سوال: غزوات نبویﷺ کے بارے میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ہرچند کہ غزواتِ نبویؐ پر نظر ڈالنے سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی احسن اوربےمثل استعدادوں پر بھی حیران کن روشنی پڑتی ہے جو بحیثیت ایک سالار جیش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں بدرجہ اتم موجود تھیں لیکن آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اوّل و آخر حیثیت ایک جنگی ماہر کی نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور روحانی سردار کی تھی جس کے ہاتھوں میں مکارمِ اخلاق کا جھنڈا تھمایا گیا تھا۔
سوال: رئیسِ خزاعہ نے جب حمراء الاسد میں لشکر اسلام کو دیکھا تو قریش مکہ کو کیا فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:رئیسِ خزاعہ نے جب حمراء الاسد میں لشکر اسلام کو دیکھا تو قریش مکہ کو فرمایا: تُم کیا کرنے لگے ہو۔ واللہ! مَیں تو ابھی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لشکر کوحمراءالاسد میں چھوڑ کر آیا ہوں اور ایسا بارعب لشکر مَیں نے کبھی نہیں دیکھا اوراُحد کی ہزیمت کی ندامت میں ان کو اتنا جوش ہے کہ تمہیں دیکھتے ہی بھسم کر جائیں گے۔
سوال: کیا احد کے دن مسلمانوں کو شکست ہوئی تھی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اُحد کے دن بھی مسلمانوں کو شکست قطعاً نہیں ہوئی تھی۔ ہاں پہلے مرحلے میں ایک واضح فتح کے بعد دوسرے مرحلے میں مسلمانوں کو سخت جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا لیکن انجام کار مسلمان میدانِ اُحد میں ہی قائم و موجود رہے اور کفار مکہ کو مکمل فتح اور جیت حاصل کرنے سے تائید غیبی نے اپنی زبردست طاقت سے روکے رکھا اور باوجود ایک وقتی غلبہ کے وہ مسلمانوں کو مزید نقصان
پہنچانے سے محروم رہے اور اس وقت کے جنگی رواج کے مطابق بے نیل و مرام میدانِ اُحد سے واپس چلے گئے۔امرِ واقعہ یہ ہے کہ اس وقت کے جنگی اصول اور رواج کو دیکھا جائے تو اس کے مطابق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مسلمانوں کو میدانِ اُحد میں شکست ہوئی تھی کیونکہ شکست کیسی! یا کفار کو فتح کیسی! مسلمان تو میدان میںہی اس وقت بھی موجود تھے کہ جب آخر کار ابوسفیان محض نعرے لگا کر اپنے لشکر کو لے کر میدانِ اُحد چھوڑ کر مکہ کی طرف روانہ ہو چکا تھا۔
سوال: حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنے غزوہ احد سے مدینہ واپسی میں مدینہ اور حمراء الاسد کے کیا حالات بیان فرمائے؟
جواب:حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓفرماتے ہیں: یہ رات مدینہ میں ایک سخت خوف کی رات تھی کیونکہ باوجود اسکے کہ بظاہر لشکرِ قریش نے مکہ کی راہ لے لی تھی یہ اندیشہ تھا کہ انکا یہ فعل مسلمانوں کو غافل کرنے کی نیت سے نہ ہو اور ایسا نہ ہو کہ وہ اچانک لَوٹ کر مدینہ پر حملہ آور ہو جائیں لہٰذا اس رات کومدینہ میں پہرہ کاانتظام کیا گیا ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع پہنچی کہ قریش کالشکر مدینہ سے چند میل جاکر ٹھہر گیا ہے اوررؤسائے قریش میں یہ سرگرم بحث جاری ہے کہ اس فتح سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کیوں نہ مدینہ پرحملہ کردیا جاوے اور مدینہ پر حملہ کر کے مسلمانوں کی جڑ کاٹ دو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب ان واقعات کی اطلاع ہوئی تو آپؐنے مسلمانوں کوکہا کہ سوائے ان لوگوں کے جو اُحد میں شریک ہوئے تھے اَورکوئی شخص ہمارے ساتھ نہ نکلے۔ چنانچہ اُحد کے مجاہدین جن میں سے اکثر زخمی تھے اپنے زخموں کو باندھ کر اپنے آقا کے ساتھ ہو لئے۔ اس موقعہ پر مسلمان ایسی خوشی اورجوش کے ساتھ نکلے کہ جیسے کوئی فاتح لشکر فتح کے بعد دشمن کے تعاقب میں نکلتا ہے۔ آٹھ میل کا فاصلہ طے کرکے آپؐحمراء الاسد میں پہنچے جہاں دو مسلمانوں کی نعشیں میدان میں پڑی ہوئی پائی گئیں اورتحقیقات پرمعلوم ہوا کہ یہ وہ جاسوس تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے پیچھے روانہ کئے تھے مگر جنہیں قریش نے موقعہ پاکر قتل کردیا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان شہداء کوایک قبر کھدوا کر اس میں اکٹھا دفن کروا دیا۔ شام ہوچکی تھی آپؐنے یہیں ڈیرا ڈالنے کاحکم دیا اور فرمایا کہ میدان میں مختلف مقامات پر آگ روشن کر دی جاوے۔ دیکھتے ہی دیکھتے حمراءالاسد کے میدان میں پانچ سو آگیں شعلہ زن ہو گئیں جو ہر دُور سے دیکھنے والے کے دل کو مرعوب کرتی تھیں۔ غالباً اسی موقعہ پر قبیلہ خزاعہ کا ایک مشرک رئیس معبد نامی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپؐسے اُحد کے مقتولین کے متعلق اظہار ہمدردی کی اور پھر اپنے راستہ پرروانہ ہو گیا۔ دوسرے دن جب وہ مقام روحاء میں پہنچا توکیا دیکھتا ہے کہ قریش کالشکر وہاں ڈیرا ڈالے پڑا ہے۔ اور مدینہ کی طرف واپس چلنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ معبد فوراً ابوسفیان کے پاس گیا اور اسے جا کر کہنے لگا کہ تُم کیا کرنے لگے ہو؟ واللہ! مَیں تو ابھی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کے لشکر کوحمراءالاسد میں چھوڑ کر آیا ہوں اور ایسا بارعب لشکر مَیں نے کبھی نہیں دیکھا اوراُحد کی ہزیمت کی ندامت میں ان کو اتنا جوش ہے کہ تمہیں دیکھتے ہی بھسم کر جائیں گے۔ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں پر معبد کی ان باتوں سے ایسارعب پڑا کہ وہ مدینہ کی طرف لوٹنے کا ارادہ ترک کرکے فوراً مکہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو لشکر قریش کے اس طرح بھاگ نکلنے کی اطلاع موصول ہوئی تو آپؐنے خدا کاشکر کیا اورفرمایا کہ یہ خدا کارعب ہے جو اس نے کفار کے دلوں پر مسلط کردیا ہے۔
سوال: جنگ احد کی ہزیمت کے بارے میں حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اُحد کی ہزیمت اگرایک لحاظ سے موجب تکلیف تھی تودوسری جہت سے وہ مسلمانوں کے لئے ایک مفید سبق بھی بن گئی اور تکلیف ہونے کے لحاظ سے بھی وہ ایک محض عارضی روک تھی جو مسلمانوں کے راستے میں پیش آئی اور اس کے بعد مسلمان اس سیلابِ عظیم کی طرح جو کسی جگہ رک کر اور ٹھوکر کھا کر زیادہ تیز ہوجاتا ہے نہایت سرعت کے ساتھ اپنی منزل مقصود کی طرف بڑھتے چلے گئے۔
سوال: حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒنے جنگِ اُحد کے بعد کے واقعات کا کیا تجزیہ بیان کیا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے اپنی ایک تقریرمیں جنگِ اُحد کے بعد کے واقعات کا جو تجزیہ کیا ہے اس کے کچھ نکات یہ ہیں: نمبر ایک یہ کہ مسلمانوں سے احساس شکست کو کلیۃ مٹانے کے لیے اس سے بہتر اَور کوئی اقدام ممکن نہ تھا کہ انہیں بلا توقف از سرِ نو مقابلے کے لیے میدانِ قتل میں لے جایا جاتا۔
نمبر دو :یہ کہ تازہ دم نوجوانوں اور نئے مجاہدین کو ساتھ چلنے کی اجازت نہ دے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قطعی طور پر یہ ثابت کر دیا کہ آپؐظاہری اسباب پر بھروسہ نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے اس دعوے اور یقین میںسچے تھے کہ آپؐکا اصل توکّل اپنے رب پر ہی ہے اور وہ یقیناً آپؐکی نصرت پر قادر ہے۔
نمبر تین :اس فیصلے کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ان صحابہؓ کی دلداری فرمائی جن کے پاؤں میدانِ اُحد میں اکھڑ گئے تھے اور ان پر اس مکمل اعتماد کا اظہار فرمایا کہ وہ درحقیقت پیٹھ دکھانے والے نہیں تھے بلکہ اچانک ناگزیر حالات سے مجبور ہو گئے تھے۔
نمبر چار :یہ امر کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ سوفیصد اعتماد درست تھا اور کوئی جذباتی فیصلہ نہ تھا اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ بلا استثنیٰ اُحد کے وہ سب مجاہدین پورے عزم اور جوش کے ساتھ اس انتہائی خطرناک مہم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہوئے جن میں چلنے پھرنے کی سکت موجود نہ تھی اور کسی ایک نے بھی یہ کہہ کر منہ نہ موڑا کہ یہ مہم خود کشی کے مترادف ہے اور یہ اعتراض نہ کیا کہ ایک دفعہ بمشکل جان بچانے کے بعد پھر اس قوی اور جابر دشمن کے چنگل میں ازخود پھنس جانا کہاں کی دانائی ہے؟
نمبر پانچ :یہ کہ بعد کے واقعات سے ثابت ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ سلم کا یہ اقدام محض نفسیاتی اور اخلاقی فوائد کا حامل نہیں تھا بلکہ فوجی نکتہ نگاہ سے بھی انتہائی کارآمد ثابت ہوا اور اس سے دشمن ایک اَور شدید تر حملے سے باز آ گیا بلکہ اس حال میں واپس لوٹا کہ فتح کی ترنگ کے بجائے بُری طرح مرعوب ہو چکا تھا۔
…٭…٭…٭…