اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-06-13

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ26؍اپریل 2024بطرز سوال وجواب

سوال:احد کی جنگ کے بعد جب دشمن کی مدینہ پر حملہ کی سازش کا رسول کریم ﷺ کو علم ہوا تو آپ نے کیا کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: جب دشمن کے اُحد کی جنگ کے بعد راستہ سے پلٹ کر مدینہ پر حملہ کرنے کی سازش کا علم ہوا تو اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کو بلایا اور ان کو اس مُزَنِی صحابی کی بات بتائی جنہوں نے یہ اطلاع دی تھی۔ تو ان دونوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! دشمن کی طرف چلیں تاکہ وہ ہمارے بچوں پر حملہ آور نہ ہوں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بلوایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلالؓ سے فرمایا کہ وہ اعلان کریں کہ رسول اللہ تمہیں حکم دے رہے ہیں کہ دشمن کے لیے نکلو اور ہمارے ساتھ وہی نکلے جو گذشتہ روز لڑائی میں شامل تھا یعنی اُحد کی لڑائی میں جو لوگ شامل تھے صرف وہی ساتھ جائیں گے۔
سوال: اسلامی پرچم اور مدینہ کی قائممقامی کے بارے میںحضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اسلامی پرچم اور پھر مدینہ کی قائمقامی کے بارے میںلکھا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا جھنڈا منگوایا جو کہ گذشتہ روز سے ہی بندھا ہوا تھا، اس کو ابھی تک کھولا نہیں گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جھنڈا حضرت علیؓ کو دے دیا اور ایک جگہ یہ بھی بیان ہوا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کو دیا تھا۔ اس موقع پرحضرت ابن ام مکتومؓ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں اپنا نائب مقرر کیا تھا۔
سوال: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن کے تعاقب میں نکلنے کا فیصلہ کیسا تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:سیرت نگار لکھتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن کے تعاقب میں نکلنے کا فیصلہ انتہائی دانشمندانہ تھا۔ منافقین کے نزدیک جنگِ اُحد میں ستّر افراد کے جانی نقصان کے بعد اگلے ہی روز دشمن کے تعاقب میں بِنا زائد افرادی قوت کے جانا انتہائی خطرناک تھا مگر بعد کے حالات نے ثابت کر دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ انتہائی دانشمندانہ تھا جس سے مسلمانوں کو بےشمار فوائد حاصل ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری رات جنگ سے پیدا شدہ صورتحال پر غور کرتے گزاری۔ آپؐکو اندیشہ تھا کہ اگر اُحد سے واپس مکہ جانے والے مشرکین نے سوچا کہ میدانِ جنگ میں اپنا پلہ بھاری ہوتے ہوئے بھی ہم نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا تو یقیناً انہیں ندامت محسوس ہو گی اور وہ راستے سے پلٹ کر مدینہ پر دوبارہ حملہ کریں گے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہترین جنگی حکمتِ عملی اپناتے ہوئے دشمن کے تعاقب کا فیصلہ فرمایا۔ اس فیصلے نے مجاہدین کے حوصلوں کو مزید بلندیوں تک پہنچا دیا اور منافقین کے دل پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قوتِ ارادی اور قوتِ یقین کی ہیبت طاری کر دی۔ تیسری طرف جب دشمن کو خبر ملی کہ اسلامی لشکر ان کے تعاقب میں ہے تو ان کے حوصلوں کے ٹمٹماتے چراغ بجھنے لگے۔
سوال: رسول کریم ﷺ نے رئیس المنافقین عبداللہ بن اُبَیّ کو ساتھ لیجانے سے کیوں منع فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:رئیس المنافقین عبداللہ بن اُبَیّ غزوۂ اُحد میں نہ صرف یہ خود واپس گیا تھابلکہ اپنے ہمراہ تین سو ساتھی بھی لے کر پلٹ گیا تھا۔ ایسی حرکت پر یقیناً وہ شرمندہ بھی ہو گا اور شاید اس ندامت کا داغ مٹانے کے لیے، یا خدا معلوم کسی اَور سازش کے تحت کیونکہ منافقین کا تو پتہ کچھ نہیں ہوتا، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جانے کی اجازت طلب کی تو آپؐنے اسے ساتھ جانے سے منع فرما دیا۔
سوال:صحابہ کرام میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی کس طرح اطاعت کرتے تھے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اُحد کے زخمی صحابہؓ میں سے بعضوں کو جنگ میں کاری زخم لگے تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی بجا آوری کا کیا نمونہ دکھایا اس بارے میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اعلان تھا کہ سنتے ہی عشق و وفا کے یہ مخلص جاںنثار اپنے زخموں کو سنبھالتے ہوئے، اپنے اسلحوں کو لیے ہوئے ایک بار پھر نکل پڑے۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان فرمایا تو فوری طور پر وہ نکل پڑے۔ حضرت اُسَید بن حُضَیرؓ کو نو زخم لگے ہوئے تھے انہوں نے ابھی دوا لگانے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ ان کے کانوں میں یہ آواز پڑی تو اپنے زخموں پر دوائی لگانے کے لیے بھی نہیں رکے اور چل پڑے۔ بنو سلمہ سے چالیس زخمی نکلے۔
سوال: حضرت جابر بن عبداللہ ؓکو ساتھ جانے کی اجازت کے بارے میں کیا ذکر ملتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت جابر بن عبداللہؓ کو ساتھ جانے کی اجازت کے بارے میںذکر ملتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ اس مہم میں صرف وہی ساتھ جائیں گے جو جنگِ اُحد میں شامل ہوئے تھے اور اسی پر سختی سے عمل بھی ہوا۔ لیکن ایک خوش بخت مخلص صحابی ایسے تھے کہ جو جنگِ اُحد میں شامل نہیں ہوئے لیکن اب ان کو ساتھ جانے کی اجازت مرحمت ہوئی تھی اور وہ حضرت جابر بن عبداللہؓ تھے۔ جابر بن عبداللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپؐکے منادی نے یہ اعلان کیا ہے کہ ہمارے ساتھ وہی نکلے جو گذشتہ روز لڑائی یعنی جنگِ اُحد میں موجود تھا اور مَیں لڑائی میں حاضر ہونے کا خواہش مند تھا لیکن میرے والد نے مجھے میری سات بہنوں کے لیے پیچھے چھوڑ دیا اور ایک قول کے مطابق ان کی بہنوں کی تعداد نو تھی۔ میرے والد نے کہا کہ اے میرے بیٹے! میرے اور تیرے لیے مناسب نہیں ہے کہ ہم ان عورتوں کو بغیر کسی مرد کے چھوڑ دیں۔ مجھے ان کا ڈر ہے یہ کمزور عورتیں ہیں۔ اور مَیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں تجھے خود پر ترجیح نہیں دے سکتا۔ یہ بھی ہے کہ ہم عورتوں کو بھی پیچھے اکیلا نہیں چھوڑ سکتے اور جہاد میں مَیں خود بھی جانا چاہتا ہوں اور میری خواہش یہی ہے کہ مَیں جاؤں اور تم نہ جاؤ تو تُو اپنی بہنوں کے پاس پیچھے رہ جا اور مَیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد پہ جاتا ہوں۔کہتے ہیں کہ اس لیے مَیں اپنے باپ کے اس حکم کی تعمیل میں کل جہاد میں شامل نہیں ہو سکا وگرنہ میرا بھی پورا ارادہ تھا۔ چنانچہ حضرت جابرؓ کی عشق و محبت میں ڈوبی ہوئی یہ بات سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ساتھ جانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔
سوال: مسلمانوں کی زاد راہ اور حضرت سعد بن عبادہ ؓ کی سخاوت کے بارے میں حضور انور نے یا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ حمراء الاسد میں ہمارا عام زاد راہ کھجوریں تھیں، کھجوریں ہی کھایا کرتے تھے۔ حضرت سعد بن عبادہؓتیس اونٹ کھجوریں لائے جو حمراء الاسد مقام تک ہمارے لیے وافر رہیں۔ راوی نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ اونٹ لے کر آئے تھے جو کسی دن دو یا کسی دن تین کر کے ذبح کیے جاتے تھے ۔
سوال: ابوسفیان نے کس کی بات سن کر مدینہ میں پیش قدمی کاارادہ ترک کر دیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: معبد خُزَاعی کی بات سن کر ابوسفیان نے مدینہ کی طرف پیش قدمی کرنے کا ارادہ ترک کردیا اور مکہ کی طرف روانہ ہو گیا۔
سوال: حضرت طلحہ ؓرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخموں کے متعلق کیا بیان فرماتے ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت طلحہؓ بیان کرتے ہیں کہ مَیں اپنے زخموں کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زخموں کے متعلق زیادہ فکرمند تھا۔
سوال: حَمراءُ الاسد تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے کی راہنمائی کرنے والے کون تھے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:ثابت بن ثَعْلَبَہ خَزْرَجِی حَمراءُ الاسد تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے کی راہنمائی کرنے والے تھے۔ ایک روایت کے مطابق ثابت بن ضَحَّاک راہنمائی کرنے والے تھے۔
…٭…٭…٭…