سوال: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُحد کے شہداء کو دفن کرنے کیلئے تشریف لائے تو آپ نے کیا فرمایا؟
جواب: حضرت جابر بن عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُحد کے شہداء کو دفن کرنے کے لیے تشریف لائے تو آپؐنے فرمایا: ان کو ان کے زخموں سمیت ہی کفن دے دو کیونکہ میں ان پر گواہ ہوں اور کوئی مسلمان ایسا نہیں جو اللہ کی راہ میں زخمی کیا جائے مگر وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کا خون بہ رہا ہو گا اور اس کا رنگ زعفران کا ہو گا اور اس کی خوشبو کستوری کی ہو گی۔
سوال: حضرت عبد اللہ بن عمروؓاور حضرت عمرو بن جموح کوایک ہی قبر میں کیوں دفن کیا گیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت عبداللہ بن عَمروؓ اُحد کے روز سب سے پہلے شہید ہوئے۔ ان کی تدفین کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ بن عَمرو اور عمرو بن جَمُوح کو ایک ہی قبر میں دفن کرو کیونکہ ان کے درمیان اخلاص اور محبت تھی۔
سوال: کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے شہداء کی نماز جنازہ پڑھائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت امام شافعیؒ بیان کرتے ہیں کہ متواتر روایات سے یہ بات پختہ طور پر معلوم ہوتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ اُحد کے شہداء کا جنازہ نہیں پڑھا اور جن روایات میں ذکر آیاہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان شہداء کا جنازہ پڑھا اور حضرت حمزہؓ پر سترّ تکبیرات کہی تھیں یہ بات درست نہیں ہے اور جہاں تک حضرت عقبہ بن عامرؓکی روایت کا تعلق ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ سال کے بعد ان شہداء کا جنازہ پڑھا تھا تو اس روایت میں اس بات کا ذکر ہوا ہے کہ یہ آٹھ سال بعد کا واقعہ ہے۔
سوال:حضرت شَمَّاسْ بن عُثْمانؓ کی شہادت کس طرح ہوئی ؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت شماس بن عثمانؓ غزوۂ بدر اور اُحد میں شامل ہوئے۔ آپؓ غزوہ اُحد میں بہت جانفشانی سے لڑے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے شماس بن عثمان کو ڈھال کی مانند پایاہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں یا بائیں جس طرف بھی نظر اٹھاتے شماس کو وہیں پاتے جو جنگِ اُحد میں اپنی تلوار سے مدافعت کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غشی طاری ہو گئی جب آپؐ پر حملہ ہوا اور پتھر آ کے لگا۔ حضرت شماسؓ نے اپنے آپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈھال بنا لیا تھا یہاں تک کہ آپؓ شدید زخمی ہو گئے اور آپ یعنی حضرت شماس ؓکو اسی حالت میں مدینہ اٹھا کر لایا گیا۔ آپؓ میں ابھی کچھ جان باقی تھی۔ ان کو حضرت عائشہؓ کے ہاں لے جایا گیا۔ حضرت ام سلمہؓ نے کہا کہ کیا میرے چچا زاد بھائی کو میرے سوا کسی اَور کے ہاں لے جایا جائے گا۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں حضرت ام سلمہؓ کے پاس اٹھا کر لے جاؤ۔ پس آپ کو وہیں لے جایا گیا اور آپ نے انہی کے گھر وفات پائی۔ آپ اُحد سے زخمی ہو کے آئے تھے۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے حضرت شماس ؓکو مقام اُحد میں لے جا کر انہی کپڑوں میں دفن کیا گیا۔ دو دن بعد مدینہ میں وفات ہو گئی لیکن دفن ان کو اُحد میں جا کے کیا گیا۔ جب جنگ کے بعد آپؓ کو زخمی حالت میں اٹھا کر مدینہ لایا گیا تو وہاں ایک دن اور ایک رات تک زندہ رہے تھے اور اس دوران کہا جاتا ہے کہ انہوں نے کچھ کھایا پیا نہیں۔ انتہائی کمزوری کی حالت تھی بلکہ بیہوشی کی حالت تھی۔ حضرت شماسؓ کی وفات چونتیس سال کی عمر میں ہوئی تھی۔
سوال:حضرت نعمان بن مالکؓ کی شہادت کس طرح ہوئی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت نعمان بن مالکؓ غزوۂ بدر و اُحد میں شریک ہوئے اور غزوۂ اُحد میں شہید ہوئے۔ انہیں صفوان بن امیہؓ نے شہید کیا تھا۔ ایک دوسری روایت کے مطابق حضرت نعمان بن مالکؓ کو اَبَان بن سعیدنے شہید کیا تھا۔ حضرت نعمان بن مالکؓ، حضرت مُجَذَّرْ بن زیادؓ اور حضرت عبادہ بن حَسْحَاسؓ کو غزوۂ اُحد کے موقع پر ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا تھا۔
سوال: صحابہ ؓ کا اللہ تعالیٰ سے پیار کرنے کا کیا انداز ہوتا تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت مطلب بن عبد اللہ بن حنطبؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس روز اُحد کی جانب روانہ ہوئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے راستے میں مدینہ کے قریب ایک جگہ شیخین کے پاس رات قیام کیا جہاں حضرت ام سلمہ ؓایک بھنی ہوئی دستی لائیں جس میں سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا اسی طرح نبیذ لائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبیذ بھی پی۔ یہ بھی ایک قسم کا کھانا ہے جو ہریرے کی طرح پتلا ہوتا ہے۔ پھر ایک شخص نے وہ نبیذ والا پیالہ لے لیا اور اس میں سے کچھ پیا۔ پھر وہ پیالہ حضرت عبداللہ بن جحشؓ نے لے لیا اور اس کو ختم کر دیا۔ایک آدمی نے حضرت عبداللہ بن جحشؓ سے کہا کہ کچھ مجھے بھی دے دو۔ تمہیں معلوم ہے کہ کل صبح تم کہاں جاؤ گے؟ یعنی جنگ ہونی ہے کیا پتہ کس نے شہید ہونا ہے کس نے زندہ رہنا ہے۔ حضرت عبداللہ بن جحشؓ نے کہا کہ ہاں مجھے معلوم ہے مجھے اپنی شہادت کا یقین ہے۔ پھر کہنے لگے کہ مجھے اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملنا کہ میں سیراب ہوں یعنی اچھی طرح کھایا پیا ہو اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں اسے پیاسا ہونے کی حالت میں ملوں۔ …٭…٭…