سوال:کفار کے لشکر نے بدر کے میدان سے بھاگتے ہوئے کیا اعلان کیا تھا؟
جواب: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کفار کے لشکر نے بدر کے میدان سے بھاگتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ اگلے سال ہم دوبارہ مدینہ پر حملہ کریں گے اوراپنی شکست کا مسلمانوں سے بدلہ لیں گے۔
سوال:جنگ بدر کے بعد کفار مکہ کے غصے کا کیا عالم تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: مکہ والوں کے غصہ کا یہ حال تھا کہ بدر کی جنگ کے بعد انہوں نے یہ اعلان کر دیا تھا کہ کسی شخص کو اپنے مُردوں پر رونے کی اجازت نہیں اور جو تجارتی قافلے آئیں گے ان کی آمد آئندہ جنگ کیلئے محفوظ رکھی جائے گی۔ چنانچہ بڑی تیاری کے بعد تین ہزار سپاہیوں سے زیادہ تعداد کا ایک لشکر ابوسفیان کی قیادت میں مدینہ پر حملہ آور ہوا۔
سوال: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد کے دوران صحابہ کرام کو اپنی کون سی خواب بیان فرمائی اور ان کی رسول کریم ﷺنے کیا تعبیر بیان فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد کے دوران صحابہ کرام کو اپنی خواب بیان فرمائی کہ میں مَیں نے چند گائیں دیکھی ہیں اور میں نے دیکھا ہے کہ میری تلوار کا سرا ٹوٹ گیا ہے اور میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ وہ گائیں ذبح کی جارہی ہیں اور پھر یہ کہ میں نے اپنا ہاتھ ایک مضبوط اور محفوظ زِرہ کے اندر ڈالا ہے اور میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ میں ایک مینڈھے کی پیٹھ پر سوار ہوں۔ صحابہؓ نے کہا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم )آپؐنے اِن خوابوں کی کیا تعبیر فرمائی؟ آپؐنے فرمایا گائے کے ذبح ہونے کی تعبیر یہ ہے کہ میرے بعض صحابہؓ شہید ہوں گے اور تلوار کا سرا ٹوٹنے سے مراد یہ معلوم ہوتی ہے کہ میرے عزیزوں میں سے کوئی اہم وجود شہید ہو گا یا شاید مجھے ہی اس مہم میں کوئی تکلیف پہنچے اور زرہ کے اندر ہاتھ ڈالنے کی تعبیر میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارا مدینہ میں ٹھہرنا زیادہ مناسب ہے اور مینڈھے پر سوار ہونے والے خواب کی تعبیر یہ معلوم ہوتی ہے کہ کفار کے لشکر کے سردار پر ہم غالب آئیں گے۔
سوال: اس خواب کے ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کن استعارات کا ذکر فرمایا؟
جواب: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے استعارات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ استعارات جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکاشفات اور خوابوں میں پائے جاتے ہیں وہ حدیثوں کے پڑھنے والوں پر مخفی اور پوشیدہ نہیں ہیں۔ کبھی کشفی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ہاتھوں میں دو سونے کے کڑے پہنے ہوئے دکھائی دئے اور ان سے دو کذاب مراد لئے گئے جنہوں نے جھوٹے طورپر پیغمبری کا دعویٰ کیا تھا اور کبھی آنحضرت ﷺ کو اپنی رؤیا اور کشف میں گائیاں ذبح ہوتی نظر آئیں اور ان سے مراد وہ صحابہؓ تھے جو جنگ احد میں شہید ہوئے … ایسا ہی بہت سی نظیریں دوسرے انبیاء کے مکاشفات میں پائی جاتی ہیں کہ بظاہر صورت ان پر کچھ ظاہر کیا گیا اور دراصل اس سے مراد کچھ اَور تھا۔ سو انبیاء کے کلمات میں استعارہ اور مجاز کا داخل ہونا کوئی شاذ و نادر امر نہیں ہے۔
سوال: جنگ احد کیلئے تیاری اور صحابہ ؓکی غلطی کے احساس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے کیا فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تیاری اور صحابہ ؓکی غلطی کے احساس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے اس طرح لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمر ؓکے ساتھ اپنے گھر میں تشریف لے گئے جہاں حضرت ابوبکرؓ اورحضرت عمر ؓکی مدد سے آپؐ نے عمامہ باندھا اورلباس پہنا۔ پھر ہتھیار لگا کر اللہ کانام لیتے ہوئے باہر تشریف لے آئے۔ لیکن اتنے عرصہ میںان کو بعض صحابہؓ کے کہنے پر اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ انہیں رسول اللہ ﷺ کی رائے کے مقابلہ میں اپنی رائے پراصرار نہیں کرنا چاہئے تھا۔ جب یہ ان کواحساس ہوا تو اکثر ان میں سے پشیمانی کی طرف مائل تھے۔ جب ان لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوہتھیار لگائے اور دوہری زرہ اور خود وغیرہ پہنے ہوئے تشریف لاتے دیکھا توان کی ندامت اَور بھی زیادہ ہو گئی اور انہوں نے قریباً ایک زبان ہوکر عرض کیا کہ یارسول اللہؐ! ہم سے غلطی ہو گئی کہ ہم نے آپؐکی رائے کے مقابلہ میں اپنی رائے پر اصرار کیا۔ آپﷺ جس طرح مناسب خیال فرماتے ہیں اسی طرح کارروائی فرمائیں۔ ان شاء اللہ اسی میں برکت ہوگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:خدا کے نبی کی شان سے یہ بعید ہے کہ وہ ہتھیار لگاکرپھر اتار دے قبل اس کے کہ خدا کوئی فیصلہ کرے۔ پس اب اللہ کا نام لے کر چلو ۔اوراگرتم نے صبر سے کام لیا تو یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت تمہارے ساتھ ہوگی۔
سوال: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد کے دوران قبیلہ اوس ،قبیلہ خزرج اور مہاجرین کا جھنڈا کس کو عنایت فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر تین نیزے منگوائے اور ان پر تین جھنڈے باندھے اور قبیلہ اوس کا جھنڈا اُسید بن حضیر ؓکو دیا اور قبیلہ خزرج کا جھنڈا حُبَاب بن مُنْذِرؓکو دیا اور مہاجرین کا جھنڈا حضرت علی ؓکو دیا ۔
سوال: غزوۂ احد میں مسلمانوں کے پاس کتنے گھوڑے تھے؟
جواب: حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: غزوۂ احد کے دن مسلمانوں کے پاس دو گھوڑے تھے۔ ایک گھوڑا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا جس کا نام سَکْب تھا اور دوسرا گھوڑا حضرت ابوبُردہؓ کے پاس تھا جس کا نام مُلَاوِح تھا۔
سوال: رسول کریم ﷺ نے سمرہ بن جندب کو جنگ احد میں کب جانے کی اجازت مرحمت فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رافع بن خدیج کو جنگ احد میںتیر انداز کے طور پر مقرر فرمایا تو سمرہ بن جندب نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رافع بن خدیج کو اجازت دے دی ہے اور مجھے واپس کر دیا ہے حالانکہ میں کُشتی رافع بن خدیج کو پچھاڑ سکتا ہوںاس پر سَمُرہ بن جندب نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رافع بن خدیج کو اجازت دے دی ہے اور مجھے واپس کر دیا ہے حالانکہ میں کُشتی میں اس کو پچھاڑ سکتا ہوں۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپؐ نے فرمایا کہ تم دونوں کشتی کرو۔ کشتی میں سَمُرہ نے رافع کو پچھاڑ دیا تو آپؐ نے اس کو بھی اجازت دے دی۔
سوال: کب اِذْ ہَمَّتْ طَّآئِفَتٰنِ مِنْکُمْ اَنْ تَفْشَلَا وَ اللّٰہُ وَلِیُّہُمَا وَ عَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ والی آیت نازل ہوئی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: جب قبیلہ بَنُو سَلَمہ اور بنو حارثہ نے عبداللہ بن اُبَیّ کوغداری کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے بھی واپس ہونے کا ارادہ کیا۔ یہ دونوں قبیلے لشکر کے دونوں بازوؤں پر تھے مگر پھر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں گروہوں کو اس گناہ سے بچا لیا اور انہوں نے واپس جانے کا ارادہ ختم کر دیا اس پر خدا تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اِذْ ہَمَّتْ طَّآئِفَتٰنِ مِنْکُمْ اَنْ تَفْشَلَا وَ اللّٰہُ وَلِیُّہُمَا وَ عَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۔ کہ جب تم میں سے دو گروہوں نے ارادہ کیا کہ وہ بزدلی دکھائیں حالانکہ اللہ دونوں کا ولی تھا اور اللہ ہی پر مومنوں کو توکّل کرنا چاہئے۔
…٭…٭…٭…