اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-04-18

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ26؍جنوری 2023 بطرز سوال وجواب

سوال: جنگ احد کے دن حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ کی لاش کو کس حال میں پایا گیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت انس بن نضرؓ کو اس حال میں پایا کہ ان کے جسم پر ستّر زخموں کے نشان تھے اور ان کی لاش کو کوئی نہ پہچان سکا سوائے ان کی بہن کے۔ انہوں نے انگلیوں کے پوروں سے ان کو پہچانا۔
سوال:آنحضرت ﷺ کو جنگ میں جو زخم پہنچے تھے اسکی تفصیل میں حضور انور نے کون سی روایات بیان فرمائی؟
جواب: حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگ میں جو زخم پہنچے تھےاسکی تفصیل میں بعض روایات اس طرح ہیں۔
حضرت ابن عباسؓ کی روایت کے مطابق اس موقع پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اِشْتَدَّ غَضَبُ اللّٰهِ عَلٰى مَنْ قَتَلَهُ النَّبِيُّ فِي سَبِيْلِ اللّٰهِ، اِشْتَدَّ غَضَبُ اللّٰهِ عَلٰى قَوْمٍ دَمَّوْا وَجْهَ نَبِيِّ اللّٰهِ۔ اللہ تعالیٰ کا غضب اس شخص پر سخت ہو جاتا ہے جسے اللہ کے نبی ﷺنے اللہ کے راستے میں قتل کیا ہو اور اللہ تعالیٰ کا غضب اس قوم پر سخت ہو جاتا ہے جس نے رسول اللہﷺ کا چہرہ خون آلود کر دیا ہو۔
طبرانی کی روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ زخمی ہوئے تو فرمایا اِشْتَدَّ غَضَبُ اللّٰهِ عَلٰى قَوْمٍ كَلَّمُوْا وَجْهَ رَسُوْلِ اللّٰهِ۔اس قوم پر اللہ کا غضب انتہائی سخت ہو جاتا ہے جس نے رسول اللہﷺ کے چہرۂ مبارک کو زخمی کیا۔ پھر تھوڑی دیر رک کر فرمایا اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِيْ فَاِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ۔اَے اللہ! میری قوم کو بخش دے کیونکہ وہ نادان ہیں۔
صحیحین کی روایت میں بھی یہی ہے کہ آپ ﷺ بار بار فرما رہے تھے اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِيْ فَاِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ۔اَے اللہ! میری قوم کو بخش دے کیونکہ وہ نادان ہیں۔
سوال: جو زخم آنحضرت ﷺ کو جنگ احد میں پہنچے اس کی تفصیل میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓکیا فرماتے ہیں؟
جواب: حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: درّہ میں پہنچ کر آنحضرتﷺ نے حضرت علیؓ کی مدد سے اپنے زخم دھوئے اور جو دو کڑیاں آپؐکے رخسار میں چبھ کر رہ گئی تھیں وہ ابوعبیدہ بن الجراح ؓنے بڑی مشکل سے اپنے دانتوں کے ساتھ کھینچ کھینچ کرباہر نکالیں حتیٰ کہ اس کوشش میں ان کے دو دانت بھی ٹوٹ گئے۔ اس وقت آپؐکے زخموں سے بہت خون بہ رہا تھا اور آپؐاس خون کو دیکھ کر حسرت کے ساتھ فرماتے تھے۔ کَیْفَ یَفْلَحُ قَوْمٌ خَضَبُوْا وَجْہَ نَبِیِّھِمْ بِالدَّمِ وَھُوَ یَدْعُوْھُمْ اِلٰی رَبِّھِمْ۔ ’’کس طرح نجات پائے گی وہ قوم جس نے اپنے نبی کے منہ کو اسکے خون سے رنگ دیا۔اس جرم میں کہ وہ انہیں خدا کی طرف بلاتا ہے۔‘‘ اسکے بعد آپؐ تھوڑی دیر کیلئے خاموش ہوگئے اور پھر فرمایا اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِقَوْمِیْ فَاِنَّہُمْ لَایَعْلَمُوْنَ۔ یعنی ’’اَے میرے اللہ! تُو میری قوم کومعاف کر دے کیونکہ ان سے یہ قصور جہالت اور لاعلمی میں ہوا ہے۔‘‘ روایت آتی ہے کہ اسی موقعہ پر یہ قرآنی آیت نازل ہوئی کہ لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِشَیْئٌ۔ یعنی عذاب وعفو کامعاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اس سے تمہیں کوئی سروکار نہیں۔ خدا جسے چاہے گا معاف کرے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا۔ پھر لکھتے ہیں کہ ’’فاطمۃ الزہراؓ جو آنحضرت ﷺکے متعلق وحشتناک خبریں سن کر مدینہ سے نکل آئی تھیں وہ بھی تھوڑی دیر کے بعد اُحد میں پہنچ گئیں اورآتے ہی آپؐکے زخموں کودھونا شروع کر دیا، مگر خون کسی طرح بندہونے میں ہی نہیں آتا تھا۔ آخر حضرت فاطمہؓ نے چٹائی کاایک ٹکڑا جلا کر اسکی خاک آپؐکے زخم پرباندھی تب جا کر کہیں خون تھما۔ دوسری خواتین نے بھی اس موقعہ پرزخمی صحابیوں کی خدمت کر کے ثواب حاصل کیا۔
سوال: آنحضرت ﷺکواپنے دشمنوں سے کس طرح کی ہمدردی تھی؟
جواب: حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : غزوہ اُحد کے موقعہ پر ایک پتھر آپؐکے خَود پرآلگا اور اسکے کیل آپؐکے سر میں گھس گئےاور آپؐبے ہوش ہو کر ان صحابہؓ کی لاشوں پر جاپڑے جو آپؐکے ارد گر د لڑتے ہوئے شہید ہوچکے تھے اوراسکے بعد کچھ اَور صحابہؓ کی لاشیں آپؐکے جسم اطہر پر جا گریں اور لوگوں نے یہ سمجھا کہ آپؐمارے جا چکے ہیں۔ مگرجب آپؐکو گڑھے سے نکالا گیا اور آپؐکو ہوش آیا تو آپؐنے یہ خیال ہی نہ کیا کہ دشمن نے مجھے زخمی کیا ہے۔ میرے دانت توڑدیئے ہیں اور میرے عزیزوں اوررشتہ داروں اور دوستوں کو شہید کر دیا ہے بلکہ آپؐنے ہوش میں آتے ہی دعاکی کہ رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِیْ فَاِنَّھُمْ لَایَعْلَمُوْنَاے میرے ربّ! یہ لو گ میرے مقام کو شناخت نہیں کرسکے اس لئے تُوان کو بخش دے اوران کے گناہوں کو معاف فرما دے۔
سوال: جنگ احد کے دن فرشتوں کی شمولیت کے بارے میں کیا ذکر ملتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حارث بن صِمَّہؓفرماتے ہیں کہ اُحد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھاٹی میں تھے۔ آپ ﷺنے مجھ سے عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے بارے میں پوچھا تو مَیں نے عرض کیا کہ مَیں نے ان کو پہاڑ کی جانب دیکھا ہے تو آپﷺ نے فرمایا:بیشک فرشتے ان کے ساتھ قتال کر رہے ہیں۔ حارثؓ کہتے ہیں پھر مَیں عبدالرحمٰن ؓکی طرف لوٹا تو مَیں نے ان کے سامنے سات کفار کو مرے ہوئے دیکھا تو مَیں نے کہا تیرا دایاں ہاتھ کامیاب ہو گیا۔ ان سب کو آپؓ نے قتل کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اس اور اس کو میں نے قتل کیا ہے اور ان لوگوں کو ایسے شخص نے قتل کیا ہے جس کو مَیں نے نہیں دیکھا۔تو مَیں نے کہا اللہ اور اس کے رسولؐ نے ہم سے سچ کہا تھا۔ یعنی فرشتے ان کے ساتھ مل کر قتال کر رہے تھے۔
عبداللہ بن فضل بن عباسؓ روایت فرماتے ہیں: اُحد کے دن رسول اللہ ﷺ نے مصعب بن عمیرؓ کو جھنڈا دیا تو مصعب ؓشہید ہو گئے تو اس جھنڈے کو ایک فرشتے نے مصعب کی صورت میں پکڑ لیا تو رسول اللہﷺ فرمانے لگے: اے مصعب! آگے بڑھو تو فرشتے نے آپؐکی طرف متوجہ ہو کر کہا مَیں مصعب نہیں تو رسول اللہﷺ پہچان گئے کہ یہ فرشتہ ہے اسکے ذریعہ آپؐکی مدد کی گئی ہے۔
سوال: حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒنے جنگ احد کے دن فرشتوں کی شمولیت کے بارے میںکیا بیان فرمایا؟
جواب:حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒفرماتے ہیں: صحابہ رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ جنگ بدر میں جو فرشتے دیکھے گئے ان کے سروں پر سیاہ پگڑیاں تھیں اور ان کی ایک یونیفارم تھی۔ صحابہؓ نے جب ان فرشتوں کو مختلف حالتوں میں دیکھا تو اسی طرح سیاہ پگڑیاں انہوں نے پہنی ہوئی تھیں۔ جب روایتیں اکٹھی ہوئیں تو وہ تعجب میں پڑ گئے۔ مگر جیسا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مُسَوِّمِیْنَ کی تفسیر فرمائی تھی ویسا ہی مقدر تھا اور بعینہٖ ایسا ہوا۔ اسی طرح جنگ اُحد میں جو فرشتے دکھائی دیے ان کے سروں پر بطور نشان سرخ پگڑیاں تھیں۔
سرخ رنگ میں کچھ غم کا پیغام بھی تھا کیونکہ جتنا دکھ صحابہؓ کو جنگ اُحد میں آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زخموں کی وجہ سے پہنچا ویسا دکھ آنحضرتﷺ کی ساری زندگی میں کبھی صحابہؓ کو نہیں پہنچا۔ ایک غم کے بعد دوسرے غم کی خبر ان کو ملی اور وہ غموں سے نڈھال ہو گئے۔ پس اس غزوہ میں فرشتوں کی علامت کیلئے بھی ایک ایسا رنگ چنا گیا جس میں غم اور خون اور دکھ کا پہلو شامل ہے۔٭٭