اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-03-21

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ1؍دسمبر 2023 بطرز سوال وجواب

سوال: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ بدر کے قیدیوں کا کس قدر خیال رکھتے تھے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آنحضرتﷺ نے قیدیوں کو سہولتیں مہیا فرمائیں قیدی خود کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺکی ہدایت کے مطابق کہ قیدیوں سے بہتر سلوک کرو صحابہؓ اپنی خوراک سے بہتر خوراک ہمیں دیا کرتے تھے۔ پھر ہم نے یہ بھی دیکھا کہ جب ان قیدیوں کی رہائی کا معاملہ آیا تو بڑی آسان شرائط پر ان کو رہا کر دیا۔ بعض کا فدیہ تو صرف اتنا تھا کہ جن کو لکھنا پڑھنا آتا ہے وہ مسلمانوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں۔
سوال: آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ کے بارے میں حضور انور نے کیا فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: آپؐکی زندگی تو قرآن کریم کے احکام کی عملی تفسیر تھی جہاں عدل و انصاف اور امن کا قیام بنیادی اصول بیان کیے گئے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے کہ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَ لَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ۔ اَے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر مضبوطی سے نگرانی کرتے ہوئے انصاف کی تائید میں گواہ بن جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیںہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو یہ تقویٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو۔ یقیناً اللہ اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے جو تم کرتے ہو۔
سوال: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کن لوگوں کے ساتھ جنگ کی تھی؟
جواب: حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:رسول کریم ﷺ نے ان لوگوں کے ساتھ جنگ کی تھی جو اللہ تعالیٰ کے دین کومٹانا چاہتے تھے۔
سوال: جنگ بدر میں قریش مکہ کی طرف سے کون کون شامل ہوا تھا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: اس جنگ میں قریش کی قیادت ابوسفیان کے ہاتھ میں تھی۔ شاہسواروں کا نگران خالد بن ولید تھا اور عَلَمبردار بنو عبدالدَّار تھے۔ نیز بھالے اٹھائے ہوئے، زرہیں پہنے، ڈھالیں تھامے اور تیر کمان ساتھ لیے اپنے سینوں کو جوش انتقام سے بھر کرتین ہزار جنگجو افراد آنحضرت ﷺسے جنگ کیلئے مکہ سے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ ان میں سے دو ہزار نو سو قریش اور ان کے موالی اور دیگر قبائل میں سے تھے جبکہ سو کنانہ قبائل میں سے تھے۔ سات سو زرہیں، دو سو گھوڑے اور تین ہزار اونٹ ہمراہ لیے تھے جیسا پہلے ذکر ہو چکا ہے۔ راستے میں کھانے کیلئے ذبح کیے جانے والے اونٹ اسکے علاوہ تھے۔ بجانے کیلئے دف اور پینے کیلئے خاص مقدار میں شراب بھی ساتھ اٹھائی۔
سوال: حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ نے غزوۂ احد کی کیا تاریخ بیان فرمائی ہے؟
جواب: حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: سیرت خاتم النّبیینؐ میں غزوۂ احد کی تاریخ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ نے پندرہ شوال تین ہجری 31 مارچ 624عیسوی بروز ہفتہ بیان کی ہے۔
سوال: غزوہ احد کا کیا سبب ہوا تھا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: اس غزوہ کا سبب یہ ہوا کہ جب غزوہ بدر میں قریش کو ایک عبرتناک شکست ہوئی تو قریش کے سرکردہ لوگوں میں سے جیسے عبداللہ بن ابی ربیعہ، عِکْرِمَہ بن ابو جہل اور صَفْوَان بن امیہ، اسود بن مُطَّلِب، جُبیر بن مُطْعَم، حارث بن ہشام، حُوَیْطَبْ بن عبدالعُزّٰی اور قریش کے کچھ دوسرے سرکردہ ابوسفیان کے پاس آئے جنکا اس تجارتی قافلے میں مال تھا جو جنگ بدر کا سبب بنا تھا۔ یہ تجارتی مال مکہ میں لا کر حسب دستور دارالندوہ میں رکھ دیا گیا اور ان کے مال کوان تک نہیں پہنچایا گیا کیونکہ جب یہ مال ابوسفیان لے کر آیا تو مکہ کے لوگ جنگ بدر کیلئے گئے ہوئے تھے۔ جنگ بدر کے کچھ عرصہ بعد ان لوگوں نے آ کر ابوسفیان سے کہا کہ محمد (ﷺ) نے ہمارے بےشمار آدمیوں کو قتل کر دیا ہے۔ اس لیے اس مال تجارت سے محمدﷺ کے ساتھ لڑنے کیلئے جنگ کی تیاری کریں ممکن ہے ہم اپنے مقتولوں کا بدلہ لینے میں کامیاب ہو سکیں۔ ہم خوشی سے اس بات پر تیار ہیں کہ اس مال تجارت کے نفع سے محمدﷺ کے ساتھ مقابلہ کرنے کیلئے ایک لشکر تیار کیا جائے۔یہ سن کر ابوسفیان نے کہا کہ میں اس تجویز کو منظور کرتا ہوں اور بنو عبدمناف میرے ساتھ ہیں۔ اسکے بعد قریش نے مال میں سے نفع الگ کر کے جس کی مالیت پچاس ہزار دینار تھی اصل مال مالکوں کو دے دیا اور ایک قول یہ ہے کہ جو نفع علیحدہ کیا گیا وہ پچیس ہزار دینار تھا۔
جو نفع تھا وہ اس جنگ کیلئے دے دیا گیا۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی کہ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَسَيُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُوْنَ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى جَهَنَّمَ يُحْشَرُوْنَ ۔ یقیناً وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا اپنے مال خرچ کرتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے روکیں۔ پس وہ ان کو اسی طرح خرچ کرتے رہیں گے۔ وہ مال ان پر حسرت بن جائیں گے پھر وہ مغلوب کر دیے جائیں گے اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا جہنم کی طرف اکٹھے کر کے لے جائے جائیں گے۔
سوال: وہ لوگ رسول کریم ﷺ سے جنگ کیوں کرتے تھے جنہیں آپؐسے کسی قسم کی دشمنی نہ تھی؟
جواب: حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: بعض لوگ دشمن کی طرف سے اپنی مجبوریوں کی وجہ سے شامل ہوتے تھے۔وہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ مسلمانوں سے لڑیں لیکن مجبوری تھی۔
سوال:جب جنگ احد کی تیاری کیلئے مشاورت ہوئی تو رسول کریم ﷺ نے کیا خواب اور اسکی کیا تعبیر فرمائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا: جب جنگ احد کی تیاری کیلئے مشاورت ہوئی تو اسی دوران رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رات میں نے ایک خواب دیکھی ہےکہ ایک گائے ہے جو ذبح کی جارہی ہے اور اپنی تلوار یعنی ذوالفقار کی دھار میں مَیں نے دندانہ پڑا دیکھا ہے۔ ایک روایت میں یہ لفظ ہے کہ میری تلوار کا دستہ ٹوٹ گیا ہے۔رسول کریمﷺ نے فرمایا جہاں تک گائے کا تعلق ہے تو اس سے یہ اشارہ ہے کہ میرے کچھ صحابہؓ شہید ہوں گےاور جہاں تک میری تلوار میں دراڑ کا تعلق ہے تو اس سے یہ اشارہ ہے کہ میرے گھر والوں یا خاندان میں سے کوئی شخص قتل ہو گا۔ ٭