سوال:جب مشرکین نے اعل حبل کا نعرہ بلند کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو کیا کہا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اب جبکہ خدائے واحد کی عزت کا سوال پیدا ہوا اور شرک کا نعرہ میدان میں ماراگیا تو آپؐ کی روح بے تاب ہوگئی اور آپؐ نے نہایت جوش سے صحابہؓ کی طر ف دیکھ کر فرمایا تم لوگ جواب کیوں نہیں دیتے؟ صحابہؓ نے کہا یا رسول اللہؐ! ہم کیا کہیں؟ فرمایا کہو اَللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَلُّ۔ اَللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَلُّ۔ تم جھوٹ بولتے ہو کہ ہبل کی شان بلند ہوئی۔ یہ جھوٹ ہے تمہارا۔ اللّٰہ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْک ہی معزز ہے اوراس کی شان بالا ہے۔
سوال: اُحد کی جنگ کے بعد کسی شخص نے طلحہؓ سے پوچھا کہ جب تیر آپؐ کے ہاتھ پر گرتے تھے تو کیا آپ کو درد نہیں ہوتی تھی اس پر آپؓنے کیا کہا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اُحد کی جنگ کے بعد کسی شخص نے طلحہؓ سے پوچھا کہ جب تیر آپؐ کے ہاتھ پر گرتے تھے تو کیا آپ کو درد نہیں ہوتی تھی اور کیا آپ کے منہ سے اُف نہیں نکلتی تھی؟ طلحہؓ نے جواب دیا۔ درد بھی ہوتی تھی اور اُف بھی نکلنا چاہتی تھی لیکن میں اُف کرتا نہیں تھا تا ایسا نہ ہو کہ اُف کرتے وقت میرا ہاتھ ہل جائے اور تیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ پر آگرے۔
سوال : جو بھی تیر سعدؓچلاتے اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے تھے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:سعدؓ کہتے ہیں کہ مَیں نے جو تیر بھی چلایا تو رسول اللہ ﷺ اس کیساتھ یہ فرماتے: اے اللہ! اسکے نشانے کو درست کر دے اور اسکی دعا کو قبول کر لے حتی کہ جب مَیں اپنے ترکش کے تیر چلا کر فارغ ہوا تو رسول اللہﷺ نے اپنے ترکش کے تیر پھیلا دیے۔
سوال: غزوۂ اُحد میں ابودجانہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کس طرح حفاظت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: غزوۂ اُحد میں حضرت ابودجانہ رسول اللہ ﷺ کی حفاظت میں آپکی ڈھال بنے ہوئے تھے۔ وہ آنحضرت ﷺ کے سامنے آپ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوگئے۔ جو تیر بھی آتا وہ حضرت ابودجانہؓ کی کمر پر لگتا۔ وہ جھکے ہوئے کھڑے تھے اور تمام تیر اپنی کمر پر لے رہے تھے یہاں تک کہ انکی کمر میں بےشمار تیر پیوست ہو گئے۔
سوال: جنگ احد میں حضرت علی کی بہادری کے متعلق کیا ذکر ملتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت علیؓ کے بارے میں روایت میں آتا ہے کہ غزوۂ اُحد کے موقع پر جب ابنِ قَمِئہ نے حضرت مصعب بن عمیرؓ کو شہید کیا تو اس نے یہ گمان کیا کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کو شہید کردیاہے۔چنانچہ وہ قریش کی طرف لَوٹا اور کہنے لگا کہ مَیں نے محمد ﷺ کو قتل کر دیا ہے۔ جب حضرت مصعبؓشہید ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے جھنڈا حضرت علیؓ کے سپرد کیا۔ چنانچہ حضرت علیؓ اور باقی مسلمانوں نے لڑائی کی۔حضرت علیؓ نے یکے بعد دیگرے کفار کے علمبرداروں کو تہ تیغ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کی ایک جماعت دیکھ کر حضرت علی ؓکو ان پر حملہ کرنے کا ارشاد فرمایا۔ حضرت علیؓ نے عمرو بن عبداللہ جمحی کو قتل کردیا اور انہیں منتشر کر دیا۔ پھر آپؐ نے کفار کے دوسرے دستے پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ حضرت علیؓ نے شَیْبَہ بن مالک کو ہلاک کیا توحضرت جبرئیلؑ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یقیناً یہ ہمدردی کے لائق ہے یعنی حضرت علیؓ کے بارے میں یہ کہا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں علی مجھ سے ہے اور مَیں علی سے ہوں۔ تو جبرئیلؑ نے کہا کہ مَیں آپ دونوں میں سے ہوں۔
سوال: غزوہ احد میں حضرت علی کو کتنے زخم لگے تھے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:سعید بن مُسَیِّبؓسے روایت ہے کہ غزوۂ اُحد میں حضرت علی ؓکو سولہ زخم لگے تھے۔
سوال: غزوہ احد سے واپس آکر حضرت علی ؓنےجب حضرت فاطمہؓکو کہا کہ آج اس تلوار نے بڑا کام کیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟
جواب:حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : حضرت علیؓ نے اُحد سے واپس آ کر حضرت فاطمہؓ کو اپنی تلوار دی اور کہا اسکو دھو دوآج اس تلوار نے بڑا کام کیا ہے۔ رسول کریم ﷺ حضرت علیؓ کی یہ بات سن رہے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: علیؓ! تمہاری ہی تلوار نے کام نہیں کیا اَور بھی بہت سے تمہارے بھائی ہیں جنکی تلواروں نے جوہر دکھائے ہیں۔ آپؐ نے چھ سات صحابہؓ کے نام لیتے ہوئے فرمایا۔ ان کی تلواریں تمہاری تلوار سے کم تو نہ تھیں۔
سوال: حضرت ابوطلحہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کس طرح حفاظت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہؓ ایک ہی ڈھال سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرتے تھے اور حضرت ابوطلحہؓ اچھے تیر انداز تھے۔ جب وہ تیر چلاتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جھانکتے اور ان کے تیر پڑنے کی جگہ کو دیکھتے۔
سوال: غزوہ احد میں حضرت ابوطلحہ ؓکے کون سے شعر کا ذکر ملتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:غزوۂ اُحد میں حضرت ابوطلحہؓ کے اس شعر کے پڑھنے کا بھی ذکر آتا ہے کہ
وَجْہِیْ لِوَجْہِکَ الْوِقَاءُ ٭ وَ نَفْسِیْ لِنَفْسِکَ الْفِدَاءُ
میرا چہرہ آپؐ کے چہرے کو بچانے کے لیے ہے اور میری جان آپؐ کی جان پر قربان ہے۔
سوال: حضور انور نے حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ کے بارے میں کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضور انورنے فرمایا:حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ جنگ اُحدکے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بچاتے ہوئے یہ تیر اپنے ہاتھوں پہ لیتے تھے۔ حضرت طلحہؓ اُحد کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جو اس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ثابت قدم رہے اور آپؐ سے موت پر بیعت کی۔ مالک بن زُھَیْرنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تیر مارا تو حضرت طلحہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو اپنے ہاتھ سے بچایا۔ تیر اُن کی چھوٹی انگلی پر لگا جس سے وہ بےکار ہو گئی۔ جس وقت انہیں پہلا تیر لگا تو تکلیف سے سی کی آواز نکلی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ بسم اللہ کہتے تو اس طرح جنت میں داخل ہوتے کہ لوگ انہیں دیکھ رہے ہوتے۔ ٭٭