سوال: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں کون سی آیت کی تلاوت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے خطبہ کےشروع میں سورہ نمل کی آیت نمبر 63 کی تلاوت فرمائی: اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُکُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ قَلِیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَ ترجمہ:یا پھر وہ کون ہے جو بے قرار کی دعا قبول کرتا ہے جب وہ اسے پکارے اور تکلیف دُور کر دیتا ہے اور تمہیں زمین کا وارث بناتا ہے ۔کیا اللہ کے ساتھ کوئی اَور معبود ہے بہت کم ہے جو تم نصیحت پکڑتے ہو۔
سوال: خدا تعالیٰ کے حضور دعا کب قبو ل ہوتی ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ بڑا بے نیاز ہے۔ جب تک کثرت سے اور بار بار اضطراب سے دعا نہیں کی جاتی وہ پروا نہیں کرتا…قبولیت کے واسطے اضطراب شرط ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السام نے مضطر کی کیا پہچان بیان فرمائی؟
جواب: حضرت مسیح موعود عیہ السام فرماتے ہیں: لفظ مُضْطَر سے وہ ضرر یافتہ مراد ہیں جو محض ابتلا کے طور پر ضرر یافتہ ہوں نہ سزا کے طور پر۔
سوال: ذکر الٰہی کرنے والے اور ذکر الٰہی نہ کرنے والوں کی مثال کس طرح ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ذکر الٰہی کرنے والے اور ذکر الٰہی نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مردہ کی ہے۔
سوال: دعا کا حقیقی فیض کب حاصل ہوگا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اس دنیا کو حاصل کرنا بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنیکا ذریعہ ہونا چاہیے اور دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر یہ ہوگا تو تب ہی ہم دعا سے حقیقی فیض پانے والے ہونگے۔
سوال: ہماری دعائیں کس طرح کی ہونی چاہئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: ہمیں چاہیے کہ ہم اس سوچ کے ساتھ دعا کیا کریں کہ جہاں ہم اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کریں وہاں اپنی اصلاح اور ہدایت اور روحانیت میں بڑھنے کے لیے بھی دعا کریں۔ صرف دنیا کے حصول کے لیے ہماری دعائیں نہ ہوں بلکہ اپنی ظاہری اور باطنی حالتوں کی بہتری کے لیے جب ہم دعا کریں گے اور خاص توجہ سے کریں گے تو پھر ہم ہر قسم کے فضلوں کی بارش ہوتا دیکھیں گے۔
سوال: اضطراب کی حالب کسے کہتے ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اضطراب کی حالت وہ ہے جو سو فیصد یہ یقین ہو کہ اب دنیا کے تمام راستے بند ہو گئے ہیں اور اب ایک ہی راستہ ہے جو خدا تعالیٰ کا راستہ ہے، جو حضرتِ توّاب کا راستہ ہے جو ہمیں مشکلات سے نکال سکتا ہے۔ اپنی دعاؤں میں یہ درد کی حالت ہمیں پیدا کرنی چاہیے ورنہ یہ دعا اور ذکرِالٰہی اگر صرف زبانی جمع خرچ ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس بارے میں ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مَیں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اللہ کو زیادہ یاد کرو اور ذکر کی مثال ایسی سمجھو کہ جیسے کسی آدمی کا اس کے دشمن نہایت تیزی کے ساتھ پیچھا کر رہے ہوں یہاں تک کہ اس آدمی نے بھاگ کر ایک مضبوط قلعے میں پناہ لی اور دشمنوں کے ہاتھ لگنے سے بچ گیا۔ اسی طرح انسان شیطان سے نجات پا سکتا ہے ورنہ کوئی ذریعہ نہیں۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سورہ فاتحہ کی کیا خصوصیت بیان فرمائی؟
جواب: حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوۃ والسلام نے ایک موقع پر فرمایا کہ سورۂ فاتحہ کی ایک خصوصیت یہ ہے ’’اس کو توجہ اور اخلاص سے پڑھنا دل کو صاف کرتا ہے اور ظلمانی پردوں کو اٹھاتا ہے اور سینے کو منشرح کرتا ہےاور طالبِ حق کو حضرتِ احدیت کی طرف کھینچ کر ایسے انوار اور آثار کا مورد کرتا ہے کہ جو مقربان حضرت احدیت میں ہونی چاہئےاور جن کو انسان کسی دوسرے حیلہ یا تدبیر سے ہرگز حاصل نہیں کر سکتا۔
سوال:مومن کے تعلقات دنیا میں کس طرح کے ہونے چاہئے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: مومن کے تعلقات دنیا کے ساتھ جس قدر وسیع ہوں وہ اس کے مراتب عالیہ کا موجب ہوتے ہیں۔ کیونکہ اس کا نصب العین دین ہوتا ہےاور دنیا، اس کا مال و جاہ دین کا خادم ہوتا ہے۔ پس اصل بات یہ ہے کہ دنیا مقصود بالذات نہ ہو۔ بلکہ حصول دنیا میں اصل غرض دین ہو۔
سوال: دعا کن مصیبتوں سے بچاتی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دعا ایسی مصیبت سے نجات کے لیے بھی فائدہ دیتی ہے جو نازل ہو چکی ہو اور ایسی مصیبت سے بھی بچاتی ہے جو ابھی نازل نہ ہوئی ہو۔ پس اے اللہ کے بندو! دعا کو اپنے اوپر لازم کر لو ۔
سوال: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز کیا دعا کیا کرتے تھے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تہجد میں یہ دعا کرتے تھے : اللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيْهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ لَكَ مُلْكُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيْهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيْهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ حَقٌّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَقَوْلُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّوْنَ حَقٌّ، وَمُحَمَّدٌ(صلّى اللّٰه عليه وسلّم) حَقٌّ،وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللّٰهُمَّ إِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِيْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، أَوْ لَا إِلٰهَ غَيْرُكَ کہ ے اللہ!سب تعریفوں کا تُو حقدار ہے تُو آسمانوں اور زمین کو قائم رکھنے والا ہے اور ان کو بھی جو ان میں ہیں اور ہر قسم کی تعریف کا تُو ہی مستحق ہے۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت تیری ہے اور ان کی بھی جو اُن میں ہیں۔ ہر قسم کی تعریف کا تُو ہی مستحق ہے تُو آسمانوں کا اور زمین کا نور ہے اور ان کا جو اُن میں ہیں اور ہر قسم کی تعریف کا تُو ہی مستحق ہے تُو برحق ہے تیرا وعدہ بر حق ہے تیری ملاقات برحق ہے تیرا ارشاد برحق ہے اور جنت برحق ہے اور آگ برحق ہے اور انبیاء برحق ہیں اور محمد ﷺ برحق ہیں اور موعود گھڑی برحق ہے۔ اے اللہ! مَیں تیرے حضور جھکا ہوں اور تیری خاطر میں نے جھگڑا کیا اور تیرے حضور فیصلہ چاہا۔ پس تُو مجھے بخش دے جو مَیں نے پہلے آگے بھیجا اور جو بعد کے لیے رکھ دیا اور جسے مَیں نے پوشیدہ کیا اور جس کا مَیں نے اظہار کیا۔ تُو مقدم ہے اور تُو موخر ہے صرف تُو ہی عبادت کے لائق ہے یا فرمایا تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔
سوال:برے اخلاق اور برے اعمال سے بچنے کی کیا دعا ہے؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا کا یوں ذکر ہے۔ زِیاد بن عِلَاقہ اپنے چچا قُطْبَہ بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ اللّٰهُمَّ إنِّي أعُوْذُ بِكَ مِنْ مُنْكَرَاتِ الْأَخْلَاقِ وَالْأَعْمَالِ وَالْأَهْواءِ اے میرے اللہ! مَیں بُرے اخلاق اور بُرے اعمال سے اور بُری خواہشات سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
…٭…٭…٭…