اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-06-27

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ17؍مئی 2024 بطرز سوال وجواب

سوال: جس دن حضرت زیدؓاور خبیبؓ شہید ہوئے اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: جس دن حضرت زیدؓ اور خبیبؓ دونوں شہید کیے گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا گیا کہ آپؐفرما رہے تھے: وَعَلَیْکُمَا السَّلَام اور تم دونوں پر بھی سلامتی ہو۔
سوال: سریہ رجیع کے امیر حضرت عاصم بن ثابتؓ نے کیا دعا کی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: سریہ رجیع کے امیر حضرت عاصم بن ثابتؓنے دعا کی کہ اے اللہ! ہمارے متعلق اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلع فرما دے۔
سوال: حارث کی بیٹی نے حضرت خبیبؓ کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حارث کی بیٹی کہا کرتی تھی کہ بخدا ! میں نے کبھی ایسا قیدی نہیں دیکھا جو خُبیب سے بہتر ہو اور پھر کہنے لگی کہ اللہ کی قسم! میں نے ایک دن ان کودیکھا کہ انگور کا خوشہ ان کے ہاتھ میں ہے اور وہ اسے کھا رہے ہیں اور وہ زنجیر میں جکڑے ہوئے تھے اور ان دنوں مکہ میں کوئی پھل بھی نہ تھا۔ کہتی تھیں یہ اللہ کی طرف سے رزق تھا جو اس نے خُبیب کو دیا۔
سوال: سریہ رجیع کے بارے میں حدیث میں کیا بیان ہوا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت ابوہریرہؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس آدمی سریہ کے طور پر حالات معلوم کرنے کے لیے بھیجے اور ان پر حضرت عاصم بن ثابت انصاریؓکو امیر مقرر فرمایا۔وہ سب تیر انداز تھے۔ وہ لوگ مسلمانوں کے نشانوں کے پیچھے گئے یہاں تک کہ انہوں نے ان کی کھجوریں کھانے کی جگہ کو پالیا اور صحابہؓ نے یہ کھجوریں مدینہ سے زادِ راہ کے طور پر لی تھیں۔ بنو لَحْیَان نے پہچان کےکہا یہ یثرب کی کھجوریں ہیں۔ وہ ان کے نشانات کے پیچھے گئے۔ جب حضرت عاصمؓاور ان کے ساتھیوں نے ان کو دیکھا تو انہوں نے ایک ٹیلے پر پناہ لی۔ ان لوگوں نے ان کو گھیر لیا اور انہوں نے ان سے کہا نیچے اتر آؤ یعنی مخالفین نے کہا نیچے اتر آؤ۔ تم اپنے آپ کو ہمارے سپرد کردو۔ تمہارے لیے عہد و پیمان ہے۔ ہم تم میں سے کسی کو قتل نہیں کریں گے۔سریہ کے امیر حضرت عاصم بن ثابتؓنے کہا: جہاں تک میرا تعلق ہے بخدا! میں ایک کافر کی پناہ میں نہیں اتروں گا۔ پھر آپؓنے دعا کی کہ اے اللہ! ہمارے متعلق اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلع فرما دے۔ دشمنوں نے ان پر تیر چلائے اور انہوں نے حضرت عاصمؓکو سات صحابہؓ سمیت قتل کر دیا۔ تین آدمی عہد و پیمان پر ان کے پاس اتر آئے۔ ان میں خُبیب انصاریؓ اور ابنِ دَثِنَہؓاور ایک اَور شخص تھے ان کا نام عبداللہ بن طارق تھا۔ مخالفین نے تینوں کو قابو کر لیا۔ انہوں نے اپنے کمانوں کے تانت کھولے اور ان کو باندھ لیا۔ اس پر تیسرے شخص نے کہا یہ پہلی غداری ہے۔ اللہ کی قسم! میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا۔ یقیناً ان لوگوں میں اسوہ ہے۔ ان کی مراد شہداء سے تھی۔ انہوں نے اس صحابی کو کھینچا اور انہیں اس پر مجبور کیا کہ وہ ان کے ساتھ چلیں۔ انہوں نے انکار کر دیا تو انہوں نے ان کوبھی شہید کر دیا اور وہ حضرت خُبیبؓاور حضرت ابن دَثِنَہؓکو لے گئے یہاں تک کہ ان کو مکہ میں فروخت کر دیا۔ حضرت خُبیبؓکو بنو حارث بن عامر بن نوفل بن عبد ِمَنَاف نے خرید لیا اور حضرت خُبیبؓہی تھے جنہوں نے حارث بن عامر کو بدر کے دن قتل کیا تھا۔ حضرت خُبیبؓان کے پاس قیدی رہے۔
سوال: حضرت عاصمؓ کے تیر دشمن سے لڑتے ہوئے ختم ہو گئے تو آپ نے کیا دعا فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت عاصم ؓنے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اَللّٰهُمَّ حَمَيْتُ دِيْنَكَ أَوَّلَ نَهَارِيْ فَاحْمِ لِيْ لَحْمِیْ آخِرَهٗ کہ اے اللہ! میں نے دن کے شروع سے تیرے دین کی حفاظت کی ہے۔ اب دن کے آخر میں میرے جسم کی حفاظت تُو فرمانا۔
سوال: حضرت عاصم بن ثابتؓکی نعش کی خدائی حفاظت کس طرح ہوئی؟
جواب: حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓفرماتے ہیں:واقعہ رجیع کے ضمن میں یہ روایت بھی آتی ہے کہ جب قریش مکہ کو یہ اطلاع ملی کہ جولوگ بنولَحْیَان کے ہاتھ سے رجیع میں شہید ہوئے تھے ان میں عاصم بن ثابتؓبھی تھے۔ تو چونکہ عاصم نے بدر کے موقعہ پرقریش کے ایک بڑے رئیس کوقتل کیا تھا، اس لئے انہوں نے رجیع کی طرف خاص آدمی روانہ کئے اور ان آدمیوں کو تاکید کی کہ عاصم کا سر یا جسم کاکوئی عضو کاٹ کر اپنے ساتھ لائیں تاکہ انہیں تسلی ہو اور ان کا جذبہ انتقام تسکین پائے۔ ایک اَور روایت میں آتا ہے کہ جس شخص کوعاصم نے قتل کیا تھا اس کی ماںنے یہ نذر مانی تھی کہ وہ اپنے بیٹے کے قاتل کی کھوپڑی میں شراب ڈال کر پئے گی ۔لیکن خدائی تصرف ایسا ہوا کہ یہ لوگ وہاں پہنچے توکیا دیکھتے ہیں کہ زنبوروں اورشہد کی نرمکھیوں کے جھنڈ کے جھنڈ عاصم کی لاش پر ڈیرہ ڈالے بیٹھے ہیں اورکسی طرح وہاں سے اٹھنے میں نہیں آتے۔ ان لوگوں نے بڑی کوشش کی کہ یہ زنبور اورمکھیاں وہاں سے اڑ جائیں مگر کوئی کوشش کامیاب نہ ہوئی۔ آخرمجبور ہوکر یہ لوگ خائب وخاسر واپس لوٹ گئے۔ اس کے بعد جلد ہی بارش کاایک طوفان آیا اور عاصم کی لاش کووہاں سے بہا کر کہیں کا کہیں لے گیا۔ لکھا ہے کہ عاصم نے مسلمان ہونے پر یہ عہد کیا تھا کہ آئندہ وہ ہرقسم کی مشرکانہ چیز سے قطعی پرہیز کریں گے حتّٰی کہ مشرک کے ساتھ چھوئیں گے بھی نہیں۔ حضرت عمرؓ کو جب ان کی شہادت اور اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو حضرت عمر ؓکہنے لگےکہ خدا بھی اپنے بندوں کے جذبات کی کتنی پاسداری فرماتا ہے۔ موت کے بعد بھی اس نے عاصم کے عہد کو پورا کروایا اور مشرکین کے مس سے انہیں محفوظ رکھا۔
سوال: حضرت عاصمؓ کو حَمِیُّ الدَّبْر کیوں کہا جاتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت عاصم ؓکو حَمِیُّ الدَّبْرِ بھی کہا جاتا ہے یعنی وہ جسے بھڑوں یا شہد کی مکھیوں کے ذریعہ بچایا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے موت کے بعد بھڑوں کے ذریعہ ان کی حفاظت کی۔
سوال: حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓزید بن دشنہ کی شہادت کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب: حضرت مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں: صفوان بن امیہ اپنے قیدی زید بن دثنہ کو ساتھ لے کر حرم سے باہر گیا۔ رؤساء قریش کا ایک مجمع ساتھ تھا۔ باہر پہنچ کرصفوان نے اپنے غلام نسطاس کو حکم دیا کہ زید کو قتل کردو۔ نسطاس نے آگے بڑھ کر تلوار اٹھائی۔ اس وقت ابوسفیان بن حرب رئیس مکہ نے جو تماشائیوں میں موجود تھا آگے بڑھ کر زید سے کہا۔ سچ کہو کیا تمہارا دل یہ نہیں چاہتا کہ اس وقت تمہاری جگہ ہمارے ہاتھوں میں محمدؐ ہوتا جسے ہم قتل کرتے اورتم بچ جاتے اوراپنے اہل وعیال میں خوشی کے دن گزارتے؟زیدؓ کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور وہ غصہ میں بولے۔ ابوسفیان! تم یہ کیا کہتے ہو؟ خدا کی قسم! میں تو یہ بھی نہیں پسند کرتا کہ میرے بچنے کے عوض رسول اللہؐ کے پاؤں میں ایک کانٹا تک چبھے۔ابوسفیان بے اختیار ہوکر بولا۔واللہ! میں نے کسی شخص کو کسی شخص کے ساتھ ایسی محبت کرتے نہیں دیکھا جیسی کہ اصحاب محمدؐ کو محمدؐ سے ہے۔اس کے بعد نِسطاس نے زید کو شہید کردیا۔
سوال: حضور انور نے حضرت مُعَتِّبْ بنِ عُبَیدؓاور دوسرے مظلوموں کی شہادت کیا کیا ذکر فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت مُعَتِّّب بن عُبَیدؓ لڑتے لڑتے شدید زخمی ہو گئے۔ دشمنوں نے ان تک رسائی حاصل کر کے انہیں شہید کر دیا۔ ان کے علاوہ پانچ اَور صحابہ ؓبھی اسی طرح مردانہ وار لڑتے لڑتے دشمن کے تیروں کی زد میں آ کر شہید ہو گئے۔ اس طرح کل سات صحابہ ؓشہید ہو گئے۔ اب صرف تین صحابہؓ رہ گئے تھے حضرت خُبیب بن عَدِیؓ، حضرت زَید بن دَثِنَہؓاور حضرت عبداللہ بن طارق ؓ۔ …٭…٭…٭…