اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-05-16

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ8مارچ 2024 بطرز سوال وجواب

سوال: کون سے الفاظ کو سعد رضی اللہ عنہ آخری عمر تک فخر کے ساتھ بیان کرتے رہے؟
جواب: حضورانورنےفرمایا:ایک دفعہ رسول اللہ ﷺنے حضرت سعد ؓسے فرمایا: تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں! برابر تیرچلاتے جاؤ۔ سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی آخری عمر تک ان الفاظ کونہایت فخر کے ساتھ بیان کیا کرتے تھے۔
سوال: آنحضرت ﷺکی احد سے مدینہ واپسی کے متعلق حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:آنحضرت ﷺ کی اُحد سے مدینہ واپسی کے متعلق روایات میں مذکور ہے کہ غزوہ اُحد کے دن آنحضرت ﷺشہدائے اُحد کی تکفین و تدفین کے بعد مدینہ واپس تشریف لے آئے۔
سوال: آنحضرت ﷺکے حکم سےحضرت عمر ؓ نے خالد بن ولید کی کمان میں پہاڑ پر حملے کو کس طرح ناکام بنایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم صحابہؓکی جماعت کے ساتھ اس چٹان پر قیام فرما تھے۔ اچانک قریش کی ایک جماعت پہاڑ کے اوپر پہنچ گئی۔ اس جماعت میں خالد بن ولید بھی تھے۔ آنحضرت ﷺنے دشمن کو اوپر دیکھ کر دعا کی کہ اَللّٰهُمَّ إنَّهٗ لَا يَنْبَغِي لَهُمْ أَنْ يَعْلُوْنَا، اَللّٰهُمَّ لَا قُوَّةَ لَنَا إلَّا بِكَ۔ اے اللہ! ان کے لیے جائز نہیں کہ وہ ہم پر غالب آئیں۔ اے اللہ! ہماری طاقت وقوت نہیں ہے مگر صرف تیرے ہی ذریعہ۔ اسی وقت حضرت عمر فاروقؓ نے مہاجرین کی ایک جماعت کے ساتھ ان لوگوں کا مقابلہ کیا اور انہیں پیچھے دھکیل کر پہاڑی سے نیچے اترنے پر مجبور کر دیا۔ اس واقعہ کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نازل ہوا وَلَا تَهِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِيْنَ(آل عمران: 140)۔اور کمزوری نہ دکھاؤ اور غم نہ کرو جبکہ یقیناً تم ہی غالب آنے والے ہو اگر تم مومن ہو۔
سوال:آنحضرت ﷺکے زخمی ہونے کے باوجود آپؐکو صحابہؓکی فکرکا کس قدر خیال تھا؟
جواب: حضورانورنےفرمایا:حضرت عائشہؓسے مروی ہے کہ حضرت ابوبکرؓ جب یومِ اُحد کا تذکرہ کرتے تو فرماتے۔ وہ دن سارے کا سارا طلحہ کا تھا۔ پھر اس کی تفصیل بتاتے کہ مَیں ان لوگوں میں سے تھا جو اُحد کے دن رسول اللہ ﷺکی طرف واپس لوٹے تھے تو مَیں نے دیکھا کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپؐکی حفاظت کرتے ہوئے لڑ رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپ یعنی حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بچا رہا تھا۔ حضرت ابوبکرؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کاش! طلحہ ہو۔ مجھ سے جو موقع رہ گیا سو رَہ گیا اور میں نے دل میں کہا کہ میری قوم میں سے کوئی شخص ہو تو یہ مجھے زیادہ پسندیدہ ہے۔میرے اور رسول اللہ ﷺکے درمیان ایک شخص تھا جس کو مَیں نہیں پہچان سکا حالانکہ میں اس شخص کی نسبت رسول اللہ ﷺکے زیادہ قریب تھا اور وہ اتنا تیز چل رہا تھا کہ میں اتنا تیز نہ چل سکتا تھا۔ تو دیکھا کہ وہ شخص ابوعبیدہ بن جَرَّاحؓتھے۔ پھر میں رسول اللہ ﷺکے پاس پہنچا۔ آپؐکا نچلا رَبَاعی دانت یعنی سامنے والے دو دانتوں اور نوکیلے دانت کے درمیان والا دانت ٹوٹ چکا تھا اور چہرہ زخمی تھا۔ آپ ﷺکے رخسارِ مبارک میں خَود کی کڑیاں دھنس چکی تھیں۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تم دونوں اپنے ساتھی کی مدد کرو۔ اس سے آپؐکی مراد طلحہ تھی اور ان کا خون بہت بہ رہا تھا۔ آنحضرت ﷺنے بجائے یہ کہ مجھے دیکھو، فرمایا کہ طلحہ کو جا کے دیکھو۔ان کا کیا حال ہے ان کی خاطرکرو دیکھو ان کے زخموں کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرو۔
سوال:آنحضرت ﷺکا زِیاد بن سَکَن سے محبت و شفقت کا سلوک اور اُن کی آنحضرت ﷺسے محبت کے بارے میں حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: ابنِ اسحاق بیان کرتے ہیں جب کفار نے رسول اللہ ﷺکو گھیر لیا تو آپ ﷺنے فرمایا۔ مَنْ رَجُلٌ يَّشْرِيْ لَنَا نَفْسَهٗ۔ کون شخص ہے جو ہمارے لیے خود کو بیچ دے؟ تو زِیَاد بن سکَن پانچ انصاری صحابہ کے ساتھ کھڑے ہوئے اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ عُمَارہ بن یزید بن سکن تھے۔ تو یہ رسول اللہ ﷺکے سامنے دادِشجاعت دیتے دیتے ایک ایک کر کے شہید ہوتے رہے حتی کہ ان میں سے آخری زیاد یا عمارہ تھے۔ یہ لڑتے رہے یہاں تک کہ ان کو کئی زخم لگے پھر مسلمانوں کی ایک جماعت لوٹ آئی اور مشرکین کو رسول اللہ ﷺسے دھکیل دیا تو اس کے بعد رسول اللہ ﷺنے فرمایا۔ زِیَاد بن سکَن کو میرے قریب کرو تو صحابہ کرامؓ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کر دیا۔ آپؐنے اپنا قدم مبارک ان کا تکیہ بنا دیا اور ان کی موت اس حال میں ہوئی کہ ان کا رخسار رسول اللہ ﷺکے قدم مبارک پر تھا اور ان کے جسم پر چودہ زخم آئےتھے۔
سوال: عورت کو اپنے خاوند کے ساتھ کس طرح کا تعلق ہوتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت حَمنہ بنت جحشؓ روایت کرتے ہیں جب ان سے کہا گیا کہ تمہارا بھائی شہید کر دیا گیا ہے تو انہوں نے کہا اللہ اس پر رحم کرے اور کہا اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔ لوگوں نے کہا تمہارے خاوند بھی شہید کر دیے گئے ہیں۔ کہنے لگیں کہ ہائے افسوس۔ اس پر رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ عورت کو خاوند سے ایسا تعلق ہے جو کسی اَور سے نہیں۔
سوال: بنودینارکی ایک عورت کارسول کریم ﷺسے عشق کے بارے میں کون سی روایت ملتی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺبنو دینار کی ایک عورت کے پاس سے گزرے جس کا خاوند، بھائی اور باپ رسول اللہ ﷺکے ساتھ غزوۂ اُحد میں شریک ہوئے تھے اور وہ سب شہید ہو گئے تھے۔ جب انکی تعزیت اس عورت سے کی گئی تو اس نے پوچھا رسول اللہ ﷺکا کیا حال ہے؟تو لوگوں نے کہاکہ اے ام فلاں! آپؐٹھیک ہیں اور الحمدللہ ایسے ہی ہیں جیسے کہ تو پسند کرتی ہے۔ تو اس عورت نے جواب دیا کہ مجھے دکھاؤ۔ میں آپؐکو دیکھنا چاہتی ہوں تو پھر اس عورت کو رسول اللہ ﷺکی طرف اشارہ کر کے دکھایا گیا۔ جب اس نے آنحضرت ﷺکو دیکھا تو کہنے لگی کہ ہر مصیبت آپؐکے بعد معمولی ہے۔
سوال: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ جب اس واقعہ کو پڑھتے تھے تو ان کی کیا کیفیت ہوتی تھی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں کہ میں جب اس عورت کا واقعہ پڑھتا ہوں تو میرا دل اس کے متعلق ادب اور احترام سے بھر جاتا ہے اور میرا دل چاہتا ہے کہ میں اس مقدس عورت کے دامن کو چھوؤں اور پھر اپنے ہاتھ آنکھوں سے لگاؤں کہ اس نے میرے محبوبؐکے لیے اپنی محبت کی ایک بے مثل یادگار چھوڑی ہے۔٭٭