سوال: رسول کریم ﷺنے حضرت ام عمارہ کیلئے کیا دعا فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: رسول کریم ﷺنے حضرت ام عمارہ کیلئے دعا کی کہ اے اللہ! ان کو جنت میں میرا رفیق اور ساتھی بنا۔
سوال: حضرت مصلح موعود ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جنگ اُحد کے حالات کےضمن میں کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضرت مصلح موعود ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺنے زخمیوں اور شہداء کو جمع کیا۔ زخمیوں کی مرہم پٹی کی گئی اور شہداء کے دفنانے کا انتظام کیا گیا۔ اس وقت آپؐکو معلوم ہوا کہ ظالم کفارِ مکہ نے بعض مسلمان شہداء کے ناک کان بھی کاٹ دئیے ہیں۔ چنانچہ یہ لوگ جن کے ناک کان کاٹے گئے ہیں ان میں خود آپؐکے چچا حمزہؓبھی تھے۔ آپؐکو یہ نظارہ دیکھ کر افسوس ہوا اور آپؐنے فرمایا کفّار نے خود اپنے عمل سے اپنے لئے اس بدلہ کو جائز بنا دیا ہے جس کو ہم ناجائز سمجھتے تھے۔ مگر خدا تعالیٰ کی طرف سے اس وقت آپؐکو وحی ہوئی کہ کفّار جو کچھ کرتے ہیں ان کوکرنے دو۔ تم رحم اور انصاف کادامن ہمیشہ تھامے رکھو۔
سوال:حضرت حمزہؓکی تدفین اور تکفین کے بارے میں حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت حمزہؓکو ایک ہی کپڑے میں کفن دیا گیا۔ جب ان کا سر ڈھانکا جاتا تو دونوں پاؤں سے کپڑا ہٹ جاتا اور جب چادر پاؤں کی طرف کھینچ دی جاتی تو ان کے چہرے سے کپڑا ہٹ جاتا۔ اس پر رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ آپؓکا چہرہ ڈھانک دیا جائے اور پاؤں پر حَرمل یا اذخر گھاس رکھ دی جائے۔ حضرت حمزہؓاورحضرت عبداللہ بن جحشؓ کو جو کہ آپؓکے بھانجے تھے ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا۔ نبی کریم ﷺنے سب سے پہلے حضرت حمزہؓکی نماز جنازہ پڑھائی۔
سوال:حضرت کعب بن مالکؓنے حضرت حمزہؓکی شہادت پر اپنے مرثیہ میں کیا کہا؟
جواب: حضورانورنےفرمایا:حضرت کعب بن مالکؓ
نے اپنے مرثیہ میں کہا تھا کہ میری آنکھیں آنسو بہاتی ہیں اور حمزہ کی موت پر انہیں رونے کا بجا طور پر حق بھی ہے۔ مگر خدا کے شیر کی موت پر رونے دھونے اور چیخ و پکار سے کیا حاصل ہو سکتا ہے۔ وہ خدا کا شیر حمزہ کہ جس صبح وہ شہید ہوا دنیا کہہ اٹھی کہ شہید تو یہ جوانمرد ہوا ہے۔
سوال:حضرت مُصعبؓکی تدفین کے بارے میں حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: رسول اللہ ﷺجب حضرت مصعبؓکی نعش کے پاس پہنچے۔ ان کی نعش چہرے کے بل پڑی تھی۔
نبی کریم ﷺنے ان کے پاس کھڑے ہو کر یہ آیت تلاوت فرمائی کہ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوْا اللّٰہَ عَلَیْہِ فَمِنْھُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہٗ وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ وَمَابَدَّلُوْا تَبْدِیْلًا۔(الاحزاب:24) کہ مومنوں میں سے ایسے مرد ہیں جنہوں نے جس بات پر اللہ سے عہد کیا اسے سچا کر دکھایا۔ پس ان میں سے وہ بھی ہے جس نے اپنی منت کو پورا کر دیا اور ان میں سے وہ بھی ہے جو ابھی انتظار کر رہا ہے اور انہوں نے ہرگز اپنے طرز عمل میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺنے فرمایا۔ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ يَشْهَدُ أَنَّكُمُ الشُّهَدَاءُ عِنْدَ اللّٰهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ کہ خدا کا رسول گواہی دیتا ہے کہ تم لوگ قیامت کے دن بھی اللہ کے ہاں شہداء ہو۔ پھر آپ ﷺنے صحابہؓکو مخاطب کر کے فرمایا کہ ان کی زیارت کر لو اور ان پر سلام بھیجو۔ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے روز قیامت تک جو بھی ان پر سلام کرے گا یہ اس کے سلام کا جواب دیں گے۔ حضرت مصعبؓکے بھائی حضرت ابو رُوم بن عُمیرؓحضرت سُوَیْبِط بن سعدؓاور حضرت عامر بن رَبِیعہ ؓنے حضرت مصعبؓکو قبر میں اتارا۔
سوال:غزوۂ اُحد میں صحابیات کے کردارکے بارے میں حضور انور نےکیا بیان فرمایا؟
جواب:حضورانورنےفرمایا:حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی والدہ امّ سَلِیطؓ دُور سے پانی کے مشکیزے بھر بھر کے لاتیںاوردوسری طرف زخمیوں اورپیاسوںکوپانی پلاتیں۔
حضرت امّ عطیہؓنے بھی یہی خدمات سرانجام دیں مگر کچھ
دیگر مسلم خواتین باقاعدہ نیزہ اور تلوار ہاتھ میں لے کر دشمنوں سے دُو بدو جنگ بھی کرتی رہی ہیں۔ ان میں سے ایک حضرت امّ عمارہؓہیں جیساکہ مَیں گذشتہ خطبہ میں بیان کر چکا ہوں کہ جب انہوں نے ابن قمئہ کو رسول اللہ ﷺپر حملہ آور ہوتے دیکھا تو بلا خوف و خطر عرب کے اس شہ سوار کے سامنے مقابلہ کے لیے ڈٹ گئیں اور اس پر متعدد حملے کر کے اسے پسپائی پر مجبور کر دیا۔
بعض صحابیات اُحد کے میدان میں جنگ کے بعد آئیں۔چنانچہ بیان ہوا ہے کہ جب مشرکین چلے گئے تو عورتیں صحابہ کرامؓکے پاس آئیں ان میں آپؐکی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہابھی تھیں۔ وہ جب رسول اللہ ﷺکو ملیں تو ان کو چمٹ گئیں اور آپؐ
کےزخم دھونےلگیںاورعلیؓڈھال کےذریعہ پانی بہاتے تھے لیکن خون زیادہ بہ رہا تھا۔ حضرت فاطمہؓنے چٹائی کا کچھ حصہ جلا کر راکھ بنا لی اور اس سے زخم کی ٹکور کی، یہاں تک کہ وہ زخم کے ساتھ مل گئی اور خون رک گیا۔
حضرت ام عُمارہؓسے روایت ہے کہ غزوۂ اُحد کے دن مَیں یہ دیکھنے کے لیے روانہ ہوئی کہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ میرے پاس پانی کا بھرا ہوا مشکیزہ تھا جو مَیں نے زخمیوں کو پلانے کے لیے ساتھ لیا تھا یہاں تک کہ مَیں آنحضرت ﷺکے پاس پہنچ گئی۔ اس وقت آپ ﷺصحابہؓکے درمیان میں تھے اور مسلمانوں کا پلڑا بھاری تھا۔ پھر اچانک مسلمانوں کو شکست ہو گئی۔ مَیں جلدی سے آنحضور ﷺکے قریب پہنچی اور کھڑی ہو کر جنگ کرنے لگی۔ مَیں تلوار کے ذریعہ دشمنوں کو آپؐکے قریب آنے سے روک رہی تھی۔ساتھ ہی مَیں کمان سے تیر بھی چلا رہی تھی یہاں تک کہ اسی میں خود بھی زخمی ہو گئی۔
سوال: آنحضرت ﷺنے عتبہ بن ابی وقاص کے خلاف کیا دعا کی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آنحضرت ﷺنے عتبہ بن ابی وقاص کے خلاف یہ دعا کی۔ اَللّٰهُمَّ لَا يَحُوْلُ عَلَيْهِ الْحَوْلُ حَتّٰى يَمُوْتَ كَافِرًا۔ اے اللہ! ایک سال گزرنے سے پہلے ہی اس کو کافر کی حیثیت سے موت دے۔
سوال: مصعب بن عمیرؓکے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنے کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓفرماتے ہیں :
اُحد کے شہداء میں ایک صاحب مصعب بن عمیرؓتھے۔ یہ وہ سب سے پہلے مہاجر تھے جو مدینہ میں اسلام کے مبلغ بن کر آئے تھے۔ زمانہ جاہلیت میں مصعبؓمکہ کے نوجوانوں میں سب سے زیادہ خوش پوش اور بانکے سمجھے جاتے تھےاوربڑے نازونعمت میں رہتے تھے۔ اسلام لانے کے بعد ان کی حالت بالکل بدل گئی۔ چنانچہ روایت آتی ہے کہ آنحضرت ﷺنے ایک دفعہ ان کے بدن پر ایک کپڑا دیکھا جس پر کئی پیوند لگے ہوئے تھے۔ آپؐکو ان کا وہ پہلازمانہ یاد آگیا تو آپؐ
چشم پُرآب ہو گئے۔اُحد میں جب مصعب شہید ہوئے تو ان کے پاس اتنا کپڑا بھی نہیں تھا کہ جس سے ان کے بدن کو چھپایا جا سکتا ہو۔ پاؤں ڈھانکتے تھے توسرننگا ہوجاتا تھا اور سر ڈھانکتے تھے توپاؤں کھل جاتے تھے۔ چنانچہ آنحضرت ﷺکے حکم سے سر کو کپڑے سے ڈھانک کر پاؤں کو گھاس سے چھپا دیا گیا۔
…٭…٭…٭…