اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-06-06

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ19اپریل 2024 بطرز سوال وجواب

سوال: حضرت عبداللہ بن عمروؓکا قرض کس طرح ادا ہوا ؟
جواب:حضور انور نے فرمایا : حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمروؓ جب فوت ہوئے تو ان پر قرض تھا۔ مَیں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد طلب کی کہ آپؐان کے قرض خواہوں کو سمجھائیں کہ وہ ان کے قرض میں سے کچھ کمی کر دیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس خواہش کا اظہار کیا مگر قرض دینے والوں نے کمی نہیں کی۔ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ جاؤ اور اپنی کھجوروں کی ہر ایک قسم کو الگ الگ ڈھیر لگاتے جاؤ۔ کہتے ہیں عجوہ کھجور کی قسم کو علیحدہ رکھنا اور عِذْق بن زید کھجور کی قسم کو علیحدہ۔ پھر مجھے پیغام بھیجنا۔ چنانچہ مَیں نے ایسا ہی کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہلا بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپؐکھجوروں کے ڈھیر پر یا ان کے درمیان بیٹھ گئے۔ پھر آپؐنے فرمایا ان لوگوں کو ماپ کر دو۔ چنانچہ مَیں نے ان کو ماپ کر دیا یہاں تک کہ جو اُن کا حق تھا مَیں نے ان کو پورا دے دیا پھر بھی میری کھجوریں بچ گئیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان میں کچھ کمی نہیں ہوئی۔
سوال: آنحضرت ﷺ نے احد کے شہیدوں کیلئے کیا دعا فرمائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:آنحضرت ﷺنےاُحد کے شہیدوں کے لیے دعاکی کہ اے خدا! اُحد کے شہیدوں کے پسماندگان کے لیے اچھے خبر گیر پیدا فرما۔
سوال: جنگ احد میں رسول کریمﷺ کو کیا نقصان پہنچا؟
جواب: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اُحد کی جنگ ایک نہایت صبر آزما جنگ تھی اس سے پہلے کبھی آپؐپر قاتلانہ حملہ نہ ہوا تھا اور نہ صرف یہ کہ جنگِ اُحد میں آپؐپر حملہ ہی ہوا اور نہ صرف یہ کہ آپؐکے بعض دانت بھی ٹوٹ گئے اور نہ صرف یہ کہ آپؐزخمی ہوگئے بلکہ دشمن آپؐکی بے ہوشی کی حالت میں آپؐکے اوپر سے اور آپؐکے ساتھیوں کے اوپر سے ان کے جسموں کو روندتا ہوا گزرا اور یہ آپؐکی زندگی میں اپنی قسم کی پہلی مثال تھی مگر اس جنگ میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے کس طرح بلندحوصلگی اوراپنے اعلیٰ اخلاق کا نمونہ پیش کیا اور لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور دل جوئی کی۔ اس جنگ کے حالات سے پتہ چلتا ہے کہ آپؐاخلاق کے کتنے بلند ترین مقام پر کھڑے تھے اور اس جنگ میں صحابہؓ کی عدیم المثال قربانیوں کا بھی پتہ چلتا ہے۔مَیں اس وقت کی بات کر رہا ہوں جب آپؐجنگ ختم ہونے پر مدینہ واپس تشریف لارہے تھے۔ مدینہ کی عورتیں جو آپؐکی شہادت کی خبر سن کر سخت بے قرار تھیں اب وہ آپؐکی آمد کی خبر سن کر آپؐکے استقبال کے لئے مدینہ سے باہر کچھ فاصلہ پر پہنچ گئی تھیں ان میں آپؐکی ایک سالی زینب بنت جحش بھی تھیں ان کے تین نہایت قریبی رشتہ دار جنگ میں شہید ہوگئے تھے۔
سوال: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حمنہ بنت جحشؓ کو انکے ماموں اور بھائی کے شہید ہونے کی خبر دی تو انہوں نے کیا کہا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: حمنہ بنت جحشؓکو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردے کا افسوس کرو۔ تو حمنہ بنت جحشؓ نے عر ض کیا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کس مردے کا افسوس کروں ؟ آپؐنے فرمایا تمہارا ماموں حمزہؓ شہید ہو گیا ہے۔ یہ سن کر حضرت حَمنہؓ نے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن پڑھا اور پھر کہا اللہ تعالیٰ ان کے مدارج بلند کرے وہ کیسی اچھی موت مرے ہیں۔ اس کے بعد آپؐ نے فرمایا اچھا اپنے ایک اَور مرنے والے کا افسوس کر لو۔ حَمنہؓ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کس کا؟ آپؐ نے فرمایا تمہارا بھائی عبداللہ بن جحشؓ بھی شہید ہوگیا ہے۔ حمنہؓ نے پھر اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن پڑھا اور کہا الحمد للہ وہ تو بڑی ہی اچھی موت مرے ہیں۔
سوال: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حمنہ بنت جحشؓ کو جب انکے شوہر کے شہید ہونے کی خبر دی تو کیا ہوا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حمنہ بنت حجشؓ کو ان کےخاوند کے شہید ہونے کی خبر دی تو اس نے ایک آہ بھر کر کہا ہائے افسوس! اور وہ اپنے آنسوؤں کو روک نہ سکی اور گھبرا گئی۔
سوال: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حمنہ بنت جحشؓ کی یہ کیفیت دیکھ کر کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آپؐ نے فرمایا: عورت کو ایسے وقت میں اپنے عزیز ترین رشتہ دار اور خونی رشتہ دار بھول جاتے ہیں لیکن اسے محبت کرنے والا خاوند یاد رہتا ہے۔ اس کے بعد آپؐ نے حَمنہؓ سے پوچھا۔ تم نے اپنے خاوند کی وفات کی خبر سن کر ہائے افسوس کیوں کہا تھا؟ حمنہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہؐ! مجھے اس کے بیٹے یاد آگئے تھے کہ ان کی کون رکھوالی کرے گا؟ آپؐ نے فرمایا:مَیں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان کی تمہارے خاوند سے بہتر خبر گیری کرنے والا کوئی شخص پیدا کر دے۔
سوال: کن صحابہ کرام کی تلواروں نے جنگ احد میں تلوار کا حق ادا کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:ان صحابہؓ کا ذکر جن کی تلواروں نے اُحد کی جنگ میں حق ادا کیایوں ملتا ہے کہ جب نبی کریم ﷺ گھر میں داخل ہوئے تو اپنی بیٹی فاطمہ ؓکو تلوار پکڑاتے ہوئے فرمایا۔ اِغْسِلِی عَنْ ھٰذَا دَمَہٗ یَا بُنَیَّۃُ فَوَاللّٰہِ لَقَدْ صَدَقَنِی الْیَوْمَ۔ اے میری پیاری بیٹی! اس تلوار پر لگے خون کو دھو ڈال۔ اللہ کی قسم! آج تو اس تلوار نے حق ادا کر دیا۔ پھر حضرت علیؓ نے بھی حضرت فاطمہؓ کو اپنی تلوار تھماتے ہوئے کہا۔ اس تلوار پر لگے خون کو بھی دھو ڈالو۔ اس موقع پر ان کی زبان پر بھی وہی الفاظ تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائے تھے کہ اللہ کی قسم! آج تو اس تلوار نے کمال کر دکھایاہے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے۔ لَئِنْ کُنْتَ صَدَقْتَ الْیَوْمَ الْقِتَالَ لَقَدْ صَدَقَ مَعَکَ سَھْلُ بْنُ حُنَیْفٍ وَ اَبُو دُجَانَۃَ۔ اگر آج تم نے قتال میں کمال کر دکھایا ہے تو تمہارے ساتھ سَہل بن حُنَیف اور ابودُجانہ نے بھی تو خوب دادِشجاعت دی ہے۔
سوال: غزوہ حمراء الاسد کب ہوا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: غزوہ حمراء الاسدہے جو شوال تین ہجری میں ہوا اس کا ذکر کرتا ہوں۔ یہ غزوہ اصل میں غزوۂ اُحد ہی کا حصہ اور تتمہ ہے اور غزوہ حمراء الاسد سے حاصل ہونے والے نتائج کی بنا پر غزوۂ اُحد کو حقیقی معنوں میں مسلمانوں ہی کی فتح شمار کیا جاتا ہے۔
سوال: حمراء الاسد کہاں واقع ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: حمراء الاسد مدینہ سے ذُوْالْحُلَیْفَہ جاتے ہوئے راستے کے بائیں جانب مدینہ سے آٹھ میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے۔
سوال: مردوں کو عورتوں کیساتھ کیسا سلوک کرنا چاہئے؟
جواب: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مَردوں کے لیے عمومی سبق ہے کہ وہ عورتوں سے حسن سلوک کیا کریں اور معمولی معمولی باتوں پر ان کو مارنے اور کوٹنے نہ لگ جایا کریں۔جب ان کی عورتیں اپنے عزیزو اقارب سے جدا ہو کر ان کے پاس رہتی ہیں تو انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ان کا اعزاز کیا جائے نہ کہ بات بات میں ان کے ساتھ جھگڑا فساد کیا جائے۔ آپؐ کے یہ فرمانے سے ایک طرف تو حمنہ بنت جحش ؓکی دلجوئی ہو گئی اور دوسری طرف آپؐ نے عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کی بھی تلقین فرما دی۔
…٭…٭…٭…