اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-06-06

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ12اپریل 2024بطرز سوال وجواب

سوال: رسول کریمﷺ کو جب بھی شہدائے احد یاد آتے تو آپ کی کیا کیفیت ہوتی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ جب مجھے شہدائے اُحد یاد آتے ہیں تو خدا کی قسم! مجھے یہ خواہش ہوتی ہے کہ کاش میں بھی اپنے ساتھیوں کے ہمرا ہ پہاڑ کے درے میں ہی رہ گیا ہوتا۔
سوال: جب رسول کریم ﷺ نے حضرت عمرو بن معاذ ؓکی شہادت پر تعزیت فرمائی تو ان کی والدہ نے کیا کہا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بیٹے حضرت عمرو بن معاذ ؓکی شہادت پر تعزیت فرمائی تو انہوں نے کہاجب مَیں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحیح سلامت دیکھ لیا تو بس اب میری مصیبت اور غم ختم ہو گیا۔
سوال: آنحضرت ﷺ نے شہدائے احد کے گھر والوں کیلئے کیا دعا کی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:آپﷺنے سب شہدائےاُحد کے گھر والوں کے لیے دعا کرتے ہوئے فرمایا۔اَللّٰهُمَّ أَذْهِبْ حُزْنَ قُلُوْبِھِمْ وَاجْبُرْ مُصِيْبَتَهُمْ، وَأَحْسِنِ الْخَلَفَ عَلٰى مَنْ خُلِّفُوْا۔اے اللہ! ان کے دلوں سے غم و الم کو مٹا دے۔ ان کی مصیبتوں کو دُور فرما دے اور شہیدوں کے جو جانشین ہیں انہیں ان کا بہترین جانشین بنا دے۔
سوال: حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اہل مدینہ کی فدائیت کا ذکر کرتے ہوئےکیا فرماتے ہیں؟
جواب:حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُحد کے میدان سے واپس تشریف لائے تو مدینہ کی عورتیں اور بچے شہر سے باہر استقبال کے لئے نکل آئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی باگ ایک پرانے اور بہادر انصاری صحابی سعدبن معاذؓنے پکڑی ہوئی تھی اور وہ فخر سے آگے آگے چلے آرہے تھے۔ شہر کے پاس انہیں اپنی بڑھیا ماں جس کی نظر کمزور ہوچکی تھی آتی ہوئی ملی۔ اُحد میں اس کا ایک بیٹا بھی مارا گیا تھا۔اس بڑھیا کی آنکھوں میں موتیا بند اتررہا تھا اور اس کی نظر کمزور ہو چکی تھی۔ وہ عورتوں کے آگے کھڑی ہو گئی اور اِدھر ادھر دیکھنے لگی اور معلوم کرنے لگی کہ رسول کریمﷺ کہاں ہیں؟ سعدبن معاذؓ نے سمجھا کہ میری ماں کو اپنے بیٹے کے شہید ہونے کی خبر ملے گی تو اسے صدمہ ہو گا۔ اس لئے انہوں نے چاہا کہ رسول کریمﷺ اسے حوصلہ دلائیں او رتسلی دیں۔ اس لئے جونہی ان کی نظر اپنی والدہ پر پڑی انہوں نے کہا، یا رسو ل اللہؐ! میری ماں! یارسول اللہؐ! میری ماں!آپؐنے فرمایابی بی! بڑا افسوس ہے کہ تیرا ایک لڑکا اس جنگ میں شہید ہوگیا ہے۔ بڑھیا کی نظر کمزور تھی اس لئے وہ آپؐکے چہرہ کو نہ دیکھ سکی۔ وہ اِدھر اُدھر دیکھتی رہی۔ آخر کار اس کی نظر آپؐکے چہرہ پر ٹِک گئی۔ وہ آپؐکے قریب آئی اور کہنے لگی یارسول اللہؐ! جب مَیں نے آپ کو سلامت دیکھ لیا ہے تو آپ سمجھیں کہ مَیں نے مصیبت کو بھون کر کھالیا۔اب دیکھو! وہ عورت جس کے بڑھاپے میں عصائے پیری ٹوٹ گیا تھا۔ کس بہادری سے کہتی ہے کہ میرے بیٹے کے غم نے مجھے کیا کھانا ہے۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں تو میں اس غم کو بھون کر کھا جاؤں گی۔ میرے بیٹے کی موت مجھے مارنے کا موجب نہیں ہوگی بلکہ یہ خیال کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں اور آپؐکی حفاظت کے سلسلہ میں میرے بیٹے نے اپنی جان دی ہے میری قوت کو بڑھانے کا موجب ہوگا۔
سوال: اگر ہمیں ترقیات دیکھنی ہیں تو ہمیں اپنے اندر کیا پیدا کرنا ہوگا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اگر ترقیات دیکھنی ہیں تو ہمیں بھی وہ ایمان پیدا کرنا ہوگا، جذبہ پیدا کرنا ہوگا اور اخلاص و وفا پیدا کرنی ہوگی جو صحابیات کا تھا۔
سوال: احد کے میدان میںایک عورت کی رسول اللہ ﷺسے بے پناہ محبت کا کیا ذکر ملتا ہے؟
جواب:حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:ایک عورت دیوانہ وار اُحد تک جاپہنچی۔ اس عورت کا خاوند، بھائی اور باپ اُحد میں مارے گئے تھےجب وہ مسلمان لشکر کے قریب پہنچی تو اس نے ایک صحابی سے دریافت کیا کہ رسول کریم ﷺکا کیا حال ہے؟ اس نے اس عورت سے کہا۔ بی بی! افسوس ہے کہ تمہارا باپ اس جنگ میں مارا گیا ہے۔ اس پر اس عورت نے کہا تم عجیب ہو۔میں تو پوچھتی ہوں کہ رسول کریم ﷺ کا کیا حال ہے؟ اور تم یہ خبر دیتے ہو کہ تیرا باپ مارا گیا ہے۔ اس پر اس صحابی نے کہا بی بی! مجھے افسوس ہے کہ تیرا خاوند بھی اس جنگ میں مارا گیا ہے۔ اس پر عورت نے پھر کہا میں نے تم سے اپنے خاوند کے متعلق دریافت نہیں کیا۔ میں تو یہ پوچھتی ہوں کہ رسول کریم ﷺکا کیا حال ہے؟ اس پر اس صحابی نے اسے پھر کہا۔ بی بی! مجھے افسوس ہے کہ تیرا بھائی بھی اس جنگ میں مارا گیا ہے۔ اس عورت نے بڑے جوش سے کہا میں نے تم سے اپنے بھائی کے متعلق دریافت نہیں کیا۔ میں تو تم سے رسول ﷺکے متعلق پوچھ رہی ہوں۔تم یہ بتاؤ کہ آپؐکاکیا حال ہے؟ جب لوگوں نے دیکھا کہ اسے اپنے باپ، بھائی اور خاوند کی موت کی کوئی پروا نہیں۔ وہ صرف رسول کریم ﷺکی خیریت دریافت کرنا چاہتی ہے تو وہ اس کے سچے جذبات کو سمجھ گئے اور انہوں نے کہا بی بی! رسول کریم ﷺ تو خیریت سے ہیں۔ اس پر اس نے کہا مجھے بتاؤ وہ کہاں ہیں؟ اور پھر دوڑتی ہوئی اس طرف گئی اور وہاں پہنچ کر رسول کریم ﷺ کے سامنے دو زانو ہو کر آپؐکادامن پکڑ کر کہنے لگی۔یا رسول اللہؐ! میری ماں اور باپ آپؐپر قربان ہوں جب آپؐسلامت ہیں تو کوئی مرے مجھے کیا پروا ہے۔ مجھے تو صرف آپؐکی زندگی کی ضرورت تھی۔ اگر آپؐزندہ ہیں تو مجھے کسی اَور کی وفات کا فکر نہیں۔
سوال: رسول اللہﷺ غزوہ احد کے بعد جب مدینہ پہنچے تو تو منافقین اور یہودکا کیا ردعمل تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:جب رسول اللہﷺ غزوۂ اُحد کے بعد مدینہ پہنچے تو منافقین اور یہود خوشیاں منانے لگے اور مسلمانوں کو برا بھلا کہنے لگے اور کہنے لگے کہ محمد ﷺ بادشاہت کے طلبگار ہیں، نعوذ باللہ اور آج تک کسی نبی نے اتنا نقصان نہیں اٹھایا جتنا انہوں نے اٹھایا ہے۔ خود بھی زخمی ہوئے اور ان کے صحابہ بھی زخمی ہوئے اور کہتے تھے کہ اگر تمہارے وہ لوگ جو قتل ہوئے ہمارے ساتھ رہتے تو کبھی قتل نہ ہوتے۔
سوال: حضرت عمرؓ نے جب منافقین کے قتل کی اجازت رسول کریم ﷺ سے چاہی تو آپﷺ نے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:جب حضرت عمرؓ نے رسول اللہ ﷺ سے ان منافقین کے قتل کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ اس شہادت کا اظہار نہیں کرتے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؟ لا الٰہ الا اللہ نہیں پڑھتے؟ اور میں اللہ کا رسول ہوں اور محمد رسول اللہ نہیں کہتے؟ کلمہ تو پڑھتے ہیں فرمایا کہ کلمہ تو پڑھتے ہیں ناں یہ لوگ؟ اس پر حضرت عمرؓ نے عرض کیا کیوں نہیں۔ یقیناً پڑھتے ہیں۔ یہ تو کہتے ہیں لیکن منافقانہ باتیں بھی ساتھ کر رہے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا لیکن یہ تلوار کے خوف سے اس طرح کہتے ہیں۔آپﷺ نے فرمایا کہ مجھے اس کے قتل سے منع کیا گیا ہے جو اس شہادت کا اظہار کرے۔
سوال: رسول کریم ﷺ نے شہداء احد کی قبر وں میں کیا دعا کی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:عبداللہ بن ابی فَرْوَہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُحد کے شہداء کی قبروں کی زیارت کی تو فرمایا۔اَللّٰهُمَّ إِنَّ عَبْدَكَ وَنَبِيَّكَ يَشْهَدُ أَنَّ هٰؤُلَاءِ شُهَدَاءُ، وَأَنَّهٗ مَنْ زَارَهُمْ۔ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ إِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ رَدُّوْا عَلَيْہِ۔اے اللہ! بے شک میں تیرا بندہ اور نبی گواہی دیتا ہوں کہ یہ لوگ شہید ہیں اور جو ان کی زیارت کرے اور قیامت کے دن تک ان پر سلام بھیجے تو وہ اس کا جواب دیں گے۔
…٭…٭…٭…