اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-04-25

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ9فروری 2024 بطرز سوال وجواب

سوال: جب رسول اللہ ﷺنے اُعْلُ ھُبَلْ کا نعرہ سنا تو آپ نے صحابہ سے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نےفرمایا:رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں جب آواز پڑی اُعْلُ ھُبَلْ۔ اُعْلُ ھُبَلْ۔ہبل کی شان بلند ہو، ہبل کی شان بلند ہو تو اس کے جذبۂ توحید نے جوش مارا کیونکہ اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سوال نہیں تھا اب ابوبکرؓ اور عمرؓ کا سوال نہیں تھا۔اب اللہ تعالیٰ کی عزت کا سوال تھا۔ آپؐ نے بڑے جوش سے فرمایا تم کیوں جواب نہیں دیتے۔ صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہؐ! ہم کیا جواب دیں؟ آپؐ نے فرمایا کہو اَللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔ اَللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔ہبل کیا چیز ہے خدا تعالیٰ کی شان بلند ہے خداتعالیٰ کی شان بلند ہے۔
سوال: حضرت سعید بن ربیعؓ نے شہادت سے قبل کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت سعید بن ربیعؓ نے شہادت سے قبل فرمایا: میرے بھائی مسلمانوں کو میراسلام پہنچا دینا اورمیری قوم اورمیرے رشتہ داروں سے کہنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پا س خدا تعالیٰ کی ایک بہترین امانت ہیں اورہم اپنی جانوں سے اس امانت کی حفاظت کرتے رہے ہیں۔ اب ہم جاتے ہیں اور اس امانت کی حفاظت تمہارے سپرد کرتے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ تم اس کی حفاظت میں کمزوری دکھاؤ۔
سوال:  آنحضرت ﷺکو خدا تعالیٰ کیلئے کس قدر غیرت تھی؟
جواب: حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں :احادیث میں آتا ہے کہ غزوۂ اُحد میں جب ابوسفیان نے بڑے زور سے کہا کہ لَنَا عُزّٰی وَلَا عُزّٰی لَکُمْ۔یعنی ہماری تائید میں ہمارا عزیٰ بت ہے مگر تمہاری تائید میں کوئی بت نہیں تو اس وقت رسول کریمﷺ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ تم کہو لَنَا مَوْلٰی وَلَا مَوْلٰی لَکُمْ۔ہمارا ولی اور ہمارا مددگار ہمارا حی ّو قیوم خدا ہے مگر تمہارا کوئی والی اور مددگار نہیں۔یہ اَنتَ مَولٰنَا کی سچائی کا کیسا عملی ثبوت تھا کہ تلواروں کے سایہ میں بھی انہوں نے یہی کہا کہ اللہ ہمیں بچا سکتا ہے۔
سوال: انبیاء پر مصائب جو آتے ہیں اسکے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کیا فرمایا؟
جواب: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرماتے ہیں:انبیاء پر جو مصائب آتے ہیں ان میں بھی اللہ تعالیٰ کے ہزار ہا اسرار ہوتے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت سے مصائب آتے تھے۔ جنگ اُحد میں ایک روایت ہے کہ آپؐ کو ستر تلواروں کے زخم لگے تھے اور مسلمانوں کی ظاہری حالت خراب دیکھ کر کفار کو بڑی خوشی ہوئی۔ چنانچہ ایک کافر نے یہ یقین کرکے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے اصحاب کبار سب شہید ہوگئے ہوں
گے بآواز بلند پکار کر کہا کہ کیا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تم میں ہے؟ آنحضرتؐ نے کہا کہ خاموش رہو۔ اس کا جواب نہ دو۔ خاموشی سے اسے خوشی ہوئی کہ فوت ہوگئے ہوں گے اس واسطے جواب نہیں آیا۔ پھر اسی طرح اس نے حضرت ابوبکرؓ کے متعلق آواز دیا۔ تب بھی ادھر سے خاموشی اختیار کی۔ پھر اس نے حضرت عمرؓ کے متعلق آواز دیا۔ حضرت عمرؓ سے نہ رہا گیا۔ انہوں نے کہا کمبخت کیا بکتاہے۔ سب زندہ ہیں۔ ایسی تلخیوں کا دیکھنا بھی ضروری ہوتاہے مگر ان کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب اس کے بعد کفار ہم پر چڑھائی نہ کریں گے۔بلکہ ہم کفار پر چڑھائی کریں گے۔ مکہ سے نکلنے کے وقت آنحضرت ﷺ پر کیسی تلخی کا وقت تھا۔
سوال: مکہ کے جن اکابر نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مارنا چاہا ان کے ساتھ کیا ہوا؟
جواب: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:مکہ کے جن اکابر نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مارنا چاہا کیا آج دنیا میں ان لوگوں کا کوئی نام لیوا ہے؟ اُحد کے مقام پر ابوسفیان نے آواز دی تھی اور کہا تھا کیا تم میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہے؟ اور جب اس کا جواب نہ ملا تو اس نے کہا ہم نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو مارڈالا ہے۔ پھر اس نے آواز دی۔ کیا تم میں ابو بکرؓ ہے؟ اور جب اس کا بھی جواب نہ ملا تو اس نے کہا ہم نے ابو بکرؓ کو بھی مار ڈالا ہے۔ پھر اس نے پوچھا کیا تم میں عمرؓ ہے؟ جب اس کا بھی جواب نہ ملا تو اس نے کہا ہم نے عمرؓ کو بھی مار ڈالا ہے۔لیکن آج جاؤ اور دنیا کے کناروں پر اس آواز دینے والے کے ہمنوا کفار کے سردار ابوجہل کو بلاؤ اور آواز دو کہ کیا تم میں ابوجہل ہے؟ تو تم دیکھو گے کہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر تو کروڑوں آوازیں بلند ہونا شروع ہوجائیں گی اور ساری دنیا بول اٹھے گی کہ ہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں موجود ہیں کیونکہ آپ کی نمائندگی کا شرف ہمیں حاصل ہے۔ لیکن ابوجہل کو بلانے پر تمہیں کسی گوشہ سے بھی آواز اٹھتی سنائی نہیں دےگی۔ ابوجہل کی اولاد آج بھی دنیا میں موجود ہے مگر کسی کو جرأت نہیں کہ وہ یہ کہہ سکے کہ میں ابوجہل کی اولاد میں سے ہوں۔ شاید عُتْبَہ اور شَیْبَہ کی اولاد بھی آج دنیا میں موجود ہو مگر کیا کوئی کہتا ہے کہ میں عتبہ اور شیبہ کی اولاد ہوں ۔
سوال: حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنے حضرت سعدؓکی شہادت کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب:حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے حضرت سعدؓکی شہادت کے بارے میں فرمایا:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے روز بھی میدان میں اتر آئے ہوئے تھے اور شہداء کی نعشوں کی دیکھ بھال شروع تھی۔ جو نظارہ اس وقت مسلمانوں کے سامنے تھا وہ خون کے آنسو رلانے والا تھا۔ستر مسلمان خاک وخون میں لتھڑے ہوئے میدان میں پڑے تھے اور عرب کی وحشیانہ رسم مُثْلہ کا مہیب نظارہ پیش کر رہے تھے۔ان مقتولین میں صرف چھ مہاجر تھے اور باقی سب انصار سے تعلق رکھتے تھے۔ قریش کے مقتولوں کی تعداد تئیس تھی۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا اور رضاعی بھائی حمزہ بن عبدالمطلبؓ کی نعش کے پاس پہنچے تو بے خود ہوکر رہ گئے کیونکہ ظالم ہند زوجہ ابوسفیان نے ان کی نعش کو بُری طرح بگاڑا ہوا تھا۔ تھوڑی دیر تک تو آپؐ خاموشی سے کھڑے رہے اور آپؐ کے چہرہ سے غم وغصہ کے آثار نمایاں تھے۔ ایک لمحہ کے لئے آپؐ کی طبیعت اس طرف بھی مائل ہوئی کہ مکہ کے ان وحشی درندوں کے ساتھ جب تک انہی کا سا سلوک نہ کیا جائے گا وہ غالباً ہوش میں نہیں آئیں گے۔مگر آپؐ اس خیال سے رک گئے اور صبر کیا بلکہ اس کے بعد آپؐ نے مُثْلہ کی رسم کواسلام میں ہمیشہ کے لئے ممنوع قرار دےدیا اور فرمایا کہ دشمن خواہ کچھ کرے تم اس قسم کے وحشیانہ طریق سے بہر حال باز رہو اور نیکی اور احسان کا طریق اختیار کرو۔قریش نے دوسرے صحابہؓ کی نعشوں کے ساتھ بھی کم و بیش یہی وحشیانہ سلوک کیا تھا۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ کے پھوپھی زاد بھائی عبداللہ بن جَحْش ؓکی نعش کو بھی بری طرح بگاڑا گیا تھا۔ جوں جوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک نعش سے ہٹ کر دوسری نعش کی طرف جاتے تھے آپؐ کے چہرہ پر غم والم کے آثار زیادہ ہوجاتے تھے۔
سوال: سعد بن ربیع انصاریؓکی آنحضرت ﷺسے عشق و محبت کے بارے میں حضرت مصلح موعود ؓکیا فرمایا؟
جواب: حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:جنگ اُحدکا ایک واقعہ ہے۔ جنگ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی ابن کعبؓ کو فرمایا کہ جاؤ اورزخمیوں کو دیکھو۔ وہ دیکھتے ہوئے حضرت سعد بن ربیعؓ کے پاس پہنچے جو سخت زخمی تھے اور آخری سانس لے رہے تھے۔ انہوں نے ان سے کہا کہ اپنے متعلقین اور اعزاء کو اگر کوئی پیغام دینا ہو تو مجھے دےدیں۔ حضرت سعدؓ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میں منتظر ہی تھاکہ کو ئی مسلمان ادھر آئے توپیغام دوں۔ تم میرے ہاتھ میں ہاتھ دے کر وعدہ کروکہ میراپیغام ضرور پہنچادو گے۔‘‘ اب اس حالت میں بھی اتنی ہوش تھی کہ کہا میرے ہاتھ میں ہاتھ دو۔ پکا وعدہ ہونے کا یہ ایک طریق ہے، ایک اظہار ہے کہ میرا پیغام ضرور پہنچا دو گے۔ ’’اور اس کے بعد انہوں نے جو پیغام دیا و ہ یہ تھاکہ میرے بھائی مسلمانوں کو میراسلام پہنچا دینا اورمیری قوم اورمیرے رشتہ داروں سے کہنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پا س خدا تعالیٰ کی ایک بہترین امانت ہیں۔ اورہم اپنی جانوں سے اس امانت کی حفاظت کرتے رہے ہیں۔ اب ہم جاتے ہیں اور اس امانت کی حفاظت تمہارے سپرد کرتے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ تم اس کی حفاظت میں کمزوری دکھاؤ۔ ٭…٭…٭