اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-03-28

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ15؍دسمبر 2023 بطرز سوال وجواب

سوال: کیا کوئی کمانڈر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسا جنگی منصوبہ بندی تیار کرسکتا ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:کوئی کمانڈر خواہ کتنا ہی ذہین کیوں نہ ہو آپ ﷺ سے زیادہ باریک، نفیس اور باحکمت جنگی منصوبہ بندی تیار نہیں کر سکتا۔
سوال: کفار کی عورتیں کس طرح مسلمان عورتوں کو نقصان پہنچاتی تھیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے ادب اور احترام کی ہمیشہ تعلیم دیتے تھے جس کی وجہ سے کفار کی عورتیں زیادہ دلیری سے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی تھیں۔
سوال: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو درہ کی حفاظت کرنے کے متعلق کیا ہدایت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنْ رَأَيْتُمُوْنَا تَخْطَفُنَا الطَّيْرُ فَلَا تَبْرَحُوْا مَكَانَكُمْ هٰذَا حَتّٰى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ، وَإِنْ رَأَيْتُمُوْنَا هَزَمْنَا الْقَوْمَ وَأَوْطَأْنَاهُمْ، فَلَا تَبْرَحُوْا حَتّٰى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ کہ اگر تم ہمیں دیکھو کہ ہمیں پرندے اُچک رہے ہیں تو ہرگز اپنی اس جگہ سے نہ ہٹنا یہاں تک کہ میں تمہاری طرف پیغام بھیجوں اور اگر تم ہمیں دیکھو کہ ہم نے دشمن قوم کو شکست دے دی اور ہم نے ان کو پامال کر دیا ہے تو بھی نہ ہٹنا یہاں تک کہ میں تمہاری طرف پیغام بھیجوں ۔
سوال: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو درہ کی حفاظت کا کس قدر خیال تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:اس بارے میں سیرت خاتم النّبیینؐ میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے لکھا ہے کہ ’’آنحضرت ﷺ خدا کی مدد پر بھروسہ کرتے ہوئے آگے بڑھے اور احد کے دامن میں ڈیرہ ڈال دیا۔ ایسے طریق پرکہ احد کی پہاڑی مسلمانوں کے پیچھے کی طرف آگئی اور مدینہ گویا سامنے رہا۔ اور اس طرح آپؐنے لشکر کا عقب محفوظ کر لیا۔ عقب کی پہاڑی میں ایک درہ تھا جہاں سے حملہ ہوسکتا تھا۔ اس کی حفاظت کا آپؐنے یہ انتظام فرمایا کہ عبداللہ بن جبیر کی سرداری میں پچاس تیرانداز صحابی وہاں متعین فرمادیئے اوران کو تاکید فرمائی کہ خواہ کچھ ہوجاوے وہ اس جگہ کونہ چھوڑیں اور دشمن پرتیر برساتے جائیں ۔ آپؐکو اس درہ کی حفاظت کا اس قدر خیال تھا کہ آپؐ نے عبداللہ بن جبیر سے بہ تکرار فرمایا کہ دیکھو یہ درہ کسی صورت میں خالی نہ رہے۔ حتیٰ کہ اگر تم دیکھو کہ ہمیں فتح ہوگئی ہے اوردشمن پسپا ہوکر بھاگ نکلا ہے تو پھر بھی تم اس جگہ کو نہ چھوڑنا اوراگر تم دیکھو کہ مسلمانوں کوشکست ہوگئی ہے اوردشمن ہم پر غالب آگیا ہے توپھر بھی تم اس جگہ سے نہ ہٹنا۔
سوال: اسلامی لشکر کی صفیں کس طرح ترتیب دی گئی تھیں؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اسلامی لشکر کی صفوں میں انصار دائیں اور بائیں تھے یعنی میمنہ اور میسرہ پر انصار مدینہ تھے اور قلب لشکر جہاں دوران جنگ دشمن کا مکمل دباؤ ہوتا ہے وہاں رسول اللہﷺ مہاجرین کے ساتھ موجود تھے۔ اس وقت مہاجرین کے ساتھ درمیان میں آپؐتھے۔ آپؐکا مرکز قیام دوسری صف کے پیچھے بالکل درمیان میں تھا پہلی صف کے پیچھے فوری طور پہ درمیان میں دوسری صف میں آپؐکھڑے تھے۔
سوال: حضرت ابو دجانہ نے جنگ کے دوران کافر عورت پر کیوں نہیں تلوار چلائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت ابودجانہ بیان کرتے ہیں کہ میرا دل اس بات پر تیار نہیں ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی تلوار ایک عورت پر چلاؤں اور عورت بھی وہ جس کے ساتھ اس وقت کوئی مرد محافظ نہیں ۔
سوال: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےاحد کے دن کون سی دعا فرمائی تھی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ احد کے دن یہ دعا فرما رہے تھے:اَللّٰهُمَّ، إِنَّكَ إِنْ تَشَأْ لَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ کہ اے اللہ! اگر تُو چاہے تو زمین میں تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔
سوال: عبد اللہ بن عمرو بن حرام ؓنے غزوۂ احد کے ایک دن پہلے کیا خواب دیکھی تھی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکی کیا تعبیر فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: عبداللہ بن عمرو بن حرامؓ نے بیان کیا کہ میں نے احد سے ایک دن پہلے خواب میں مبشر بن عبدالمنذر کو دیکھا ۔ یہ جنگِ بدر میں شہید ہوئے تھے۔ وہ مجھ سے کہہ رہے تھے کہ بس آپ چند دنوں میں ہمارے پاس آنے والے ہیں ۔ میں نے پوچھا آپ کہاں ہیں ؟ فرمانے لگے جنت میں ۔ اس میں جہاں چاہتے ہیں سیر کرتے پھرتے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ کیا آپ بدر کے دن شہید نہیں ہو گئے تھے؟ کہنے لگے ہاں۔ پھر مجھے دوبارہ زندہ کر دیا گیا۔ اس خواب کا ذکر حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرامؓ نے نبی کریم ﷺ سے کیا تو آپؐنے فرمایا اے ابوجابر! یہ شہادت کی خوشخبری ہے۔
سوال: حضرت جابرؓکے والد صاحب کی شہادت کب ہوئی تھی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت جابرؓ نے بیان کیا کہ آپؓکے والد احد کے دن شہید ہو گئے۔
سوال: مشرکین کے علمبردار کا قتل ہونا کس خواب کی تصدیق تھی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: مشرکین کے علمبردار کا قتل ہونا رسول اللہﷺ کے اس خواب کی تصدیق تھی کہ ’’میں مینڈھے کے پیچھے سوار ہوں۔‘‘
سوال: احد کے دن حضرت سماک بن خرشہ ابودجانہؓ نے رسول کریم ﷺ کی تلوار کا حق کس طرح ادا کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے اُحد کے دن ایک تلوار پکڑی اور فرمایا مَنْ یَاْخُذُ مِنِّیْ ھٰذَا کہ اسے مجھ سے کون لے گا؟ تو سب نے اپنے ہاتھ بڑھائے اور ان میں سے ہر ایک نے کہا مَیں مَیں ۔آپؐنے پھر فرمایا: فَمَنْ یَاْخُذُہٗ بِحَقِّہٖ کہ کون اس کو اسکے حق کے ساتھ لے گا؟ اس پر لوگ رک گئے تو حضرت سماک بن خرشہ ابودجانہؓ نے کہا کہ میں اسکو اسکے حق کے ساتھ لیتا ہوں ۔ انہوں نے تلوار لی اور مشرکوں کے سرپھاڑ دیے ۔یعنی اس کا حق ادا کیا۔
سوال: حضورنے فلسطینیوں کیلئے کیا دعا کی تحریک فرمائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: فلسطینیوں کیلئے بھی دعائیں کرتے رہیں ۔ ظلم کی انتہا دن بدن ہوتی چلی جا رہی ہے، بلکہ بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ اب ظالموں کی پکڑ کے سامان کرے اور مظلوم فلسطینیوں کیلئے بھی آسانیاں پیدا فرمائے۔ مسلمان ممالک کو بھی عقل اور سمجھ دے کہ ان کی آواز ایک ہو اور وہ مسلمان بھائیوں کیلئے ان کا حق ادا کرنے کیلئے کوشش کرنے والے ہوں۔
…٭…٭…٭…