اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-04-11

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ12؍جنوری 2023 بطرز سوال وجواب

سوال: لڑائی میں سب سے زیادہ بہادر کون سمجھا جاتا تھا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:لڑائی میں سب سے بہادر وہ سمجھا جاتا تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتا تھا کیونکہ آپؐ بڑے خطرناک مقام میں ہوتے تھے۔
سوال: صحابہ کرام نے احد کے دن کس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا؟
جواب: حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُحد کے دن اپنے صحابہؓ کی ایک جماعت سے موت پر بیعت لی۔جو صحابہؓ آنحضرتﷺ کے گرد جمع تھے انہوں نے جو جان نثاریاں دکھائیں تاریخ ان کی نظیرلانے سے عاجز ہے۔ یہ لوگ پروانوں کی طرح آپؐکے ارد گرد گھومتے تھے اورآپؐکی خاطراپنی جان پرکھیل رہے تھے۔ جووار بھی پڑتا تھا صحابہؓ اپنے اوپر لیتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوبچاتے تھے اورساتھ ہی دشمن پربھی وارکرتے جاتے تھے۔
سوال: صحابہؓ کی ثابت قدمی اور جاںنثاری کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنےکیا فرمایا؟
جواب: سیرت خاتم النّبیینؐ میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے صحابہؓ کی ثابت قدمی اور جاںنثاری کے بارے میں لکھا ہے کہ جو صحابہؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع تھے انہوں نے جو جان نثاریاں دکھائیں تاریخ ان کی نظیرلانے سے عاجز ہے۔ یہ لوگ پروانوں کی طرح آپؐکے ارد گرد گھومتے تھے اورآپؐکی خاطراپنی جان پرکھیل رہے تھے۔ جووار بھی پڑتا تھا صحابہؓ اپنے اوپر لیتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوبچاتے تھے اورساتھ ہی دشمن پربھی وارکرتے جاتے تھے۔
سوال: عیسائی کے اس اعتراض کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا جواب دیا کہ آپؐنے جھوٹ بولنا یا غلط بیانی کرنا جائز قرار دیا؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حتی الوسع اس سے مجتنب رہنے کا حکم کیا ہے تا مفہوم کلام کا اپنی ظاہری صورت میں بھی کذب سے مشابہ نہ ہو مگر کیا کہیں اور کیا لکھیں کہ آپ کے یسوع صاحب اس قدر التزام سچائی کا نہ کر سکے۔ جو شخص خدائی کا دعویٰ کرے وہ تو شیرِببر کی طرح دنیا میں آنا چاہیے تھا نہ کہ ساری عمر توریہ اختیار کرکے اور تمام باتیں کذب کے ہمرنگ کہہ کر یہ ثابت کر دیوے کہ وہ ان افراد کاملہ میں سے نہیں ہے جو مرنے سے لاپرواہ ہو کر دشمنوں کے مقابل پر اپنے تئیں ظاہر کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے ہیں (جس کو تم خدا کہتے ہو وہ تو ساری عمر توریہ سے کام لیتا رہا ہے۔ جو خدا ہے بلکہ خدا کے نبی بھی نہیں کرتے)اور جو اللہ پہ توکل کرنے والے ہوتے ہیں کسی مقام میں بزدلی نہیں دکھلاتے۔ مجھے تو ان باتوں کو یاد کرکے رونا آتا ہے کہ اگر کوئی ایسے ضعیف القلب یسوع کی اس ضعف حالت اور توریہ پر جو ایک قسم کا کذب ہے اعتراض کرے تو ہم کیا جواب دیں۔ جب میں دیکھتا ہوں کہ جناب سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم جنگ اُحد میں اکیلے ہونے کی حالت میں برہنہ تلواروں کے سامنے کہہ رہے تھے کہ میں محمد ہوں، مَیں نبی اللہ ہوں۔ میں ابن عبد المطلِب ہوں اور پھر دوسری طرف دیکھتا ہوں کہ آپ کا یسوع کانپ کانپ کر اپنے شاگردوں کو یہ خلاف واقعہ تعلیم دیتا ہے کہ کسی سے نہ کہنا کہ میں یسوع مسیح ہوں حالانکہ اس کلمہ سے کوئی اس کو قتل نہیں کرتا تو میں دریائے حیرت میں غرق ہو جاتا ہوں۔ فرماتے ہیں کہ میں دریائے حیرت میں غرق ہو جاتا ہوں کہ یا الٰہی یہ شخص بھی نبی ہی کہلاتا ہے جس کی شجاعت کا خدا کی راہ میں یہ حال ہے۔
سوال: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گڑھے میں گرنے کے واقعہ کے بارے میںکون سی روایت آتی ہے اور آپؐنے گڑےمیںگرنے کا سبب کیا بیان کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گڑھے میں گرنے کے واقعہ کے بارے میں روایت اس طرح بیان ہوئی ہے کہ ابوعامر فاسق نے میدان احُد میں بہت سے گڑھے جگہ جگہ کھود دیے تھے تا کہ مسلمان بے خبری میں ان میں گرتے رہیں اور نقصان اٹھاتے رہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی بےخبری میں ان میں سے ایک گڑھے میں گر پڑے۔ آپؐپر غشی طاری ہو گئی اور آپؐکے دونوں گھٹنے زخمی ہو گئے۔ حضرت علیؓ نے جلدی سے بڑھ کر آپؐکو ہاتھوں میں لیا اور حضرت طَلْحہ بن عُبَید اللہؓ نے آپؐکو اوپر اٹھا کر باہر نکالا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گرنے کا سبب بدبخت ابن قمئہ بنا تھا کیونکہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کر کے تلوار کا وار کیا تھا۔ تلوار آپؐکی گردن پر پڑی۔ اگرچہ تلوار نے آپؐپر کوئی اثر نہیں کیا مگر اسکی چوٹ سے آپؐکی گردن مبارک میں اتنا سخت جھٹکا آیا کہ اسکے بعد ایک مہینے یا اس سے زائد تک آپؐکی گردن میں تکلیف رہی۔ ساتھ ہی اس نے آپؐپر پتھر چلانے شروع کیے جن میں سے ایک پتھر آپؐکے پہلو میں لگا۔ ادھر عُتبہ بن ابی وقاص نے جو حضرت سعد بن ابی وقاص ؓکا بھائی تھا اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک پتھر کھینچ مارا جو آپؐکے منہ پر لگا اور آپؐ کا نچلا رباعی دانت یعنی سامنے والے دو دانتوں اور نوکیلے دانت کے درمیان والا دانت ٹوٹ گیا۔ ساتھ ہی اس سے نچلا ہونٹ پھٹ گیا۔
سوال: جنگ احد میں آنحضرتﷺ کو کیا نقصان ہوا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اس حملے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر جو خَود تھا وہ بھی ٹوٹ گیا نیز دشمن کے مسلسل حملوں میں آپؐکا چہرۂ مبارک بھی زخمی ہو گیا اور جلد پھٹ گئی۔ آپؐکے چہرۂ مبارک پر وار کرنے والا ایک حملہ آور عبداللہ بن شہاب زہری تھا جس نے بعد میں اسلام قبول کر لیا۔
سوال: جنگ احد میں کون سے پندرہ صحابہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثابت قدم رہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:جنگ اُحد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں دشمن سے سب سے زیادہ قریب تھے اور آپؐکے ساتھ حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت طلحہؓ، زبیرؓ، عبدالرحمٰن بن عوفؓ، سعد بن ابی وقاصؓ، ابو عبیدہ بن جراحؓ،حضرت حباب بن منذرؓ، ابودجانہؓ، عاصم بن ثابتؓ، حارث بن صِمَّہ،ؓ سہل بن حنیفؓ اور سعد بن معاذؓ،سعد بن عُبادہؓ، محمد بن مَسْلَمہ ۔
سوال: جنگ احدجن آٹھ اشخاص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر موت کی بیعت کی تھی وہ کون سے اشخاص تھے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اس روز آٹھ افراد نے آپؐ کے دستِ اقدس پر موت کی بیعت کی۔ ان بیعت کرنے والے خوش نصیبوں کے جو اسماء روایات میں بیان ہوئے ہیں وہ یہ ہیں: حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت سہل بن حُنَیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت ابودُجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت حارث بن صِمَّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت حُباب بن مُنذِر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ ان میں سے کوئی بھی شہید نہیں ہوا۔
…٭…٭…٭…