت ان سے منہ سے کیا الفاظ نکلے تھے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت عامر بن فُہَیْرَہؓکی شہادت کے وقت ان کے منہ سے یہ الفاظ نکلے کہ: فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ اور فُزْتُ وَاللّٰہِ۔کعبہ کے رب کی قسم مَیں کامیاب ہوگیا۔
سوال: جَبَّار بن سَلْمی نے اپنے اسلام میں داخل ہونے کے متعلق کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: جَبَّار بن سَلْمیٰ بیان کرتے ہیں کہ جس چیز نے مجھے اسلام کی طرف کھینچا وہ یہ ہے کہ مَیں نے بئر معونہ کے دن عامر بن فُہَیْرَہ کو دونوں کندھوں کے درمیان تاک کر نیزہ مارا اور مَیں نے نیزے کی اَنی ان کے سینے سے پار ہوتی دیکھی۔ پھر معاً بعدمَیں نے انہیں یہ کہتے سنا۔ فُزْتُ وَاللّٰہِ کہ اللہ کی قسم! مَیں کامیاب ہو گیا۔ یہ الفاظ میرے کانوں سے اتر کر میرے دل میں اتر گئے۔ مَیں سوچ میں پڑ گیا کہ آخر ان الفاظ کا کیا مطلب ہوگا؟ بھلا انہیں کون سی کامیابی ملی؟ مَیں نے تو انہیں قتل کیا ہے۔
مَیں اسی شش و پنج میں ایک مسلمان شخص ضَحَّاک بن سفیان کِلَابِی کے پاس گیا۔ انہیں سارا واقعہ سنایا اور ان الفاظ کا مطلب پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس کامیابی سے مراد جنت کو پا لینا ہے۔ یہ سن کر مَیں نے کہا کہ واقعی اللہ کی قسم! وہ کامیاب ہو گئے اور ساتھ ہی انہوں نے مجھے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تو مَیں نے اسلام قبول کر لیا۔
…٭…٭…٭…