اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-05-02

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ23فروری 2024 بطرز سوال وجواب

سوال: 20 فروری1886ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کون سی پیشگوئی فرمائی تھی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: 20؍فروری 1886ء کوحضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک مختلف صفات کے حامل بیٹے کی پیدائش کی خبر دی گئی تھی ۔
سوال: حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی کب پیدائش ہوئی؟
جواب: حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیدائش 12؍جنوری 1889ءکو ہوئی۔
سوال: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ مسلم قوم کی بہتری اور بہبودی کیلئے کیا عمل بجا لاتےتھے؟
جواب: مولانا غلام رسول مہر،ایڈیٹرانقلاب فرماتے ہیں:جہاں کہیں مسلم قوم کی بہتری اور بہبودی کا معاملہ درپیش ہوتا آپ کی قابل عمل تجاویز ہمارا حوصلہ بڑھانے کا موجب بنتیں۔ ایسے مواقع پر آپ کا رؤاں رؤاں قومی درد سے تڑپ اٹھتا تھا۔ فرقہ بازی کا تعصّب میں نے اس وجود میں نام کو نہیں دیکھا۔ مرزا صاحب بلا کے ذہین تھے … ہم یاس و افسردگی کی تصویر بنے ان سے ملاقات کے لیے جاتے اور جب باہر آتے تو یوں معلوم ہوتا کہ ناامیدی کے بادل چھٹ گئے ہیں اور مقصد میں کامیابی سامنے نظر آ رہی ہے۔ وزنی دلیل دیتے اور قابل عمل بات کرتے اور پھر اسی پر بس نہیں ہر نوع کی قربانی اور تعاون کی پیشکش بھی ساتھ ہوتی جس سے ہم میں جرأت اور حوصلہ کے جذبات پیدا ہوتے۔
سوال:سیاست میں اپنی جماعتوں کو عام مسلمانوں کے پہلو بہ پہلو چلانے کیلئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے کیا کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا : اخبار سیاست لاہور لکھتا ہے کہ سیاست میں اپنی جماعتوں کو عام مسلمانوں کے پہلو بہ پہلو چلانے میں آپ نے جس اصول عمل کی ابتدا کرکے اس کو اپنی قیادت میں کامیاب بنایا ہے وہ بھی ہر منصف مزاج مسلمان اور حق شناس انسان سے خراج تحسین وصول کرکے رہتا ہے ۔
سوال: ایک امریکی پادری نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی بابت کیا فرمایا؟
جواب: ایک امریکی پادری نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: مَیں نے آج تک ایسی معقول گفتگو اور ایسی مدلل تقریر کسی مسلمان کے منہ سے نہیں سنی۔ معلوم ہوتا ہے کہ تمہارا خلیفہ بہت بڑا سکالر ہے اور مذاہب عالم پر اس کی نظر بڑی گہری ہے ۔
سوال: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کو انسانیت کیلئے کس قدر درد تھا؟
جواب: مولانا غلام رسول صاحب مہرفرماتے ہیں: ایک دفعہ مجھے راتوں رات قادیان جا کر حضرت صاحب سے مشورہ کرنا پڑا۔ وہ سفر اب بھی آنکھوں کے سامنے ہے۔ انسانیت کے لیے اس شخص کے دل میں بڑا درد تھا۔ یعنی حضرت مصلح موعودؓ کے دل میں بڑا درد تھا۔ اورجہاں کہیں مسلم قوم کی بہتری اور بہبودی کا معاملہ درپیش ہوتا آپ کی قابل عمل تجاویز ہمارا حوصلہ بڑھانے کا موجب بنتیں۔ ایسے مواقع پر آپ کا رؤاں رؤاں قومی درد سے تڑپ اٹھتا تھا۔ فرقہ بازی کا تعصّب میں نے اس وجود میں نام کو نہیں دیکھا۔ مرزا صاحب بلا کے ذہین تھے۔
سوال: حضرت مصلح موعود ؓکی تقاریر کی کیا تاثیر ہوا کرتی تھی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: ایک مرتبہ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال صاحب نے حضرت مصلح موعود کی تقریر سنی تو آپ نے فرمایا: ایسی پُراز معلومات تقریر بہت عرصے کے بعد لاہور میں سننے میں آئی ہے۔ خاص کر جو قرآن شریف کی آیات سے مرزا صاحب نے استنباط کیا ہے وہ تو نہایت ہی عمدہ ہے۔ میں اپنی تقریر کو زیادہ دیر تک جاری نہیں رکھ سکتا تا مجھے اس تقریر سے جو لذت حاصل ہورہی ہےوہ زائل نہ ہوجائے۔
سوال: مسلمانوں کادرد رکھتے ہوئے حضرت مصلح موعود ؓ نے شدھی کے خلاف کیا تحریک جاری فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: مسلمانوں کا درد رکھتے ہوئے آپؓ نے 1923ء میںتاریخ شدھی کے خلاف جہاد کا آغاز فرمایا۔ آپ نے یکے بعد دیگرے آنریری مبلغین کے وفود ملکانہ کے علاقے کی جانب روانہ کیے۔اخبار مشرق گورکھ پورنے 29؍مارچ 1923ء کی اشاعت میں لکھا کہ جماعت احمدیہ کے امام و پیشوا کی لگاتار تقریروں اور تحریروں کا اثر ان کے تابعین پر بہت گہرا پڑا ہے اور اس جہاد میں اس وقت سب کے آگے یہی فرقہ نظر آتا ہے اور باوجود اس بات کے احمدی فرقہ کے نزدیک اس گروہ نو مسلم کی تائید کی ضرورت نہ تھی کیونکہ اس فرقہ سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا مگر اسلام کا نام لگا ہوا تھا اس لئے اس کی شرم سےامام جماعت احمدیہ کو جوش پیدا ہوگیا اور آپ کی بعض تقریریں دیکھ کر دل پر بہت ہیبت طاری ہوتی ہے کہ ابھی خدا کے نام پر جان دینے والے موجود ہیں اور اگر ہمارے علماء کو اس بات کا اندیشہ ہو کہ احمدیہ جماعت اپنے عقائد کی تعلیم دے گی تو وہ متفقہ جماعت میں …ایسا خلوص پیدا کرکے آگے بڑھیںکہ ستو کھائیںاور چنے چبائیں اور اسلام کو بچائیںجماعت احمدیہ کے ارکان میں ہم یہ خلوص بیشتر دیکھتے ہیںدیانت، ایفاءِ عہد، اپنے امام کی اطاعت۔ پس یہ جماعت فرد ہے۔ جناب مرزا صاحب اور ان کی جماعت کی عالی حوصلگی اور ایثار کی تعریف کے ساتھ مسلمانوں کو ایسے ایثار کی غیرت دلاتے ہیںدیانت اور امانت جو مسلمانوں کی امتیازی صفتیں تھیں آج وہ ان میں نمایاں ہیں۔ جماعت احمدیہ کی فیاضی اور ایثار کے ساتھ ان کی دیانت اور آمد و خرچ کے ابواب کی درستگی اور باقاعدگی سب سے زیادہ قابل ستائش ہے اور یہی وجہ ہے کہ باوجود آمدن کی کمی کے یہ لوگ بڑے بڑے کام کررہے ہیں۔
سوال: حضرت مصلح موعود ؓ کاسخت مخالفت کی آندھیوں میں کیا رد عمل رہتا تھا؟
جواب:مولانا غلام رسول صاحب مہر بیان کرتے ہیں: سخت مخالفت کی آندھیوں کے باوجود مَیں نے مرزا صاحب کو کبھی افسردہ اور سردمہر نہیں دیکھا۔ مرزا صاحب کے دل کی شمع ہمیشہ روشن رہی۔
سوال: جناب لالہ کَنور سَین صاحب سابق چیف جج کشمیر نے جب حضرت مصلح موعود ؓ کی تقریر ’’عربی زبان کا مقام اَلْسِنَہ عَا لَمْ ‘‘سنی تو آپ نے کیا اظہار فرمایا؟
جواب:: لالہ کَنور سَین صاحب سابق چیف جج کشمیرکہتے ہیں جب مَیں لیکچر سننے کے لیے آیا تو اس وقت مَیں نے خیال کیا کہ مضمون اس رنگ میں بیان کیا جائے گا جس طرح پرانی طرز کے لوگ بیان کرتے ہیں۔ کہنے لگے مشہور ہے کہ کسی عرب سے ایک دفعہ زبانِ عربی کی فضیلت کی وجہ دریافت کی گئی تو اس نے کہا اس کی فضیلت کی تین وجہ ہیں۔ پہلی یہ کہ مَیں عرب کا رہنے والا ہوں۔ یہ عربی کی فضیلت ہے۔ دوسری یہ کہ قرآنِ مجید کی زبان ہے۔ چلو یہ ماننے والی بات ہے۔ تیسرے اس لیے کہ جنت میں بھی عربی بولی جائے گی۔ کہتے ہیں کہ مَیں سمجھتا تھا کہ شاید اس قسم کی باتیں زبانِ عربی کی فضیلت میں پیش کی جائیں گی مگر جو لیکچر دیا گیا وہ نہایت ہی عالمانہ اور فلسفیانہ شان اپنے اندر رکھتا ہے۔ مَیں جناب مرزا صاحب کو یقین دلاتا ہوں کہ مَیں نے ان کے لیکچر کے ایک ایک حرف کو پوری توجہ اور کامل غور کے ساتھ سنا ہے اور مَیں نے اس سے بہت ہی حظ اٹھایا اور فائدہ حاصل کیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس لیکچر کا اثر مدتوں میرے دل پر قائم رہے گا۔
سوال: حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے وصال پر مولانا عبدالماجد صاحب نے اپنے اخبار صدق جدید لکھنؤ میں کیا لکھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے وصال پر مولانا عبدالماجد صاحب نے اپنے اخبار صدق جدید لکھنؤ کی 18؍نومبر 1965ء کی اشاعت میں لکھا کہ دوسرے عقیدے ان کے جیسے بھی ہوں، قرآن و علومِ قرآنی کی عالمگیر اشاعت اور اس کی آفاق گیر تبلیغ میں جو کوششیں انہوں نے سرگرمی اور اولوالعزمی سے اپنی طویل عمر میں جاری رکھیں ان کا صلہ اللہ تعالیٰ انہیں عطا فرمائے۔ یہ خود مفسر قرآن ہیں اور یہ بات مصلح موعودؓ کے بارے میں بیان فرما رہے ہیں۔ اور ان خدمات کے طفیل میں ان کے ساتھ عام معاملہ درگذر کافرمائے۔ خیر آگے لکھتے ہیں کہ علمی حیثیت سے قرآنی حقائق و معارف کی جو تشریح و تبیین اور ترجمانی وہ کرگئے ہیں اس کا بھی ایک بلند و ممتاز مرتبہ ہے۔
…٭…٭…٭…