اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-07-02

شکرگزاری، اطاعتِ نظام اور جلسہ کی برکات

سوال: اس خطبہ کا مرکزی موضوع کیا تھا؟
جواب: اس خطبہ کا مرکزی موضوع جماعت احمدیہ جرمنی کے جلسہ سالانہ 2007ء کا جائزہ، جلسہ کی برکات، شکرگزاری، اطاعتِ نظام، کارکنان کے اخلاص، جلسہ کے مقاصد، نومبائعین کی ترقی اور جماعتی نظم و ضبط کی اہمیت تھا۔
سوال: حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جلسہ سالانہ کے کامیاب انعقاد کا اصل سبب کیا بیان فرمایا؟
جواب: حضور انور نے فرمایا کہ جلسہ کی کامیابی صرف انسانی منصوبہ بندی یا محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل، دعاؤں، شکرگزاری اور کارکنان کے اخلاص کا ثمر ہے۔
سوال: جلسہ کے انتظامات کے دوران احمدیوں کا عمومی رویہ کیا ہوتا ہے؟
جواب: احمدی کارکن بڑی لگن، شوق، اخلاص اور دعا کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتے رہتے ہیں۔
سوال: حضور انور نے شکرگزاری کے متعلق قرآن کریم کی کون سی آیت پیش فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا:
لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ
(سورۃ ابراہیم: 8)
یعنی اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔
سوال: اگلے سال ہونے والے خلافت جوبلی جلسہ کے متعلق حضور انور نے کیا توقع ظاہر فرمائی؟
جواب: حضور انور نے فرمایا کہ ان شاء اللہ حاضری زیادہ ہوگی اور انتظامات بھی پہلے سے زیادہ وسیع کرنے پڑیں گے۔
سوال: آنحضرت ﷺ شکرگزاری کے لیے کون سی دعا کیا کرتے تھے؟
جواب: آپ ﷺ دعا کرتے تھے:
اللّٰهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ (سنن ابی داؤد)
سوال: حضور انور نے لوگوں کا شکر ادا کرنے کی کیا اہمیت بیان فرمائی؟
جواب: فرمایا کہ جو انسان لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ کا بھی شکر گزار نہیں بن سکتا۔
سوال: جلسہ کے انتظامات کو دیکھ کر غیر مسلم مہمانوں کا کیا ردعمل تھا؟
جواب: انہوں نے انتظامات، نظم و ضبط، کارکنان کے اخلاص اور حکومتی مدد کے بغیر اتنے بڑے جلسہ کے انعقاد پر حیرت اور تعریف کا اظہار کیا۔
سوال: مالٹا اور انڈونیشیا سے آئے ہوئے مہمانوں نے کس چیز کی تعریف کی؟
جواب: انہوں نے جلسہ کے غیر معمولی نظم و ضبط، حسنِ انتظام اور کارکنان کے تعاون کی تعریف کی۔
سوال: جرمنی کے جلسہ کو زیادہ منظم (Organized) کیوں قرار دیا گیا؟
جواب: کیونکہ وہاں پاکستان سے تربیت یافتہ کارکنان آئے تھے جنہوں نے دوسروں کو بھی تربیت دی اور انتظامی نظام مضبوط بنایا۔
سوال: جرمنی کے جلسہ کی جگہ (Maimarkt Mannheim) کو اللہ تعالیٰ کا فضل کیوں قرار دیا گیا؟
جواب: کیونکہ وہاں بہترین انفراسٹرکچر اور سہولیات موجود تھیں جس سے بہت سے انتظامی کام آسان ہو گئے۔
سوال: لنگر خانہ کے انتظامات میں اس سال کون سی نئی ایجاد شامل کی گئی؟
جواب: ایک انجینئر نے دیگیں دھونے کے لیے سیمی آٹومیٹک مشین تیار کی جس سے دیگیں بہت کم وقت میں صاف ہو جاتی تھیں۔
سوال: ایسی ایجادات پر کارکنان کو کیا نصیحت کی گئی؟
جواب: کہ وہ تکبر کا شکار نہ ہوں بلکہ مزید عاجزی، شکرگزاری اور عبادت میں بڑھیں۔
سوال: جماعتی ترقی کا اصل راز کیا بیان فرمایا گیا؟
جواب: اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق، اطاعتِ نظام، اطاعتِ خلافت اور خدمتِ دین کا جذبہ۔
سوال: اطاعتِ نظام کے بارے میں حضور انور نے کیا ہدایت فرمائی؟
جواب: فرمایا کہ اگر کسی عہدیدار سے شکایت ہو تو خلیفۂ وقت کو اطلاع دی جا سکتی ہے لیکن اطاعت سے انکار کسی صورت جائز نہیں۔
سوال: ایک جرمن نومبائع نے کس مسئلہ کی نشاندہی کی؟
جواب: کہ بعض سابق عہدیداران نئے عہدیداران سے تعاون نہیں کرتے اور ان کی اطاعت نہیں کرتے۔
سوال: حضور انور نے ایسے افراد کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب: فرمایا کہ یہ رویہ انتہائی افسوسناک ہے اور ایسے لوگوں کو استغفار اور اصلاح کی ضرورت ہے۔
سوال: اگر جماعتی اور ذیلی تنظیم کے کام میں ٹکراؤ ہو تو کس کام کو ترجیح دی جائے گی؟
جواب: جماعتی نظام کے کام کو ترجیح دی جائے گی کیونکہ جماعتی نظام بنیادی اور مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
سوال: ذیلی تنظیموں (خدام، انصار، لجنہ) کے قیام کا مقصد کیا ہے؟
جواب: جماعت کے مختلف طبقات کو فعال بنانا، تربیت کرنا اور ترقی کی رفتار کو تیز کرنا۔
سوال: عورتوں کے جلسہ میں شور کے متعلق حضور انور نے کیا اظہار فرمایا؟
جواب: فرمایا کہ بارہا توجہ دلانے کے باوجود بعض خواتین پروگرام کے دوران باتیں کرتی رہیں جس سے دوسروں کو استفادہ کا موقع نہ ملا۔
سوال: شور کی وجہ سے کن خواتین کو تکلیف ہوئی؟
جواب: ان خواتین کو جو خالصتاً جلسہ سننے اور روحانی فائدہ حاصل کرنے کی نیت سے آئی تھیں۔
سوال: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک سال جلسہ سالانہ کیوں منعقد نہیں کیا تھا؟
جواب: کیونکہ جلسہ کے مقاصد پورے نہیں ہو رہے تھے اور شامل ہونے والے اس کی روح کو سمجھنے سے غافل تھے۔