سوال: حضرت خُبیبؓنے اپنی شہادت کے وقت کیا دعا کی تھی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت خُبیبؓنے اپنی شہادت کے وقت دعا کی کہ اے اللہ! یہاں کوئی ایسا نہیں جو اس وقت تیرے رسولؐ تک میرا سلام پہنچا دے اس لیے اے خدا! تُو خود آنحضرت ﷺکو میرا سلام پہنچا دے اور آپؐکو بتا دے جو یہاں ہمارے ساتھ ہو رہا ہے۔
سوال:حضرت خُبیبؓکو کس طرح شہید کیا گیا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت خبیبؓپہلے صحابی تھے جن کو لکڑی پر باندھ کر شہید کیا گیا۔
سوال:آنحضرت ﷺکو حضرت خبیبؓکے متعلق کیا وحی نازل ہوئی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت اسامہ بن زیدؓ سے روایت ہے کہ ایک روز رسول اللہ ﷺاپنے صحابہؓ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺپر وہ کیفیت طاری ہوئی جو وحی نازل ہونے کے وقت طاری ہوا کرتی تھی۔ ہم نے آپؐکو فرماتے ہوئے سنا: وَعَلَیْہِ السَّلَامُ ورَحْمَۃُاللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ۔ یعنی اُس پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔ پھر جب آپ ﷺپر سے وحی کے آثار ختم ہوئے توآپ ﷺنے فرمایا :یہ جبرئیل تھے وہ مجھے خبیب کا سلام پہنچا رہے تھے۔ خبیب کو قریش نے قتل کر دیا۔
سوال:قریش نے حضرت خبیبؓکے قتل کے وقت کتنے آدمیوں کو بلایا تھا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:قریش نے ایسے چالیس آدمیوں کو حضرت خبیبؓکے قتل کے وقت بلایا جن کے باپ دادا جنگِ بدر میں قتل ہوئے تھے۔ پھر قریش کے ان لوگوں میں سے ہر ایک کو ایک ایک نیزہ دے کر کہا کہ یہی وہ شخص ہے جس نے تمہارے باپ داد ا کو قتل کیا تھا۔
سوال:مشرکین نے حضرت خبیبؓکو کس طرح شہید کیا ؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:مشرکین نے پہلے حضرت خبیبؓکو نیزے چبھوئے، شدید اذیّت دی اور پھر قتل کیا۔ جبکہ بخاری کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خبیبؓنے جب اپنے اشعار ختم کیے تو عُقْبہ بن حارث ان کے پاس آیا اور اس نے حضرت خبیبؓکو قتل کر دیا۔
سوال:حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنے حضرت خبیبؓکی شہادت کے متعلق کیا فرمایا؟
جواب:حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓفرماتے ہیں: رؤسائے قریش کی قلبی عداوت کے سامنے رحم وانصاف کا جذبہ خارج از سوال تھا۔ چنانچہ ابھی زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ بنو الحارث کے لوگ اوردوسرے رؤساء قریش خبیب کو قتل کرنے اوراس کے قتل پر جشن منانے کے لئے اسے ایک کھلے میدان میں لے گئے۔ خبیب نے شہادت کی بُو پائی تو قریش سے الحاح کے ساتھ کہا کہ مرنے سے پہلے مجھے دو رکعت نماز پڑھ لینے دو۔ قریش نے جو غالباً اسلامی نماز کے منظر کو بھی اس تماشہ کاحصہ بنانا چاہتے تھے اجازت دے دی اور خبیب نے بڑی توجہ اورحضورِقلب کے ساتھ دو رکعت نماز ادا کی اور پھر نماز سے فارغ ہوکر قریش سے کہاکہ میرا دل چاہتا تھا کہ مَیں اپنی نماز کو اَور لمبا کروں، لیکن پھرمجھے یہ خیال آیا کہ کہیں تم لوگ یہ نہ سمجھو کہ مَیں موت کو پیچھے ڈالنے کے لئے نماز کو لمبا کر رہا ہوں۔
اور پھر خبیب یہ اشعار پڑھتے ہوئے آگے جھک گئے
وَمَا اَنْ اُبَالِیْ حِیْنَ اُقْتَلُ مُسْلِمًا عَلٰی اَیِّ شِقٍّ کَانَ لِلّٰہِ مَصْرَعِیْ
وَذَالِکَ فِیْ ذَاتِ الْاِلٰہِ وَاِنْ یَّشَاء یُبَارِکْ عَلٰی اَوْصَالِ شَلْوٍ مُمَزَّعِ
یعنی جبکہ مَیں اسلام کی راہ میں اورمسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جارہا ہوں تو مجھے یہ پرواہ نہیں ہے کہ مَیں کس پہلو پرقتل ہوکر گروں۔ یہ سب کچھ خدا کے لئے ہے اور اگر میرا خدا چاہے گا تو میرے جسم کے پارہ پارہ ٹکڑوں پر برکات نازل فرمائے گا۔غالباً ابھی خبیب کی زبان پران اشعار کے آخری الفاظ گونج ہی رہے تھے کہ عقبہ بن حارث نے آگے بڑھ کر وار کیا اور یہ عاشقِ رسولؐ خاک پر تھا۔ دوسری روایت میں یہ ہے کہ قریش نے خبیب کوایک درخت کی شاخ سے لٹکا دیا تھا اورپھر نیزوں کی چوکیں دے دے کر قتل کیا۔
سوال:حضرت خبیبؓنےمخالفین کیلئے کیا دعا کی ؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت خبیبؓنے شہادت کے وقت یہ دعا مانگی کہ اَللّٰهُمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا۔ کہ اے اللہ! ان دشمنوں کی گنتی کو شمار کر رکھ۔ یہ جو میرے دشمن ہیں ان کی گنتی کر لے تا کہ ان سے بدلہ لے سکے اور ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ وَاقْتُلْهُمْ بَدَدًا وَلَا تُبْقِ مِنْھُمْ اَحَدًا۔ اور انہیں چُن چُن کر قتل کر اور ان میں سے کسی ایک کو بھی باقی نہ چھوڑ۔
سوال:جب مشرکین نے حضرت خبیب کی زبان سے یہ کلمات سنے تو کیا ہوا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: مشرکین خبیب کی زبان سے یہ کلمات سن کر کانپ اٹھے۔ انہیں یقین تھا کہ خبیب کی یہ بددعا رائیگاں نہیں جائے گی۔ حارث بن بَرصَاء وہاں موجود تھے۔ وہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ خبیب کی بددعا سنتے ہی مجھے یقین ہو گیا کہ اب یہ بددعا ان میں سے کسی کو بھی زندہ نہیں چھوڑے گی۔یہی وجہ ہے کہ یہ بددعا سن کر وہاں موجود کافروں اور مشرکوں میں سے بعض لوگ کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر فرار ہوگئے ،کچھ لوگوں کے پیچھے چھپنے لگے،یعنی بددعا کے اثر سے بچنے کے لیے اپنے رواج کے مطابق ایک دوسرے کے پیچھے چھپنے لگ گئے،کچھ درختوں کی اوٹ میں ہو گئے اور کچھ زمین پر لیٹ گئے۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح ہم اس بددعا سے محفوظ رہیں گے۔ ان کے ہاں روایتی طور پر یہ بات مشہور تھی کہ اگر کسی آدمی کے لیے بددعا کی جائے اور وہ پہلو کے بل لیٹ جائے تو اس بددعا کا اثر ختم ہو جاتا ہے۔
سوال:حضرت معاویہ بن ابوسفیانؓکے والد نے جب حضرت خبیب کی بدعا سنی کو ان پر اس کا کیا اثر ہوا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت معاویہ بن ابوسفیانؓاپنے اور اپنے والد کے اسلام قبول کرنے سے پہلے کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ دوسرے لوگوں کی طرح مَیں بھی اپنے والد کے ساتھ اس جگہ پہنچا تھا۔ مَیں نے دیکھا کہ میرے والد خبیب کی بددعا سے گھبرا گئے۔ انہوں نے مجھے لٹانے کے لیے بہت زور سے زمین کی طرف گھسیٹا۔ مَیں پیٹھ کے بل گرا۔ گرنے کی وجہ سے مجھے اتنی زبردست چوٹ لگی کہ مَیں بڑی مدت تک اس کی تکلیف محسوس کرتا رہا۔
سوال:حُوَیْطِبْ بِن عَبْدُالْعزّیٰ نے جب حضرت خبیبؓکی بدعا سنی تو کیا ہوا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حُوَیْطِبْ بِن عَبْدُالْعزّیٰ فتح مکہ والے سال مسلمان ہوئے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت خبیبؓکی بددعا سنتے ہی مَیں نے فورا ًکانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور بھاگ نکلا۔ مَیں ڈر رہا تھا کہ مبادا ان کی بددعا کی آواز میرے کانوں کے تعاقب میں آ جائے۔ حکیم بن حِزَام بیان کرتے ہیں کہ مَیں حضرت خبیبؓکی بددعا سے ڈر کر درختوں کے پیچھے چھپ گیا۔ جُبَیر بن مُطْعِم کہتے ہیں کہ مَیں اُس دن حضرت خبیبؓکی بددعا کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہ کر سکا۔ مَیں نے خوفزدہ ہو کر لوگوں کی آڑ لے لی۔ نوفل بن مُعَاویہ دِیْلِی فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس دن میں خبیب کی بددعا کے وقت موجود تھا۔ مجھےیہ پورا یقین تھا کہ ان کی بددعا سے وہاں موجود لوگوں میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچے گا۔ مَیں کھڑا ہوا تھا، ان کی بددعا سے گھبرا گیا اور زمین کی طرف جھک گیا۔
ئ٭ئ٭ ئ