سوال:جنگ احد میں اسلامی لشکر کو کفار پر فتح حاصل کرنے کے بعد ایک عارضی شکست کا چر کہ کیوں لگا؟
جواب: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اسلامی لشکر کو کفار پر فتح حاصل کرنے کے بعد ایک عارضی شکست کا چر کہ اس لئے لگا کہ ان میں سے چند آدمیوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حکم کی خلاف ورزی کی اور آپؐکی ہدایت پر عمل کرنے کی بجائے اپنے اجتہاد سے کام لینا شروع کر دیا۔ اگر وہ لوگ محمد رسول اللہ ﷺ کے پیچھے اسی طرح چلتے جس طرح نبض حرکت قلب کے پیچھے چلتی ہے۔ اگر وہ سمجھتے کہ محمد رسول اللہ ﷺکے ایک حکم کے نتیجہ میں اگر ساری دنیا کو بھی اپنی جانیں قربان کرنی پڑتی ہیں تو وہ ایک بے حقیقت شے ہے۔ اگر وہ ذاتی اجتہاد سے کام لے کر اس پہاڑی درّہ کو نہ چھوڑتے جس پر رسول کریم ﷺ نے انہیں اس ہدایت کے ساتھ کھڑا کیا تھا کہ خواہ ہم فتح حاصل کریں یا مارے جائیں تم نے اس مقام سے نہیں ہلنا تو نہ دشمن کو دوبارہ حملہ کرنے کا موقع ملتا اور نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐکے صحابہؓ کو کوئی نقصان پہنچتا۔
سوال: انبیاء کی شجاعت کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:انبیاء شجاعت کا ایک نمونہ قائم کرتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کو اسلام کے ساتھ کوئی دشمنی نہ تھی مگر دیکھو! جنگ اُحد میں حضرت رسول اللہﷺ اکیلے رہ گئے۔ اس میں یہی بھید تھا کہ آنحضرتﷺ کی شجاعت ظاہر ہو جبکہ حضرت رسول کریم ﷺ دس ہزار کے مقابل میں اکیلے کھڑے ہو گئے کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔ ایسا نمونہ دکھانے کا کسی نبی کو موقع نہیں ملا۔جنگ ِاُحد کے واقعہ کی نسبت لوگوں نے تاویلیں کی ہیں مگر اصل بات یہ ہے کہ خدا کی اس وقت جلالی تجلّی تھی اور سوائے آنحضرت ﷺکے اَور کسی کو برداشت کی طاقت نہ تھی۔ اس لئے آپؐوہاں ہی کھڑے رہے اور با قی اصحاب کا قدم اکھڑ گیا۔ آنحضرت ﷺ کی زندگی میں جیسے اس صدق وصفا کی نظیر نہیں ملتی جو آپؐکو خدا سے تھا ایسا ہی ان الٰہی تائیدات کی نظیر بھی کہیں نہیں ملتی جو آپؐکے شاملِ حال ہیں۔
سوال:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ثابت قدمی اور جرأت اور بہادری کا نمونہ کیا تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اس بارے میں تفصیل سے لکھا ہے کہ جب لڑائی کا پانسہ پلٹنے کے بعد صحابہؓ بدحواسی میں اپنے آپ کو سنبھال نہ سکے اور افراتفری کا شکار ہو گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس افراتفری میں اور اپنے چاروں طرف دشمنوں کے جمگھٹے کے باوجود اپنی جگہ ثابت قدم اور جمے رہے۔ صحابہؓ کو گھبراہٹ میں اِدھر اُدھر بھاگتے دیکھ کران کو پکارتے ہوئے آپﷺ فرماتے جاتے تھے۔ اے فلاں! میری طرف آؤ۔ اے فلاں! میری طرف آؤ۔ میں خدا کا رسول ہوں۔ جبکہ ہر طرف سے آپؐپر تیروں کی بوچھاڑ ہو رہی تھی۔ ایک روایت میں ہے کہ آپؐ بلند آواز میں فرما رہے تھے۔
اَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِب
اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِب
اَنَا ابْنُ الْعَوَاتِکْ
میں نبی ہوں اس میں جھوٹ نہیں۔ میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں میں عواتک یعنی عاتکاؤں کا بیٹا ہوں۔ عام طور پر روایات اور سیرت کی کتابوں میں ہے کہ یہ کلمات آپؐ نے غزوہ حنین میں فرمائے تھے لیکن بہرحال بعید نہیں کہ یہی کلمات آپؐنے اُحد میں بھی فرمائے ہوں اور حنین میں بھی فرمائے ہوں۔
سوال: حضور انور نے عواتک لفظ کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: عَوَاتِک کا یہاں ذکر ہوا ہے۔ عَوَاتِک: عاتکہ کی جمع ہیں اور عاتکہ نام کی ایک سے زائد خواتین تھیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جدّات یعنی نانیاں دادیاں تھیں۔ ایک تو عَاتِکَہ بنتِ ہِلَال جو عبدمناف کی والدہ تھیں، دوسری عاتکہ بنت مُرّۃ جو ہاشم بن عَبدِمَنَاف کی والدہ تھیں، تیسری عاتکہ بنت اَوْقَص جو وَہْب یعنی حضرت آمنہ کے والد کی ماں تھیں۔ ایک روایت کے مطابق یہ نو عورتیں تھیں۔ تین بنو سُلَیم میں سے اور چھ اَور لوگوں میں سے تھیں اور سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جدّات تھیں۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بہادری کے بارے میں کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی ایک عجیب نمونہ ہے۔ اور ایک پہلو سے ساری زندگی ہی تکلیفات میں گزری۔ جنگ اُحد میں آپؐاکیلے ہی تھے۔ لڑائی میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اپنی نسبت رسول اللہ ظاہر کرنا آپؐکی کس درجہ کی شوکت،جرأت اور استقامت کو بتاتا ہے۔
سوال:حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ غزوہ احد کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟
جواب:حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ایک تاریک گھڑی وہ تھی جبکہ اُحد میں آپؐزخمی ہوئے اور اس قسم کے واقعات جمع ہو گئے کہ اسلامی لشکر کی فتح شکست کی صورت میں تبدیل ہو گئی۔ ا س جنگ میں ایک درّہ ایسا تھا جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض آدمی چن کر کھڑے کئے تھے اور انہیں حکم دیا تھا کہ جنگ کی خواہ کوئی حالت ہو تم نے اس درّہ کو نہیں چھوڑنا۔ جب کفار کا لشکر منتشر ہو گیا تو انہوں نے غلطی سے اجتہاد کیا کہ اب یہاں ٹھہرنے کا کیا فائدہ ہے ہم بھی چلیں اور لڑائی میں کچھ حصہ لیں۔ ان کے سردار نے انہیں کہا بھی کہ رسول کریم ﷺ کا حکم ہے کہ ہم یہ درّہ چھوڑ کر نہ جائیں مگر انہوں نے کہا کہ رسول کریم ﷺ کا یہ مطلب تو نہ تھا کہ فتح ہو جائے تب بھی یہیں کھڑے رہو۔ آپؐکے ارشاد کا تو یہ مطلب تھا کہ جب تک جنگ ہوتی رہے اس درّہ کو نہ چھوڑنا۔ اب چونکہ فتح ہو چکی ہے دشمن بھاگ رہا ہے ہمیں بھی تو کچھ ثواب جہاد کا حاصل کرنا چاہئے۔ چنانچہ وہ درّہ خالی ہو گیا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ جو اس وقت تک ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے، نوجوان تھے اور ان کی نگاہ بہت تیز تھی۔ وہ جب اپنے لشکر سمیت بھاگے جارہے تھے انہوں نے اتفاقاً پیچھے کی طرف نظر ڈالی تو درّہ کو خالی پایا۔ یہ دیکھتے ہی وہ واپس لوٹے اور مسلمانوں کی پشت پر حملہ کر دیا۔ مسلمانوں کیلئے یہ حملہ چونکہ بالکل غیر متوقع تھا اس لئے ان پر سخت گھبراہٹ طاری ہو گئی اور بوجہ بکھرے ہوئے ہونے کے دشمن کا مقابلہ نہ کر سکے۔
…٭…٭…٭…