سوال: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں کون سی آیت کی تلاوت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے خطبہ کے شروع میںسورہ بقرہ کی آیت نمبر 186 کی تلاوت فرمائی:
شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْہُدٰی وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ۔ وَمَنْ کَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ۔ یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ وَلِتُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ وَلِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ہَدٰکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ۔اس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ رمضان کا مہینہ جس میں قرآن انسانوں کے لیے ایک عظیم ہدایت کے طور پر اتارا گیا اور ایسے کھلے نشانات کے طور پر جن میں ہدایت کی تفصیل اور حق و باطل میں فرق کر دینے والے امور ہیں۔ پس جو بھی تم میں سے اس مہینے کو دیکھے تو اِس کے روزے رکھے اور جو مریض ہو یا سفر پر ہو تو گنتی پوری کرنا دوسرے ایام میں ہوگا۔ اللہ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے تنگی نہیں چاہتا اور چاہتا ہے کہ تم (سہولت سے) گنتی کو پورا کرو اور اس ہدایت کی بنا پر اللہ کی بڑائی بیان کرو جو اس نے تمہیں عطا کی اور تاکہ تم شکر کرو۔
سوال: کس حربہ سے ہماری فتح مقدر ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اس وقت قرآن کریم کا حربہ ہاتھ میں لو تو تمہاری فتح ہے۔اس نور کے آگے کوئی ظلمت ٹھہر نہ سکے گی ۔
سوال: خدا تعالیٰ کا حق ہم کس طرح ادا کر سکتے ہیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: رمضان میں روزے رکھنے یا فرض نمازیں باقاعدگی سے ادا کرنے یا کچھ نوافل پڑھ لینے سے رمضان کا حق ادا نہیں ہوتا بلکہ قرآن کریم کو پڑھنا اور اس کے احکامات تلاش کر کے اس پر عمل کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔
سوال: قرآن کریم کی طرف رجوع کرنے سے کیا فوائد حاصل ہوتے ہیں؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:جب تک مسلمانوں کا رجوع قرآن شریف کی طرف نہ ہو گا ان میں وہ ایمان پیدا نہ ہو گا، یہ تندرست نہ ہوں گے۔ عزت اور عروج اسی راہ سے آئے گا جس راہ سے پہلے آیا۔
سوال: جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل پیرا ہوتا ہے اس کو خدا تعالیٰ کیسی برکات سے نوازتا ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:یقیناً یاد رکھو کہ جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اور اس کی پاک کتاب پر عمل کرتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو لا انتہا برکات سے حصہ دیتاہے۔ ایسی برکات اسے دی جاتی ہیں جو اس دنیا کی نعمتوں سے بہت ہی بڑھ کر ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک عفو گناہ بھی ہے۔
سوال: قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے کن کن امور کے بارے بتایا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس کتاب میں تمام امور کا احاطہ کرکے، تمام ہدایات دے کر، انسان کے اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھنے کے تمام راستے دکھا کر، شیطان کے تمام راستوں سے ہوشیار کرکے، موجودہ اور آئندہ آنے والے امور کی طرف راہنمائی کرکے، ان کے خطرات سےآگاہ کرکے، ان سے بچنے کے راستے دکھا کر، دہریت کا مقابلہ کرنے کے راستے دکھا کر، شرک سے ہوشیار کرنے اور اس سے بچنے کے طریقے سکھا کر غرضیکہ تمام امور جو موجودہ ہیں یا پرانے زمانے میں تھے یا آئندہ ہوں گے ان سب کو قرآن مجید میں بیان کر کے خدا تعالیٰ سے تعلق میں بڑھنے اور ہدایت پر قائم رہنے کے تمام راستے اس آخری کامل اور مکمل شریعت میں بیان کر دیے ہیں۔
سوال: حضرت جبرائیل علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان میں کتنی مرتبہ قرآن کریم کا دور مکمل کروایا کرتے تھے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت جبرائیل علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان میں نازل شدہ قرآن کریم کا ایک دَور مکمل کروایا کرتے تھے اور آخری سال میں مکمل قرآن کریم کا دو مرتبہ دَور مکمل کیا۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْہِ الْقُرْاٰنُ کے حوالے سے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام آیت شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْہِ الْقُرْاٰنُ کے حوالے سے فرماتے ہیں:یہی ایک فقرہ ہے جس سے ماہِ رمضان کی عظمت معلوم ہوتی ہےصوفیا نے لکھا ہے کہ یہ ماہ تنویرِ قلب کے لئے عمدہ مہینہ ہے۔کثرت سے اس میں مکاشفات ہوتے ہیں۔ صلوٰۃ تزکیہ نفس کرتی ہے اور صوم (روزہ) تجلی قلب کرتا ہے۔ تزکیہ نفس سے مراد یہ ہے کہ نفسِ امارہ کی شہوات سے بُعد حاصل ہو جاوےاور تجلی قلب سے یہ مراد ہے کہ کشف کا دروازہ اس پر کھلے کہ خدا کو دیکھ لیوے۔پس اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ میں یہی اشارہ ہے اس میں شک و شبہ کوئی نہیں ہے۔
سوال: قرآن کریم پڑھنے اور سمجھنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیا فرماتے ہیں؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: مَیں نے قرآن کے لفظ میں غور کی۔ تب مجھ پر کھلا کہ اس مبارک لفظ میں ایک زبر دست پیش گوئی ہے۔ وہ یہ ہے کہ یہی قرآن یعنی پڑھنے کے لائق کتاب ہے اور ایک زمانہ میں تو اَور بھی زیادہ یہی پڑھنے کے قابل کتاب ہو گی جبکہ اَور کتابیں بھی پڑھنے میں اس کے ساتھ شریک کی جائیں گی۔اس وقت اسلام کی عزت بچانے کے لئے اور بطلان کا استیصال کرنے کے لئے یہی ایک کتاب پڑھنے کے قابل ہو گی اور دیگر کتابیں قطعاً چھوڑ دینے کے لائق ہوں گی۔ (اور فرمایا) فرقان کے بھی یہی معنی ہیں۔ یعنی یہی ایک کتاب حق وباطل میں فرق کرنے والی ٹھہرے گی اور کوئی حدیث کی یا اَو ر کوئی کتاب اس حیثیت اور پایہ کی نہ ہو گی۔
سوال: مسلمانوں کے قرآن شریف سے بے توجہگی اور اسے پڑھنے میں سستی کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیا فرماتے ہیں؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ آپؐ نے آ کر دنیا کے سامنے وہ خدا پیش کیا جو انسانی کانشس اور فطرت چاہتی ہے اور اس کا پورا پورا بیان خدا تعالیٰ کی سچی کتاب قرآن مجید میں ہے۔مَیں اس وقت دوسرے لوگوں کو جو مسلمان نہیں ہیں الگ رکھ کر صرف ان لوگوں کے متعلق کچھ کہوں گا جو مسلمان ہیں اور انہی سے خطاب کروں گا۔ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ مَہْجُوْرًا کہ اے میرے ربّ! یقیناً میری قوم نے اس قرآن کو متروک کر چھوڑا ہے۔یاد رکھو قرآنِ شریف حقیقی برکات کا سرچشمہ اور نجات کا سچا ذریعہ ہے۔
…٭…٭…٭…