سوال:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو انسانی جان کی قدر کا کیا حال تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آپؐکی انسانی جان کی قدر کا تو یہ حال ہے کہ دشمن قبیلے کے لوگوں کی جان بچانے کے لیے یہ ایک ترکیب نکالی کہ ایک جان کو قتل کرنا بہتر ہے تا کہ ان کے باقی لوگ بچ جائیں۔ یہ انسانی ہمدردی کی معراج ہے۔
سوال: سریہ کسے کہتے ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: سریہ اس کو کہتے ہیں جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود شریک نہیں ہوتے تھے لیکن آپؐدوسروں کو مہم کے لیے بھیجا کرتے تھے۔
سوال: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ سفیان بن خالد نے مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے لشکر جمع کیا ہے توآپ نے کیا کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: آپؐنے ایک منفرد حکیمانہ عسکری فیصلہ فرمایا کہ بجائے اس کے کہ ایک فوج تیار کر کے سفیان کے مقابلے کے لیے بھیجی جائے اور دونوں طرف خون بہے زیادہ مناسب معلوم ہو گا کہ حکمتِ عملی سے اس باغیانہ لشکر تیار کرنے والے بانی مبانی کو ہی ختم کر دیا جائے۔
سوال: حضرت عبداللہ بن اُنَیْس نے سفیان بن خالد کو کس طرح پہچانا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت عبداللہ بن اُنَیْس بیان کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے سفیان بن خالد کے متعلق مجھے جو کچھ بتایا تھا اس کی وجہ سے مَیں اسے فوراً پہچان گیا کیونکہ اسے دیکھتے ہی مجھ پر ہیبت طاری ہو گئی جبکہ مَیں کبھی کسی سے نہیں ڈرتا تھا۔ چنانچہ مَیں نے دل میں کہا اللہ اور اس کے رسولؐ نے سچ کہا تھا۔
سوال: حضور انور نے ابوسلمہؓکے متعلق کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ابو سلمہؓ کا نام عبداللہ تھا اور کنیت ابوسلمہ تھی۔ ان کی والدہ برّہ بنت عبدالمطلب تھیں اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی تھے اور حضرت حمزہؓ کے رضاعی بھائی بھی تھے۔ انہوں نے ابولہب کی لونڈی ثُوَیْبَہ کا دودھ پیا تھا۔ حضرت ام المومنین ام سلمہؓ پہلے انہی کے نکاح میں تھیں۔
سوال: بنو اسد کے رئیس طلیحہ بن خویلد کے بارے میں حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: یہ انتہائی بہادر انسان تھا اور مشہور تھا ملک عرب میں اسے ایک ہزار شہسوار کے برابر سمجھا جاتا ہے اور یہ بہت فصیح اللسان تھا۔ نو ہجری میں بنواسد کے وفد کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس نے اسلام قبول کیا تھا لیکن پھر مرتد ہو گیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی نبوت کا جھوٹا مدعی بن کر فتنہ و فساد کا موجب بنا تھا اور آخر کار شکست کھا کر عرب سے بھاگ گیا تھا۔ پھر کچھ عرصہ بعد مدینہ آ کر حضرت عمرؓ کے ہاتھ پر بیعت کی اور آخر دم تک اسلام پر ثابت قدمی دکھائی۔ جنگِ قادسیہ اور دوسری کئی اسلامی جنگوں میں حصہ لے کر اپنی بہادری کے جوہر دکھائے اور اکیس ہجری میں ایک جنگ میں شہادت کا مقام پایا۔
سوال: سریہ حضرت عبداللہ بن انیسؓکے بارے میں حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت عبداللہ بن اُنیس جُہَنِیؓانصار میں سے بنو سلمہ کے حلیف تھے۔ یہ بیعت عَقَبَہ ثانیہ، بدر، اُحد اور دیگر غزوات میں شامل ہوئے۔ ان افراد میں شامل تھے جنہوں نے بنو سلمہؓ کے بُت توڑے تھے۔
سوال: حضرت عبداللہ بن اُنیسؓنے کب وفات پائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت عبداللہ بن اُنیسؓنے شام میں 54 ہجری یا بعض روایات کے مطابق 74 ہجری میں وفات پائی۔
سوال: آنحضرتﷺ نے حضرت عبداللہ بن انیسؓکو سفیان بن خالد کے متعلق کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن انیسؓکو بلا کر سفیان بن خالد کے سارے منصوبے کی تفصیل بتائی اور فرمایا کہ خاموشی سے جاؤ اور اس کو قتل کر دو۔
سوال: حضرت ابو سلمہؓ جب دیکھاکہ دشمن بھاگ گیا ہے تو انہوں نے کیا کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت ابوسلمہؓ جب بنو اسد کے پڑاؤ کے مقام پر پہنچے اور انہوں نے دیکھا کہ دشمن بھاگ گیا ہے تو انہوں نے ان کی تلاش میں اپنے ساتھیوں کو بھیجا۔ حضرت ابوسلمہؓ نے انہیں تین حصوں میں تقسیم کیا۔ ایک حصہ ان کے ساتھ ٹھہرا۔ باقی دونوں کو دو مختلف اطراف میں بھیجا اور ساتھ یہ بھی ہدایت دی کہ دشمن کا پیچھا کرتے ہوئے زیادہ دُور تک نہ جائیں اور اگر دشمن سے تصادم نہیں ہوتا تو واپس آ کر رات انہی کے پاس قیام کریں اور یہ بھی تاکید کی کہ منتشر نہ ہوں، اکٹھے ہی رہیں لیکن دشمن سراسیمہ ہو کر اتنی تیزی سے بھاگا تھا کہ مسلمانوں کا کسی سے بھی سامنا نہ ہوا۔ حضرت ابوسلمہؓ نے تمام مالِ غنیمت کے ساتھ مدینہ کی طرف واپسی کا سفر شروع کیا۔ جو شخص بطور راہنما ساتھ گیا تھا وہ ساتھ ہی واپس لوٹا۔ ایک رات کا سفر طے کرنے کے بعد حضرت ابوسلمہؓ نے مالِ غنیمت تقسیم کیا۔ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خمس علیحدہ کیا۔ رہبر شخص کو اس کی خوشی کے مطابق مال دیا اور بقیہ مالِ غنیمت صحابہ کرامؓمیں تقسیم کر دیا۔ ہر صحابی کو سات سات اونٹ اور کئی کئی بکریاں ملیں اور یوں باقی سفر طے کرتے ہوئے یہ لوگ خوشی کے ساتھ قریباً دس دن کے بعد واپس مدینہ پہنچ گئے۔
سوال: حضور انور نے سریہ رجیع کے بارے میں کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اس سریہ کو اس کے امیر مَرثَد بن ابی مَرثدکی وجہ سے سریہ مَرثد بن ابی مرثدبھی کہا جاتا ہے لیکن زیادہ معروف رجیع کا نام ہی ہے۔رجیع بنو ھُذَیل کا ایک چشمہ تھا جو حجاز میں واقع ہے۔ اس کا موجودہ نام وَطِیَّہ ہے جو مکہ مکرمہ سے ستر کلو میٹر کی مسافت پر شمال میں واقع ہے۔یہ سریہ صفر چار ہجری کے شروع میں رجیع کی جانب پیش آیا۔ابنِ اسحاق ؒاور ابنِ ہشامؒ کے مطابق یہ سریہ جنگِ اُحد کے بعد تیسرے سال میں ہوا۔ بخاری کی شرح فتح الباری اور مَوَاہِب میں لکھا ہے کہ تیسرے سال کے آخر میں یہ ہوا۔
…٭…٭…٭…