سوال: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں کون سی آیت کی تلاوت فرمائی؟
جواب:حضور انور نے خطبہ کے شروع میں سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 187 کی تلاوت فرمائی: وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ۔ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَلْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُوْنَ (البقرۃ:187)اور جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یقیناً مَیں قریب ہوں۔ مَیں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ پس چاہیے کہ وہ بھی میری بات پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔
سوال: حصول فضل کا اقرب طریق کیا ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: حصولِ فضل کا اقرب طریق دعا ہے اور دعا کامل کے لوازمات یہ ہیں کہ اس میں رِقّت ہو، اضطراب اور گدازش ہو۔ جو دعا عاجزی، اضطراب اور شکستہ دلی سے بھری ہوئی ہو وہ خدا تعالیٰ کے فضل کو کھینچ لاتی ہے۔
سوال: سب سے اول اور ضروری دعا کیا ہے؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: سب سے اوّل اور ضروری دعا یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو گناہوں سے پاک صاف کرنے کی دعا کرے۔ ساری دعاؤں کا اصل اور جزو یہی ہے۔
سوال: رمضان اور دعائوں کا آپس میں کیا تعلق ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: رمضان اور دعاؤں کا ایک خاص تعلق ہے۔ تبھی تو رمضان میں خاص طور پر نمازوں، نوافل، تہجد، تراویح وغیرہ کی طرف خاص توجہ پیدا ہوتی ہے۔ ہر حقیقی مسلمان کو یہ احساس ہے کہ ان دنوں میں خدا تعالیٰ کے خاص پیار کی نظر اپنے بندوں پر ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تو عام دنوں میں بھی اپنے بندوں پر پیار کی نظر ہوتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَیں بندے کے گمان کے مطابق اس سے سلوک کرتا ہوں ۔ جس وقت بندہ مجھے یاد کرتا ہے مَیں اس وقت اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرے تو مَیں اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں۔ اگر وہ میرا ذکر محفل میں کرے تو مَیں اس کا ذکر محفل میں کروں گا۔ اگر وہ میری طرف ایک بالشت بھر آئے تو مَیں اس کی طرف ایک ہاتھ جاؤں گا ۔اگر وہ میری طرف ایک ہاتھ آئے گا تو مَیں اس کی طرف دو ہاتھ جاؤں گا۔ اگر وہ میری طرف چل کر آئے تو مَیں اس کی طرف دوڑ کر آؤں گا۔
سوال: دعا کے اندر قبولیت کا اثر کس وقت پیدا ہوتا ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:دعا کے اندر قبولیت کا اثر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ انتہائی درجہ کے اضطرار تک پہنچ جاتی ہے۔
سوال: رمضان کے آخری عشرہ میں ہمیں کس طرح اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل پیرا ہونا چاہئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:رمضان کا آخری عشرہ شروع ہو رہا ہے اس میں خاص طور پر ہمیں اللہ تعالیٰ کے حکموں کو اپنا لائحہ عمل بناتے ہوئے، ایمان میں مضبوط ہوتے ہوئے، راتوں کو اٹھ کر اس کے حضور جھکتے ہوئے اس کے قرب کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ ہم اس ہدایت کو پانے والے ہوں جس پر اللہ تعالیٰ ہمیں چلانا چاہتا ہے۔
سوال: خدا تعالیٰ کے وجود پرحضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا دلیل بیان فرمائی؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : جب میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں کہ خدا کے وجود پر دلیل کیا ہے؟ اس کا یہ جواب ہے کہ مَیں بہت نزدیک ہوں یعنی کچھ بڑے دلائل کی حاجت نہیں۔ میرا وجود نہایت اقرب طریق سے سمجھ آ سکتا ہے اور نہایت آسانی سے میری ہستی پر دلیل پیدا ہوتی ہے اور وہ دلیل یہ ہے کہ جب کوئی دعا کرنے والا مجھے پکارے تو مَیں اس کی سنتا ہوں اور اپنے الہام سے اس کی کامیابی کی بشارت دیتا ہوں جس سے نہ صرف میری ہستی پر یقین آتا ہے بلکہ میرا قادر ہونا بھی بپایہ یقین پہنچتا ہے لیکن چاہئے کہ لوگ ایسی حالت تقویٰ اور خدا ترسی کی پیدا کریں کہ میں ان کی آواز سنوںنیز چاہئے کہ وہ مجھ پر ایمان لاویں اور قبل اس کے جو ان کو معرفتِ تامہ ملے اس بات کا اقرار کریں کہ خدا موجود ہے اور تمام طاقتیں اورقدرتیں رکھتا ہے۔وہ تمام طاقتیں اور قدرتیں رکھتا ہے۔
سوال: معرفت کس طرح حاصل ہوتی ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : معرفت فضل کے ذریعہ سے حاصل ہوتی ہے اور پھر فضل کے ذریعہ سے ہی باقی رہتی ہے۔ فضل معرفت کو نہایت مصفیٰ اور روشن کر دیتا ہے اور حجابوں کو درمیان سے اٹھا دیتا ہے اور نفسِ امارہ کے لئے گرد و غبار کو دُور کر دیتا ہے اور روح کو قوّت اور زندگی بخشتا ہے اور نفسِ امارہ کو امارگی کے زندان سے نکالتا ہے۔اور بد خواہشوں کی پلیدی سے پاک کرتا ہے اور نفسانی جذبات کے تند سیلاب سے باہر لاتا ہے۔تب انسان میں ایک تبدیلی
پیدا ہوتی ہے اور وہ بھی گندی زندگی سے طبعاً بیزار ہو جاتا ہے کہ بعد اس کے پہلی حرکت جو فضل کے ذریعہ سے روح میں پیدا ہوتی ہے وہ دعا ہے۔ یہ خیال مت کرو کہ ہم بھی ہر روز دعا کرتے ہیں اور تمام نماز دعا ہی ہے جو ہم پڑھتے ہیں کیونکہ وہ دعا جو معرفت کے بعد اور فضل کے ذریعہ سے پیدا ہوتی ہے وہ اَور رنگ اور کیفیت رکھتی ہے۔وہ فنا کرنے والی چیز ہے۔ وہ گداز کرنے والی آگ ہے۔ وہ رحمت کو کھینچنے والی ایک مقناطیسی کشش ہے۔ وہ موت ہے پر آخر کو زندہ کرتی ہے۔ وہ ایک تند سیل ہے پر آخر کو کشتی بن جاتی ہے۔ہر ایک بگڑی ہوئی بات اس سے بن جاتی ہے اور ہر ایک زہر آخر اس سے تریاق ہو جاتا ہے۔
سوال: خدا تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت کا سب سے زبردست ذریعہ کیا ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: خدا تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت کا سب سے زبردست ذریعہ یہی ہے کہ ہم اس کی آواز کو سن لیں یا دیدار یا گفتار۔پس آج کل کا گفتار قائم مقام ہے دیدار کاہاں جب تک خدا کے اور اس کے سائل کے درمیان کوئی حجاب ہے اس وقت تک ہم سن نہیں سکتے۔جب درمیانی پردہ اٹھ جاوے گا تو اس کی آواز سنائی دے گی۔
سوال: جب کوئی شخص بکاء و زاری سے خدا تعالیٰ کے حضور جھکتا ہے تو خدا تعالیٰ اسکے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : اللہ جل شانہ نے جو دروازہ اپنی مخلوق کی بھلائی کے لئے کھولا ہے وہ ایک ہی ہے یعنی دعا۔ جب کوئی شخص بکاء و زاری سے اس دروازہ میں داخل ہوتا ہے تو وہ مولائے کریم اس کو پاکیزگی و طہارت کی چادر پہنا دیتا ہے اور اپنی عظمت کا غلبہ اس پر اس قدر کر دیتا ہے کہ بے جا کاموں اور ناکارہ حرکتوں سے وہ کوسوں بھاگ جاتا ہے۔
سوال: دعا کی قبولیت کا کون سا وقت ہوتا ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: بہت سے لوگ دعا کرتے ہیں اور ان کا دل سیر ہو جاتا ہے۔وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ کچھ نہیں بنتا مگر ہماری نصیحت یہ ہے کہ اس خاک پیزی ہی میں برکت ہے۔کیونکہ آخر گوہرِ مقصود اسی سے نکل آتا ہے اور ایک دن آ جاتا ہے کہ جب اس کا وہ دل زبان کے ساتھ متفق ہو جاتا ہے۔ جب اس کا وہ دل زبان کے ساتھ متفق ہو جاتا ہے اور پھر خود ہی وہ عاجزی اور رقّت جو دعا کے لوازمات ہیں پیدا ہو جاتے ہیں۔جو رات کو اٹھتا ہے خواہ کتنی ہی عدم حضوری اور بے صبری ہو لیکن اگر وہ اس حالت میں بھی دعا کرتا ہے کہ الٰہی! دل تیرے ہی قبضہ اور تصرف میں ہے تُو اس کو صاف کر دے اور عین قبض کی حالت میں اللہ تعالیٰ سے بسط چاہے۔تو اس قبض میں سے بسط نکل آئے گی اور رقّت پیدا ہو جائے گی۔یہی وہ وقت ہوتا ہے جو قبولیت کی گھڑی کہلاتا ہے۔وہ دیکھے گا کہ اس وقت روح آستانہ الوہیت پر پانی کی طرح بہتی ہے اور گویا ایک قطرہ ہے جو اوپر سے نیچے کی طرف گرتا ہے۔
…٭…٭…٭…