اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-07-04

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ24؍مئی 2024بطرز سوال وجواب

سوال: ہم 27 مئی کو یوم خلافت کیوں مناتے ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اللہ کے وعدوں کے مطابق ہی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق ہی آپؑکی بنائی ہوئی جماعت میں خلافت کا نظام جاری ہوا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے وعدے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے پورا ہونے کا اظہار ہے جس کی وجہ سے ہم ہر سال دنیا میں ہر جگہ جہاں جماعت احمدیہ قائم ہے 27؍مئی کو یوم خلافت مناتے ہیں۔
سوال: جماعت احمدیہ کا اللہ تعالیٰ کا احسان ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا یہ ہم پر احسان ہے کہ اس نے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی جن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا وعدہ فرمایا تھا۔ آپؑاللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں دین اسلام کی تجدید کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے اور پھراللہ کے وعدوں کے مطابق ہی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق آپؑکی بنائی ہوئی جماعت میں خلافت کا نظام جاری ہوا۔
سوال: کس طرح قدرت ثانیہ کا آغاز ہوا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:26؍مئی کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وصال ہوا اور 27؍مئی کو جماعت نے خدائی وعدوں کے مطابق حضرت مولانا حکیم نور الدین ؓکو خلیفۃ المسیح الاوّل منتخب کر کے آپؓ کے ہاتھ پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کام کو جاری رکھنے کا عہد کیا اور بیعت کی۔ پھر حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی وفات کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے ہاتھ پر جماعت جمع ہوئی اور باوجود بعض اندرونی مخالفتوں اور ہر قسم کے نامساعد حالات کے اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے نظارے ہم نے دیکھے اور آپؓ کی خلافت تقریباً باون۵۲ سال جاری رہی اور اس دَور میں جماعت احمدیہ کی دن دونی اور رات چوگنی ترقی کے نظارے ہم نے دیکھے۔ پھر حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی وفات کے بعد خلافت ثالثہ کا آغاز ہوا اور اس دَور میں بھی جماعت کی ترقی کے نظارے ہم نے دیکھے۔ دشمنوں نے بڑا زور لگایا جماعت کو ختم کرنے کا لیکن اس کے باوجود ہمیں تاریخ میں ترقی کے نظارے ہی نظر آتے ہیں ۔ پھر جب حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی وفات ہوئی تو ایک بار پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا نظارہ دکھایا اور خلافت رابعہ کا دَور شروع ہوا جس میں دشمن نے جماعت کو ختم کرنے کی پھر بھرپور کوشش کی لیکن ہر طرح ناکامی کا منہ دیکھا اور اس دشمنی کی وجہ سے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒکو پاکستان سے ہجرت کرنی پڑی۔ انگلستان میں مرکز قائم کیا۔ اور پھر دنیا نے دیکھا کہ جماعت کی ترقی کی رفتار بڑھتی چلی گئی اور جماعت کی ترقی کو روکنے والے اس ترقی کو دیکھ کر پیچ و تاب کھانے لگے۔ پھر حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی وفات ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے پھر اپنے وعدے کو پورا کرنے کا جلوہ دکھایا اور خلافت خامسہ کا انتخاب ہوا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے باوجود میری بےشمار کمزوریوں کے غیر معمولی تائید و نصرت سے نوازا اور جماعت کی ترقی کا قدم آگے سے آگے ہی بڑھتا گیا۔
سوال: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کے متعلق کیاپیشگوئی فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیشگوئی فرمائی تھی کہ تم میں نبوت قائم رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا زمانہ ۔فرمایا:پھر اس کو اٹھا لے گا اور خلافت علیٰ منہاج نبوت قائم ہو گی۔اور پھر اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس نعمت کو بھی اٹھا لے گا۔ پھر اس کی تقدیر کے مطابق ایذا رساں بادشاہت قائم ہو گی جس سے لوگ دل گرفتہ ہوں گے اور تنگی محسوس کریں گے۔ پھر جب یہ دَور ختم ہو گا تو اس کی دوسری تقدیر کے مطابق اس سے بھی بڑھ کر جابر بادشاہت قائم ہو گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا رحم جوش میں آئے گا اور اس ظلم و ستم کے دَور کو ختم کر دے گا اور اس کے بعد پھر خلافت علیٰ منہاج نبوت قائم ہو گی اور یہ فرما کر آپؐ خاموش ہو گئے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خلافت کے جاری رہنے کے متعلق کیا فرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:: اللہ تعالیٰ ’’دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے (۱) اوّل خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے(۲) دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آ جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا اور یقین کر لیتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہو جائے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تردّد میں پڑ جاتے ہیں اور ان کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں اور کئی بدقسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار کر لیتے ہیں ۔ تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبردست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے۔ پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہے جیساکہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے وقت میں ہوا جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت ایک بے وقت موت سمجھی گئی اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہوگئے اور صحابہؓ بھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہوگئے۔ تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا اور اسلام کو نابود ہوتے ہوتے تھام لیا اور اُس وعدہ کو پورا کیا جو فرمایا تھا: وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دِیْنَہُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَہُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا (النور:56) یعنی خوف کے بعد پھر ہم ان کے پیر جما دیں گے۔‘‘
سوال:برکینا فاسو میں جب پہلی بار ایم ٹی اے لگا تو لوگوں پر اس کا کیا اثر ہوا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:برکینا فاسوافریقہ کا ایک ملک ہے۔ وہاں کے معلم لکھتے ہیں کہ جب ہماری جماعت میں پہلی بار ایم ٹی اے لگا اور لوگوں نے پہلی بار خلیفہ وقت کو دیکھا تو ان کی آنکھیں نم تھیں اور خوشی ان کے چہروں سے عیاں تھی۔کچھ دن کے بعد وہاں سے ایک وفد آیا اور ایم ٹی اے کا شکریہ ادا کیا اور کہنے لگے کہ ویسے تو ہم خلیفہ وقت سے ملاقات کے لیے نہیں جا سکتے مگر ایم ٹی اے پر خلیفہ وقت کو دیکھ کر ہماری آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل کو تسکین ملتی ہے۔اور اس طرح اب یہ ہمارا روز کا معمول بن گیا ہے کہ ایم ٹی اے کے ذریعہ ہم روز خلیفہ وقت سے ملاقات کرتے ہیں۔ تو اس طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کر رہا ہے۔وہ جو کبھی ملے بھی نہیں ان کے دلوں میں بھی خلافت سے محبت ہے۔
سوال:حضور انور نے ایک عرب جو جرمنی میں رہتے تھے انکی بیعت کے بارے میں کیا ذکر کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: سیکرٹری تبلیغ جرمنی لکھتے ہیں کہ وہ ان کے تبلیغی سٹال پہ آئے ۔ قرآن کریم جرمن ترجمہ لے گئے۔ اپنا نمبر بھی دے گئے تا کہ ان سے رابطہ رکھا جائے۔ گذشتہ سال جلسہ سالانہ جرمنی پہ ان کو آنے کی دعوت دی گئی۔ یہ کچھ سالوں کا واقعہ ہے اس لیے گذشتہ سال سے مراد یہ ہے کہ جب یہ واقعہ بیان ہورہا ہے اس سے ایک سال پہلے۔ بہرحال اپنے امتحان کی وجہ سے جلسہ میں شامل ہونے سے انہوں نے معذرت کی اور اپنی جگہ اپنے بڑے بھائی اورایک اَور فیملی ممبر کو بھجوا دیا۔ وہاں جلسہ پر ان کے بھائی میری تقریر سننے کے بعد کہنے لگے کہ یہ شخص یقیناً خدا تعالیٰ کا تائید یافتہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں ڈالا کہ خلافت سچی ہے۔ موصوف نے اسی رات بیعت فارم پُر کیا اور جماعت احمدیہ میں شامل ہو گئے۔
سوال:برکینا فاسو کے بون صاحب کی قبولیت احمدیت کے بارے میں حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:برکینا فاسوایک جگہ کافی تبلیغ کی گئی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ جاتے ہوئے معلم کہتے ہیں میں نے چند لوگوں کو کہا کہ آپ جب شہر آئیں تو میرے گھر ضرور آنا۔ چنانچہ کچھ دنوں بعد ان میں سے ایک آدمی بون (Bone) صاحب ہمارے گھر آئے تو انہیں ایم ٹی اے لگا دیا۔ تھوڑی دیر بعد جب انہوں نے ایم ٹی اے پر مجھے دیکھا تو کہنے لگے کہ اس شخص کو تو میں پہلے ہی خواب میں دیکھ چکا ہوں ۔ چنانچہ وہ اسی وقت بغیر کسی دلیل کے احمدیت میں داخل ہو گئےاور واپس جا کر اپنے گاؤں والوں کو بتایا تو گاؤں کے کافی اَور لوگوں نے احمدیت قبول کر لی۔ اب خدا کے فضل سے اس گاؤں میں ایک مضبوط جماعت قائم ہو چکی ہے۔ ٭٭٭