سوال:حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ کے شروع میں کون سی آیات کی تلاوت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے خطبہ کے شروع میں سورۃ الصف کیا آیت نمبر 11تا 13تلاوت فرمائی (يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ہَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰي تِجَارَۃٍ تُنْجِيْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ۱۱ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُجَاہِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ بِاَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ۰ۭ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۱۲ۙ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَيُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ وَمَسٰكِنَ طَيِّبَۃً فِيْ جَنّٰتِ عَدْنٍ۰ۭ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۱۳ۙ)یعنی اَے لوگو جو ایمان لائے ہو کیا میں تمہیں ایک ایسی تجارت پر مطلع کروں جو تمہیں ایک دردناک عذاب سے نجات دے گی؟ تم جواللہ پر اور اسکے رسول پر ایمان لاتے ہو اور اللہ کے راستے میں اپنے اموال اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرتے ہو، یہ تمہارے لیے بہت بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔ وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کردے گا جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں اور ایسے پاکیزہ گھروں میں بھی جو ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں ہیں۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
سوال: وقف جدید کے دوران سال کتنی وصولی ہوئی اور یہ وصولی گذشتہ سال کے مقابل کتنی تھی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: وقف جدید کے چھیاسٹھ ویں سال کے دوران جماعت ہائے احمدیہ عالمگیر کو ایک کروڑ 29 لاکھ 41 ہزار پاؤنڈ کی مالی قربانی پیش کرنے کی توفیق ملی۔ یہ وصولی گذشتہ سال کے مقابلے میں 7 لاکھ 18 ہزار پاؤنڈز زیادہ ہے۔
سوال: اسلامی تعلیم کو پھیلانے کیلئے کیا کرنا چاہئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اسلامی تعلیم کو پھیلانے کیلئے قلم کا جہاد اور تبلیغ کا جہاد جاری ہے اور اس جہاد کے جاری رکھنے کیلئے بھی جان، مال، وقت، عزت کی قربانی کی اسی طرح ضرورت ہے جس طرح اسلام کے ابتداء میں قربانیوں کی ضرورت تھی۔
سوال: دین کی اشاعت کیلئے اللہ تعالیٰ کا قرب کس طرح حاصل کیا جائے؟
جواب: حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: دین کی اشاعت کیلئے قربانیاں ہی اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کا ذریعہ اور کامیاب تجارت ہیں۔
سوال: نفس کا جہاد کسے کہتے ہیں؟
جواب: حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:آج کل یہ مالی جہاد ہی ہے جو نفس کے جہاد کا بھی ذریعہ بنتا ہے۔ انسان اپنی بہت سی خواہشات کو پس پشت ڈال کر دین کی ترقی کی خاطر قربانیاں دیتا ہے تو یہ نفس کا جہاد ہے۔
سوال:وہ لوگ جو پرانے بزرگوں کی اور صحابہؓ کی اولاد ہیں انہیں کیا بات مدنظر رکھنی چاہئے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:وہ لوگ جو پرانے بزرگوں کی اور صحابہؓ کی اولاد ہیں ہمیشہ اس بات کو سامنے رکھیں کہ آج اگر ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل ہیں تو ان لوگوں کی قربانیوں کی وجہ سے ہیں۔
سوال: کیا اللہ تعالیٰ نیک نیتی سے کی گئی قربانی کو نعوذ باللہ نوازتا نہیں ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:کبھی یہ بات کسی کمزور احمدی کے دل میں بھی نہیں آنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نیک نیتی سے کی گئی قربانی کو نوازتا نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے خزانے لامحدود ہیں۔ اس کو ہمارے چند پیسوں کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ قربانیاں جو اللہ تعالیٰ مانگتا ہے یہ تو وہ ہمیں مزید فضلوں کا وارث بنانے کیلئے موقع میسر فرماتا ہے
سوال: جہنم کی آگ سے کس طرح بچا جا سکتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حدیث میں آتا ہے آگ سے بچو خواہ آدھی کھجور ہی خرچ کرنے کی استطاعت ہو۔
سوال:بخل سے کیوں بچناچاہئے؟
جواب: حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایاحدیث میں آتا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ بخل سے بچو یہ بخل ہی ہے جس نے پہلی قوموں کو ہلاک کیا تھا۔
سوال: حضور انور نے وقف جدید کے کون سے سال کے آغاز کا اعلان کیا؟
جواب: حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ نے وقف جدید کے سڑسٹھ ویں(67)سال کے آغاز کا اعلان فرمایا۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے معثت کی غرض بیان فرمائی؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جیساکہ ایک جگہ فرمایا کہ میں بھی مسیح موسوی کے قدم پر بھیجا گیا ہوں اور جیساکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے رحم اور معافی کی تعلیم دی تھی میں بھی رحم اور بخشش اور صلح اور آشتی کی اسلامی تعلیم کے ساتھ مسیح محمدی کے طور پر بھیجا گیا ہوں اور مذہبی جنگوں کے خاتمہ کیلئے آیا ہوں اور یہ زمانہ اب قرآن کریم کی تعلیم کی اشاعت کا زمانہ ہے۔
سوال: اللہ تعالیٰ مالی قربانی کے متعلق قرآن کریم میں کیا بیان فرماتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے مالی قربانی کی طرف قرآن کریم میں کئی جگہ توجہ دلائی ہے۔ ایک جگہ فرمایا کہ وَ مَا لَکُمْ اَ لَّا تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سب کچھ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔ وہ تمہیں دیتا ہے اور پھر جزا کیلئے تمہیں یہ کہتا ہے کہ اسکے راستے میں خرچ کرو۔پس اگر ایمان ہے، اگر اللہ تعالیٰ پر یقین ہے تو پھر اس کا تقاضا یہی ہے کہ اسکے راستے میں قربانیاں کرو۔پھر ایک جگہ تنبیہ فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّہْلُکَۃِ اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں سے اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ پس اللہ تعالیٰ کی راہ میں اس کے دیے ہوئے مال سے خرچ نہ کرنے والے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالتے ہیں۔
سوال: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مالی تحریک پر صحابہ کس طرح قربانیاں کیا کرتے تھے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: صحابہؓ کا تو یہ حال تھا کہ کہتے ہیں کہ جب بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مالی تحریک ہوتی تھی ہم بازار جاتے تھے، مزدوری کرتے تھے اور تھوڑی سی بھی کوئی مزدوری ملتی تھی تو وہ کمائی لا کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کردیتے تھے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام جماعت کی قربانی کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟
جواب: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:میں اپنی جماعت کے محبت اور اخلاص پر تعجب کرتا ہوں کہ ان میں سے نہایت ہی کم معاش والے جیسے میاں جمال الدین اور خیر الدین اور امام الدین کشمیری میرے گاؤں سے قریب رہنے والے ہیں وہ تینوں غریب بھائی بھی جو شاید تین آنہ یا چار آنہ روز مزدوری کرتے ہیں سرگرمی سے ماہواری چندہ میں شریک ہیں۔ ان کے دوست میاں عبدالعزیز پٹواری کے اخلاص سے بھی مجھے تعجب ہے کہ باوجود قلت معاش کے ایک دن سو روپیہ دے گیا کہ میں چاہتا ہوں کہ خدا کی راہ میں خرچ ہو جائے۔ وہ سو روپیہ شاید اس غریب نے کئی برسوں میں جمع کیا ہو گا مگر للّٰہی جوش نے خدا کی رضا کا جوش دلایا۔
سوال: کیا مال کی محبت کے ساتھ ساتھ خدا سے بھی محبت ہو سکتی ہے؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: تمہارے لیے ممکن نہیں ہے کہ مال سے بھی محبت کرو اور خدا سے بھی۔ صرف ایک سے محبت کر سکتے ہو۔ پس خوش قسمت وہ شخص ہے کہ خدا سے محبت کرےاور اگر کوئی تم میں سے خدا سے محبت کر کے اسکی راہ میں مال خرچ کرے گا تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اسکے مال میں بھی دوسروں کی نسبت زیادہ برکت دی جائے گی کیونکہ مال خود بخود نہیں آتا بلکہ خدا کے ارادہ سے آتا ہے۔ پس جو شخص خدا کیلئے بعض حصہ مال کا چھوڑتا ہے وہ ضرور اسے پائے گا۔
…٭…٭…٭…