سوال: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں کون سی آیت کی تلاوت فرمائی؟
جواب: حضور انورایدہ اللہ نے خطبہ کے شروع میں سورہ بقرہ کی آیت نمبر 185 کی تلاوت فرمائی:
یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ ۔ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ۔ وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ۔ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَہُوَ خَیْرٌ لَّہٗ۔ وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو تم پر روزے اسی طرح فرض کر دیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ گنتی کے چند دن ہیں۔ پس جو بھی تم میں سے مریض ہو یا سفر پر ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اتنی مدت کے روزے دوسرے ایام میں پورے کرے۔ اور جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہوں ان پر فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔ پس جو کوئی بھی نفلی نیکی کرے تو یہ اس کے لیے بہت اچھا ہے اور تمہارا روزے رکھنا تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔
سوال: حضور انور نے شیطان کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: شیطان کو کوئی معمولی چیز نہیں سمجھنا چاہیے اس نے بڑے چیلنج سے یہ بات کی تھی کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کی اکثریت میرے بہکاوے میں آکر میرے پیچھے چلے گی۔ پس ہم نے رمضان میں اس کے اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہے۔
سوال: خدا تعالیٰ نے روزوں کو کیوں فرض کیا ہے؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:خدا تعالیٰ کا اس سے یعنی روزے سے منشا یہ ہے کہ ایک غذا کو کم کرو اور دوسری کو بڑھاؤ … روزے سے یہی مطلب ہے کہ انسان ایک روٹی کو چھوڑ کر جو جسم کی پرورش کرتی ہے دوسری روٹی کو حاصل کرے جو روح کی تسلی اور سیری کا باعث ہے۔ اور جو لوگ محض خدا تعالیٰ کے لیے روزے رکھتے ہیں اور نرے رسم کے طور پرنہیں رکھتے انہیں چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی حمداور تسبیح اورتہلیل میں لگے رہیں جس سے دوسری غذا انہیں مل جائے۔
سوال: جو شخص قرآن مجید کی ہدایت پر کاربند ہوگا وہ کس مقام تک پہنچے گا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:جو شخص قرآن مجید کی ہدایت پر کار بند ہوگا وہ معرفت کے اعلیٰ مقام تک پہنچے گا۔
سوال: روزوں کا اصل مقصد کیا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اصل مقصد تو تقویٰ پیدا کرنا ہے اگر یہ نہیں توروزے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔
سوال: رمضان میں کن باتوں کی طرف توجہ ہونی چاہئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: رمضان میں تو قرآن کریم کے پڑھنے، پڑھانے، سننے، سنانے کی طرف زیادہ توجہ ہونی چاہیے۔ ذکر الٰہی کی طرف زیادہ توجہ ہونی چاہیے۔ عبادات کی طرف زیادہ توجہ ہونی چاہیے لیکن بجائے اس کے ہوتا یہ ہے کہ جو لوگ مختلف قسم کے کام کر رہے ہیں وہ اپنے کاموں سے آ کر افطاریوں کی دعوتیں کھانے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تقویٰ کے مضمون کےمتعلق کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: قرآن شریف نے شروع میں ہی فرمایا۔ ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ پس قرآن شریف کے سمجھنے اور اس کے موافق ہدایت پانے کے لئے تقویٰ ضروری اصل ہے۔ ایسا ہی دوسری جگہ فرمایا۔ لَا يَمَسُّہٗٓ اِلَّا الْمُطَہَّرُوْنَ۔ دوسرے علوم میں یہ شرط نہیں۔ ریاضی، ہندسہ و ہیئت وغیرہ میں اس امر کی شرط نہیں کہ سیکھنے والا ضرور متقی اور پرہیز گار ہو بلکہ خواہ کیسا ہی فاسق و فاجر ہو وہ بھی سیکھ سکتاہے۔مگر علمِ دین میں خشک منطقی اور فلسفی ترقی نہیں کر سکتا اور اس پر وہ حقائق اور معارف نہیں کھل سکتے۔ جس کا دل خراب ہے اور تقویٰ سے حصہ نہیں رکھتا اور پھر کہتاہے کہ علومِ دین اور حقائق اس کی زبان پر جاری ہوتے ہیں وہ جھوٹ بولتا ہے۔ ہر گز ہرگز اسے دین کے حقائق اور معارف سے حصہ نہیں ملتا بلکہ دین کے لطائف اور نکات کے لیے متقی ہونا شرط ہے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس شخص کے بارے میں کیا فرمایا جو مریض اور مسافر ہونے کی حالت میں ماہ رمضان میں روزہ رکھتا ہے؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : جو شخص مریض اور مسافر ہونے کی حالت میں ماہ رمضان میں روزہ رکھتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے صریح حکم کی نافرمانی کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ مریض اور مسافر روزہ نہ رکھے۔ مرض سے صحت پانے اور سفر کے ختم ہونے کے بعد روزے رکھے۔ خدا تعالیٰ کے اس حکم پر عمل کرنا چاہئے کیونکہ نجات فضل سے ہے نہ کہ اپنے اعمال کا زور دکھا کر کوئی نجات حاصل کر سکتا ہے … مریض اور مسافر اگر روزہ رکھیں گے تو ان پر حکم عدولی کا فتویٰ لازم آئے گا۔
…٭…٭…