سوال:کسی شخص کے دعویٰ نبوت پر سب سے پہلے کیا دیکھا جاتا ہے؟
جواب:رت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:اصل حقیقت یہ ہے کہ کسی شخص کے دعویٰ نبوت پر سب سے پہلے زمانہ کی ضرورت دیکھی جاتی ہے۔ پھریہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ وہ نبیوں کے مقرر کردہ وقت پر آیا ہے یا نہیں۔ پھر یہ بھی سوچا جاتا ہے کہ خدا نے اس کی تائید کی ہے یا نہیں۔ پھر یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ دشمنوں نے جو اعتراض اٹھائے ہیں ان اعتراضات کا پورا پورا جواب دیا گیا یا نہیں۔ جب یہ تمام باتیں پوری ہو جائیں تو مان لیا جائے گا کہ وہ انسان سچا ہے ورنہ نہیں۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے آنے کی کیا غرض و غائت بیان فرمائی؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اتمام حجت کیلئے میں یہ ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ … خدائے تعالیٰ نے اس زمانہ کو تاریک پا کر اور دنیا کو غفلت اور کفر اور شرک میں غرق دیکھ کر ایمان اور صدق اور تقویٰ اور راستبازی کو زائل ہوتے ہوئے مشاہدہ کر کے مجھے بھیجا ہے کہ تا وہ دوبارہ دنیا میں علمی اور عملی اور اخلاقی اور ایمانی سچائی کو قائم کرے اور تا اسلام کو ان لوگوں کے حملہ سے بچائے جو فلسفیت اور نیچریت اور اِباحَت اور شرک اور دہریت کے لباس میں اس الٰہی باغ کو کچھ نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ سو اَے حق کے طالبو سوچ کر دیکھو کہ کیا یہ وقت وہی وقت نہیں ہے جس میں اسلام کیلئے آسمانی مدد کی ضرورت تھی ۔کیا ابھی تک تم پر یہ ثابت نہیں ہوا کہ گذشتہ صدی میں جو تیرھویں صدی تھی کیا کیا صدمات اسلام پر پہنچ گئے اور ضلالت کے پھیلنے سے کیا کیا ناقابلِ برداشت زخم ہمیں اٹھانے پڑے۔ کیا ابھی تک تم نے معلوم نہیں کیا کہ کن کن آفات نے اسلام کو گھیرا ہوا ہے۔ کیا اس وقت تم کو یہ خبر نہیں ملی کہ کس قدر لوگ اسلام سے نکل گئے کس قدر عیسائیوں میں جا ملے کس قدر دہریہ اور طبعیہ ہو گئے اور کس قدر شرک اور بدعت نے توحید اور سنت کی جگہ لے لی اور کس قدر اسلام کے ردّ کیلئے کتابیں لکھی گئیں اور دنیا میں شائع کی گئیں۔ سو تم اب سوچ کر کہو کہ کیا اَب ضرور نہ تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس صدی پر کوئی ایسا شخص بھیجا جاتا جو بیرونی حملوں کا مقابلہ کرتا۔ اگر ضرور تھا تو تم دانستہ الٰہی نعمت کو ردّ مت کرو اور اس شخص سے منحرف مت ہوجاؤ جس کا آنا اس صدی پر اس صدی کے مناسب حال ضروری تھا اور جس کی ابتدا سے نبی کریم نے خبر دی تھی۔
سوال: جماعت احمدیہ کی ترقی ہمیں کس بات کا ثبوت دے رہی ہے؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:آج بھی جماعت احمدیہ کی ترقی اور ہر سال لوگوں کا لاکھوں کی تعداد میں جماعت میں شامل ہونا، قربانیوں میں بڑھنا آپؑکی سچائی کا ثبوت ہے۔ آج دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جہاں آپؑکا پیغام نہ پہنچا ہو، جہاں آپؑکے پیغام کی وجہ سے سعید روحوں کو اسلام کی طرف توجہ پیدا نہ ہوئی ہو اور انہوں نے اسلام قبول نہ کیا ہو بلکہ بعض جگہ ایسے واقعات ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے خود لوگوں کی راہنمائی فرمائی ہے اور وہ جماعت میں شامل ہوئے۔
سوال:بابائیو اسلام بیک صاحب روسی نے اپنی بیعت کی کیا وجہ بتائی؟
جواب: حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:بابائیو اسلام بیک (Boboev Islombek) صاحب روسی کہتے ہیں کہ میرا تعلق قرغیزستان میں کاشغر قِشلاق سے ہے میرے خط لکھنے کی وجہ یہ ہے کہ میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کی بیعت کرتے ہوئے حقیقی اسلام یعنی جماعت میں شامل ہو رہا ہوں۔ احمدیت میں شامل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام نے اسلام کی خوبیوں کو بہت عمدہ طریق پر بیان کیا ہے۔ مجھے یقین ہو گیا ہے کہ صرف امام مہدیؑ ہی اس طرح اسلام کی خوبیوں کو بیان کر سکتے ہیں۔ میرے لیے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے متقی بنا دے اور دس شرائط بیعت پر عمل کرنے والا بنا دے۔
سوال: کانگو کے صوبہ منیما کےایک عیسائی دوست فیروز ماجک صاحب اور حسین صاحب نےکس طرح احمدیت کو قبول کیا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: کانگو کے صوبہ منیما کی ایک جگہ رودیکا کے ایک عیسائی دوست فیروض ماجک صاحب تک جماعت کے پمفلٹ پہنچے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد اور جماعت احمدیہ میں نظام خلافت کی نعمت کا بیان تھا تو اس کو پڑھ کر ان کی کایا پلٹ گئی۔ کہنے لگے میں اسی اسلام کی تلاش میں تھا۔ بیعت کر کے احمدیت میں شامل ہو گئے۔ اسی طرح ایک اَور دوست حسین صاحب نے بھی جماعت کے پمفلٹ پڑھ کر نہ صرف بیعت کر لی بلکہ انہوں نے آگے تبلیغ بھی شروع کر دی اور ان کی تبلیغ سے پانچ لوگ احمدیت میں داخل ہوئے۔
سوال: سِیْرِیْل صاحب کی قبولیت احمدیت کے متعلق حضور انور نے کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: کانگو برازاویل کے ایک نوجوان سِیْرِیْل صاحب نے ایف. اے کی، ہائر سیکنڈری اسکول کی تعلیم مکمل کی اور ایک گاؤں کے کیتھولک مشنری سے عیسائیت کی تعلیم حاصل کرنی شروع کر دی اور اس مشنری تعلیم کے بعد اس نے چرچ کے ذریعہ سے ہی یونیورسٹی جانا تھا۔ اس دوران اس کا رابطہ ہمارے مقامی مبلغ کے ساتھ ہو گیا۔ مبلغ صاحب کہتے ہیں اس کو ہم نے تبلیغ شروع کی۔ اس نے دیکھا کہ جماعت احمدیہ کے دلائل کا اس کے پاس، نہ ہی اس کے ٹیچر مشنری کے پاس کوئی جواب ہے۔ اس طرح اس نے عیسائی مشنری بننے کی بجائے بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شمولیت اختیار کر لی اور اب بطور داعی الی اللہ احمدیت کی تبلیغ کر رہا ہے۔
سوال:سینٹرل افریقہ میں یلوکے کے معلم صاحب کی تبلیغ کے نتیجہ میں کیا ہوا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا: سینٹرل افریقہ میں ایک جگہ ہےیلوکے (Yaloke)وہاں معلم کہتے ہیں کہ ہم تبلیغ کیلئے گئے تو وہاں ڈیڑھ سو افراد مردوزن تبلیغ سننے کیلئے جمع ہو گئے۔ کہتے ہیں میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کے نشانات پر تقریر کی اور بعد میں سوال و جواب کیے گئے۔ وہاں کے سینٹرل امام سَامَسَہ عمر (Samasa Omer) صاحب نے بات کرنے کی اجازت چاہی اور اپنی بات کا آغاز اس آیت سے کیا کہ جَآءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًااور پھر کہا کہ آپ نے جو پیغام دیا ہے ہم نے نہ کبھی سنا اور نہ ہی ریسرچ کی۔ الحمد للہ کہ آج ہمارے گاؤں میں سچائی آ گئی ہے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام جب آئے تو فوراً قبول کر لینا آج میں خود اور میرے چالیس ساتھی جماعت احمدیہ مسلمہ میں داخل ہوتے ہیں اور کہنے لگے اللہ تعالیٰ ہمیں اس سچائی پر قائم رہنے کی توفیق دے۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نےجماعت احمدیہ کی ترقی کے متعلق کیا فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :ایک عظیم الشان نشان یہ ہے کہ آج سے23 برس پہلے براہین احمدیہ میں یہ الہام موجود ہے کہ لوگ کوشش کریں گے کہ اس سلسلہ کو مٹا دیں اور ہر ایک مکر کام میں لائیں گے مگر مَیں اس سلسلہ کو بڑھاؤں گا اور کامل کرو ں گا اور وہ ایک فوج ہو جائے گی۔ اور قیامت تک ان کا غلبہ رہے گا اور میں تیرے نام کو دنیا کے کناروں تک شہرت دوں گا اور جوق در جوق لوگ دُور سے آئیں گے اور ہر ایک طرف سے مالی مدد آئے گی۔ مکانوں کو وسیع کرو کہ یہ طیاری آسمان پر ہو رہی ہے۔ دیکھو کس زمانہ کی یہ پیشگوئی ہے جو آج پوری ہوئی۔ یہ خدا کے نشان ہیں جو آنکھوں والے ان کو دیکھ رہے ہیں مگر جو اندھے ہیں ان کے نزدیک ابھی تک کوئی نشان ظاہر نہیں ہوا۔ …٭…٭…