اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-04-04

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ22؍دسمبر2023بطرز سوال وجواب

سوال:جنگ احد میں مسلمانوں کو کیا فائدہ پہنچا تھا؟
جواب: حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:اس لڑائی میں گو بڑا صدمہ مسلمانوں کو پہنچا اور عبد اللہ بن جبیرؓ کی سپاہ کی خطا سے یہ بلا آئی مگر ایک فائدہ عظیم بھی حاصل ہوا کہ منافقوں کا نفاق اور یہودیوں کا بغض وعناد صاف صاف عیاں ہو گیا اور خالص مسلمان ممتاز ہو گئے۔
سوال:کیا صحابہ ؓکو مال غنیمت حاصل کرنے کی لالچ تھی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:صحابہؓ کے بارے میں اس دنیاوی خواہش کیلئے درّے کو چھوڑنے کی بات دل کو لگتی نہیں… صحابہؓ کے بارے میں یہ کہنا بلکہ سوچنا بھی ان کی شان کے خلاف ہے کہ ان کو مال غنیمت کی پڑی ہوتی تھی۔یہ لوگ تو اپنے بیوی بچے اور اپنی جانیں تک اپنے سب سے محبوب خدا اور اسکے رسول ﷺ کے قدموں پر نچھاور کر چکے تھے اور اس سے پہلے وہ اپنے اموال و اسباب بھی اسی راہ میں لُٹا چکے تھے۔ شہادت کے شوق میں تو جیساکہ واقعات بیان ہوئے ہیں یہ لوگ باہر نکل کر جنگ کرنا چاہتے تھے اور یہ جنگیں مالِ غنیمت حاصل کرنے کیلئے نہیں لڑی جا رہی تھیں۔ یہ تو مسلمانوں پہ الزام ہے۔ ہاں فتح کی صورت میں اموال غنیمت مل جانا ایک ضمنی بات تو ہو سکتی ہے لیکن صحابہؓ کا مطلوب و مقصود مال غنیمت حاصل کرنا ہرگز نہیں ہو سکتا تھا۔
سوال: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب حضرت حمزہؓ کے قتل کا کس قدر رنج پہنچا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آنحضرت ﷺکو جب حمزہؓ کے قتل کی اطلاع ملی تو آپؐکو سخت صدمہ ہوا اور روایت آتی ہے کہ غزوۂ طائف کے بعد جب حمزہ کا قاتل آنحضرت ﷺ کے سامنے آیا تو آپؐنے اسے معاف تو فرما دیا مگر حمزہ کی محبت کااحترام کرتے ہوئے فرمایا کہ وحشی میرے سامنے نہ آیا کرے۔
سوال: حضرت جبرائیل علیہ السلام نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حمزہ کے متعلق کیا فرمایا؟
جواب: آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جبرئیل نے آکر مجھے خبر دی ہے کہ حمزہ بن عبدالمطلب کو سات آسمانوں میں اللہ اور اس کے رسولؐ کا شیر لکھا گیا ہے۔
سوال: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حمزہ کی نعش کے سامنے کھڑے ہوکر کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حمزہ ؓکی نعش کے پاس آ کر جن جذبات کا اظہار کیا اور آپؓکو بلند مقام کی جو خوشخبری دی اسکے بارے میںابن ہشام روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺنے جب حضرت حمزہ ؓکی نعش کو دیکھا تو ان کا کلیجہ نکال کر چبایا گیا تھاتو رسول اللہﷺ حضرت حمزہؓکی نعش پر آ کر کھڑے ہوئے اور فرمایااے حمزہ! تیری اس مصیبت جیسی کوئی مصیبت مجھے کبھی نہیں پہنچے گی۔ میں نے اس سے زیادہ تکلیف دہ منظر آج تک نہیں دیکھا۔ پھرآپ ﷺ نے فرمایا جبرئیل نے آ کر مجھے خبر دی ہے کہ حمزہ بن عبد المطلب کو سات آسمانوں میں اللہ اور ا کے رسول کا شیر لکھا گیا ہے۔
سوال: جنگ احد کے موقعہ پر حضرت ہندہ نے حضرت حمزہ کی نعش کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا؟
جواب: حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے شدید دشمنوں میں سے ایک ہندہ تھی جو اتنی سخت مخالف تھی کہ جنگِ احد کے موقعہ پر لوگوں کو شعر پڑھ پڑھ کر بھڑکاتی تھی کہ جاؤ اور اسلامی لشکر پر حملہ کرو اور جب ایک خطرناک موقعہ مسلمانوں کیلئے آیا تو اس نے کہا کہ جو شخص حضرت حمزہؓ کا جو آنحضرت ﷺ کے چچا تھے کلیجہ نکال کر میرے پاس لے آئے گا اور اسی طرح انکا ناک اور ان کے کان کاٹ کر لے آئے گا میں اسے انعام دوں گی۔ چنانچہ حضرت حمزہؓ کی نعش کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا گیا۔ جنگ کے بعد جب رسول کریم ﷺ کو یہ بات معلوم ہوئی کہ آپؐکے چچا کی ایسی بےحرمتی کی گئی ہے تو طبعی طور پر آپؐکو تکلیف ہوئی اور آپؐنے فرمایا کہ جب دشمنوں نے اس قسم کے ظالمانہ سلوک کی ابتدا کر دی ہے تو میں بھی ان کے ساتھ ایسا ہی سلوک کروں گا۔ تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپؐپر وحی نازل ہوئی کہ ان کے اس ظالمانہ سلوک کے باوجود آپ کو ایسا کوئی اقدام نہیں کرنا چاہئے اور عفو اور درگذر سے کام لینا چاہئے۔
سوال: کیا صحابہ کرام کو دنیاداری کا خیال تھا اسکے متعلق حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: یہ حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا ’’اصل بات یہ ہے کہ ان کو یہ خواہش تھی کہ ہم بھی اس جنگِ اُحد میں شریک ہوں۔ یہ بھی دنیوی خیال تھا کہ ہم اس غزوہ میں شامل ہوں اور کافروں کو ماریں۔ لُوٹ کے مال میں شامل ہونا اس جگہ مراد نہیں۔ فرماتا ہے کہ تم کو یہ خیال تھا کہ ہم غزوہ میں شامل ہونے والوں سے پیچھے نہ رہ جائیں مگر یہ بھی ایک دنیوی خیال ہےتمہیں تو حکم کی تعمیل کرنی چاہئے تھی اور بس وَمِنْکُمْ مَنْ یُرِیْدُ الْاٰخِرَۃ فرماتا ہے کہ تمہارا افسر اور اسکے ساتھی تو آخرت کو چاہتے تھے۔ ان کے مدِنظر انجام اور نتیجہ تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اسکا نتیجہ اچھا نہ ہو گا۔ وہ نافرمانی کے بد نتیجہ کو دیکھ رہا تھا۔ اس طرح اسکے ساتھی بھی اسے حق پر سمجھتے تھے۔ افسر اور اسکے ساتھ متفق لوگوں کی نظر اس بات کے آخری نتیجہ پر پہنچ رہی تھی کہ وہ آنحضرت ﷺ کے حکم کو جنگ میں شمولیت سے زیادہ اہم سمجھتے تھے۔لیکن برخلاف اسکے تمہاری نظر سطحی بات پر پڑی ہوئی تھی۔یہ معنے صحابہؓ کی اس شان کے مناسبِ حال ہیں جو ان کے کاموں اور ان کی قربانیوں سے ظاہر ہوتی ہے۔
سوال: حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نےمزید اس بارہ میں کیا فرمایا؟
جواب: حضرت خلیفہ رابع رحمہ اللہ نے آگے بیان کیا کہ پس حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ بحث ہی بے تعلق ہے کہ وہ دنیا چاہ رہے تھے اور وہ آخرت چاہ رہے تھے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا وہ تھی بھی کتنی سی۔ وہ عجیب و غریب سی بات نظر آتی ہے۔ پھر تفصیل بیان کی انہوں نے کہ وہ جو درّے کی حفاظت پر مامور تھے درّے سے بھاگے ہوں گے اس وقت تک تو سب چیزیں بٹ بھی چکی ہوں گی اور یہ خیال کہ ان کو یہ جلدی تھی کہ ہم جلدی سے وہاں جا کر شامل ہو جائیں۔ یہ کیوں نہیں سوچتے جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے حسنِ ظن کرو اپنے لوگوں پر کہ وہ اس خیال سے گئے تھے کہ سارے فتح کے شادیانے بجارہے ہیں، خوش ہو رہے ہیں، رسول اللہ ﷺ کے قریب کھڑے ہیں، ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے ہوں گے تو ہم کیوں اس منظر سے پیچھے رہیں۔ تو بسا اوقات ایسا ہوتا ہے اور یہ فطرت کے عین مطابق ہے کہ جہاں جشن منایا جا رہا ہو، خوشی منائی جا رہی ہو، سب دوڑ دوڑ کر وہاں پہنچتے ہیں۔ خلیفہ رابع ؒکہتے ہیں یہاں بھی اپنے قیام کے دوران بارہا دیکھ چکے ہیں کہ کوئی اچھی خبر ہو تو یہاں کوئی مال غنیمت لُوٹنے تو لوگ نہیں آتے۔ لوگ پہنچتے ہیں اور خوشی میں حصہ لینے پہنچتے ہیں۔ تو ان کے نزدیک یہ تھا کہ اتنا مزہ آرہا ہے۔ نیچے دیکھو یا جہاں آنحضرت ﷺتھے۔ سارے لطف اٹھا رہے ہیں آنحضرت ﷺکے ارد گرد اکٹھے ہو کر۔ خدا کا وعدہ پورا ہوا ہے۔ ہم یہاں کھڑے اکیلے، ہم بھی وہاں جاتے ہیں لیکن حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کی آخرت پر نظر تھی کہ اس وقت خوشی سے یہ بہت زیادہ مزے کی بات ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خاطر الگ ایک طرف بیٹھے رہیں۔ جو ہمیں حکم دیا گیا ہے اس کی تعمیل کریں اور جو اس کا لطف ہے وہ دراصل وہ لطف نہیں ہے جو وہاں خوشی میں ہے۔
سوال: حضرت حمزہ ؓکی شہادت کیسے ہوئی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: عمیر بن اسحاق بیان کرتے ہیںکہ احد کے روز حمزہ بن عبدالمطلبؓ رسول اللہﷺ کے آگے دو تلواروں سے جنگ کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ میں اسداللہ یعنی خدا کا شیر ہوں۔ یہ کہتے ہوئے کبھی آگے جاتے اور کبھی پیچھے ہٹتے۔ وہ اسی حالت میں تھے کہ یکایک پھسل کر گرے۔ انہیں وحشی اسود نے دیکھ لیا۔ ابواسامہ نے کہا کہ اس نے انہیں نیزہ کھینچ کر مارا اور قتل کر دیا۔
…٭…٭…٭…