اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-04-18

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ19؍جنوری2024بطرز سوال وجواب

سوال:جنگ احد کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خون پوچھتے ہوئے کیا کہتے جاتے تھے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:جنگ احد کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے خون ٹپک رہا تھا۔ آپ ﷺ خود اپنا خون پونچھتے جاتے تھے اور یہ فرماتے جاتے تھے کہ كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوْا نَبِیَّھُمْ وَكَسَرُوْا رَبَاعِيَتَهٗ وَهُوَ يَدْعُوْهُمْ إِلَى اللّٰهِ۔وہ قوم کیسے کامیاب ہو سکتی ہے جس نے اپنے نبی کو زخمی کیا اور اسکا رباعی دانت توڑ ڈالا جبکہ وہ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہے۔
سوال: اس وقت لوگوں کا کیا حال تھا جب یہ افواہ پھیلی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ شہید ہوگئے ہیں ؟
جواب: حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اس خبر کے پھیلتے ہی مسلمانوں میں سے بعض نے کہا کہ اب جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں تو تم اپنی قوم کے پاس لوٹ چلو وہ تمہیں امان دیں گے۔ اس پر کچھ دوسرے لوگوں نے کہا کہ اگر رسول اللہ ﷺ شہید ہو گئے ہیں تو کیا تم اپنے نبی ﷺکے دین اور اسکے پیغام کیلئے نہیں لڑو گے یہاں تک کہ تم اپنے رب کے حضور شہید ہو کر حاضر ہو؟
حضرت ثابت بن دَحْدَاحؓ نے انصار سے کہا کہ اے انصار کے گروہ! اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں تو اللہ تعالیٰ زندہ ہے اور اسے موت نہیں آ سکتی۔ اپنے دین کیلئے قتال کرو۔اللہ تعالیٰ تمہیں فتح و کامرانی عطا کرنے والا ہے۔یہ سن کر انصاری مسلمانوں کا ایک گروہ اٹھا اور انہوں نے حضرت ثابتؓ کے ساتھ مل کر مشرکین کے اس گروہ پر حملہ کر دیا جس میں خالد بن ولید،عِکْرِمَہ بن ابوجہل اور عَمرو بن عاص اور ضِرَار بن خَطَّاب تھے۔
سوال: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی افواہ کے بعد جب صحابہ کو اچانک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار ہو گیا اس کی تفیل حضور انور نے کیا بیان کی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: قتل کی افواہ کے بعد پھر صحابہؓ کو آنحضرت ﷺ کا اچانک دیدار بھی ہوا۔ حضرت ابو عُبَیدہؓ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اس وقت سب سے پہلے رسول اللہﷺ کو پہچانا کہ آپؐزندہ سلامت موجود ہیں۔حضرت ابوعُبَیدہؓ کہتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آپؐکی آنکھوں کی وجہ سے پہچانا جو خَود کے نیچے سے روشن اور منور نظر آ رہی تھیں۔
وہ کہتے ہیں مجھے آنکھوں میں بڑی چمک اور روشنی نظر آر ہی تھی۔ مجھے پتہ لگ گیا کہ آنحضرتﷺ زندہ ہیں۔ غرض میں نے جیسے ہی آپؐکو پہچانا تو پوری قوّت سے چلایا کہ اے مسلمانو! تمہیں خوشخبری ہو یہ رسول اللہﷺ موجود ہیں۔ اس وقت آنحضرتﷺ نے میری طرف اشارہ کر کے مجھے روکا کہ خاموش رہو۔
سوال: جنگ احد میں آنحضرتﷺ کے قتل کی افواہ کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓنے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ’’مسلمانوں کیلئے یہ حملہ چونکہ بالکل غیر متوقع تھا اس لئے ان پر سخت گھبراہٹ طاری ہو گئی اور بوجہ بکھرے ہوئے ہونے کے دشمن کا مقابلہ نہ کر سکے۔ میدان پر کفار نے قبضہ کر لیا اور اکثر صحابہؓ سراسیمگی اور اضطراب کی حالت میں مدینہ کی طرف بھاگ پڑے یہاں تک کہ رسول کریم ﷺکے گرد صرف بارہ صحابہؓ رہ گئے اورایک وقت تو ایسا بھی آیا کہ بارہ بھی نہیں صرف تین آدمی رسول کریمﷺ کے ارد گرد رہ گئے اور کفار نے خاص طور پر رسول کریم ﷺ پر تیر اندازی شروع کر دی لیکن باوجود ان نازک حالات کے آپؐبرابر دشمن کے مقابلہ میں کھڑے رہے اور اپنے مقام سے نہیں ہلے۔
آخر دشمن نے یکدم ریلہ کر دیا اور وہ چند آدمی بھی دھکیلے گئے اور رسول کریم ﷺ زخمی ہو کر ایک گڑھے میں گر گئے۔ آپؐپر بعض اَور صحابہؓ جو آپؐکی حفاظت کر رہے تھے شہید ہو کر گر گئے اور اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تھوڑی دیر کیلئے صحابہ ؓکی نگاہوں سے اوجھل ہو گئے اور لشکر میں یہ افواہ پھیل گئی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہید ہو گئے ہیں۔ یہ خبر صحابہؓ کیلئے اَور بھی پریشان کن ثابت ہوئی اور ان کی رہی سہی ہمت بھی جاتی رہی جو صحابہؓ اس وقت آپؐکے گرد موجود تھے اور زندہ تھے انہوں نے لاشوں کو ہٹا کر رسول کریم ﷺکو گڑھے میں سے نکالا اور حفاظت کیلئے آپؐکے ارد گرد کھڑے ہو گئے۔‘‘
سوال: رئیس اُبَیّ بن خَلَف کیسے مارا گیا؟
جواب: حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے لکھا ہے کہ ’’جب قریش ذرا پیچھے ہٹ گئے اورجو مسلمان میدان میں موجود تھے وہ آنحضرت ﷺ کوپہچان کر آپؐکے اردگرد جمع ہو گئے تو آپؐاپنے ان صحابہؓ کی جمعیت میں آہستہ آہستہ پہاڑ کے اوپرچڑھ کرایک محفوظ درّہ میں پہنچ گئے۔ راستہ میں مکہ کے ایک رئیس اُبَیّ بن خَلَف کی نظر آپؐپر پڑی اور وہ بغض وعداوت میں اندھا ہوکر یہ الفاظ پکارتا ہوا آپؐکی طرف بھاگا کہ ’’لَانَجَوْتُ اِنْ نَجَا‘‘کہ اگر محمد (ﷺ) بچ کر نکل گیا تو گویا میں تو نہ بچا۔’’صحابہؓ نے اسے روکنا چاہا مگرآنحضرت ﷺ نے فرمایا اسے چھوڑ دو اور میرے قریب آنے دو اور جب وہ آپؐپرحملہ کرنے کے خیال سے آپؐکے قریب پہنچا توآپؐنے ایک نیزہ لے کر اس پرایک وار کیا جس سے وہ چکر کھا کر زمین پر گرا اور پھراٹھ کرچیختا چلاتا ہوا واپس بھاگ گیا اور گو بظاہر زخم زیادہ نہیں تھا مگر مکہ پہنچنے سے پہلے وہ پیوند خاک ہو گیا۔‘‘
سوال: آنحضرت ﷺ نے دشمن کو دیکھ کر کیا دعا کی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: آنحضرت ﷺنے دشمن کودیکھ کر یہ دعا کی کہ اَللّٰهُمَّ إنَّهٗ لَا يَنْبَغِي لَهُمْ أَنْ يَعْلُوْنَا ، اَللّٰهُمَّ لَا قُوَّةَ لَنَا إلَّا بِكَ۔اَے اللہ! ان کیلئے جائز نہیں کہ وہ ہم پر غالب آئیں۔ اَے اللہ! ہماری طاقت و قوّت نہیں ہے مگر صرف تیرے ہی ذریعہ۔
سوال: جب آنحضرت ﷺ درہ پر پہنچے تو کیا ہوا؟
جواب: حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے ؓ فرماتے ہیں : آنحضرت ﷺ درہ پر پہنچ گئے توقریش کے ایک دستے نے خالد بن ولید کی کمان میں پہاڑ پرچڑھ کر حملہ کرنا چاہا لیکن آنحضرت ﷺ کے حکم سے حضرت عمر ؓنے چند مہاجرین کوساتھ لے کر اسکا مقابلہ کیا اور اسے پسپا کردیا۔
سوال: جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے کڑیاں نکالی گئی تو کیا ہوا؟
جواب: حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:ابوسعید خدریؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے چہرہ مبارک سے دو کڑیاں جب نکالی گئیں تو خون ایسے بہنے لگا جیسے بھرے ہوئے مشکیزے سے پانی نکلتا ہے۔ مالک بن سِنَانؓ خون کو اپنے منہ سے چوسنے لگے۔ آپؐنے ان کو کہا کہ کیا تُو خون پی رہا ہے؟ اس نے کہا کہ جی ہاں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :جس کے خون کو میرا خون چھو گیا اس کو آگ نہیں چھوئے گی۔
سوال: غزوہ ٔاُحد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو زخم لگے اس حوالے سے حضور انورنے کیا بیان کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: غزوہ ٔاُحد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو زخم لگے اس حوالے سے بخاری کی روایت ہے کہ حضرت سہل بن سعدؓ سے رسول اللہﷺ کے زخم کی بابت پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے پوچھتے ہو تو اللہ کی قسم! میں خوب جانتا ہوں ، سب کچھ میری آنکھوں کے سامنے ہے یعنی وہ نظارہ کہ کون رسول اللہﷺ کا زخم دھو رہا تھا اور کون پانی ڈال رہا تھا اور کیا دوا لگائی گئی تھی۔ حضرت سہلؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺکی بیٹی حضرت فاطمہؓ زخم دھو رہی تھیں اور حضرت علیؓ ڈھال میں سے پانی ڈال رہے تھے جب حضرت فاطمہؓ نے دیکھا کہ پانی خون کو اَور نکال رہا ہے تو انہوں نے بوری کا ایک ٹکڑہ لیا اور اس کو جلایا اور اس کو ساتھ چپکا دیا۔اس سے خون رک گیا اور اس دن آپؐکے سامنے والا دانت بھی ٹوٹ گیا تھا اور آپؐکا چہرہ زخمی ہو گیا تھا اور آپؐکا خَود آپؐکے سر پر ٹوٹ گیا تھا۔
…٭…٭…٭…