سوال:خطبہ جمعہ 31؍ اگست 2007ء کا مرکزی موضوع کیا تھا؟
جواب:اس خطبہ کا مرکزی موضوع جلسہ سالانہ کے حقیقی مقاصد، جلسہ میں شامل ہونے والوں کی ذمہ داریاں، تقویٰ، ذکرِ الٰہی، عبادت، حقوق اللہ و حقوق العباد کی ادائیگی، باہمی محبت، اطاعتِ نظامِ جماعت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قائم کردہ روحانی و اخلاقی تعلیمات پر عمل کرنا تھا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ جلسہ سالانہ محض ایک اجتماع یا رسم نہیں بلکہ روحانی انقلاب اور اصلاحِ نفس کا ذریعہ ہے۔
سوال:حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جلسہ سالانہ کے انعقاد کا بنیادی مقصد کیا بیان فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ جلسہ کا مقصد ظاہری شان و شوکت یا لوگوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ اصلاحِ خلق، روحانی ترقی، تقویٰ میں اضافہ اور خدا تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنا ہے۔ آپؑ نے فرمایا:"میں ہرگز نہیں چاہتا کہ حال کے پیرزادوں کی طرح صرف ظاہری شوکت دکھانے کے لیے اپنے مبائعین کو اکٹھا کروں بلکہ وہ علتِ غائی جس کے لیے میں حیلہ نکالتا ہوں اصلاحِ خلق اللہ ہے۔‘‘
سوال:جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والے احمدیوں کو کن مقاصد کو سامنے رکھنا چاہیے؟
جواب:ہر احمدی کو جلسہ میں شامل ہوتے وقت یہ نیت رکھنی چاہیے کہ:خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی ہے۔تقویٰ میں ترقی کرنی ہے۔عبادات اور ذکرِ الٰہی میں بہتری لانی ہے۔اعلیٰ اخلاق اختیار کرنے ہیں۔حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے ہیں۔باہمی محبت اور اخوت کو فروغ دینا ہے۔رنجشوں اور اختلافات کو ختم کرنا ہے۔اپنی روحانی اور اخلاقی اصلاح کرنی ہے۔
سوال:اگر جلسہ سالانہ میں شامل ہونے کے باوجود تقویٰ میں ترقی نہ ہو تو اس بارے میں حضور انور نے کیا فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا کہ اگر جلسہ میں شرکت کے باوجود انسان کے تقویٰ، اخلاق اور روحانیت میں کوئی ترقی پیدا نہ ہو تو جلسہ میں شامل ہونے کا مقصد فوت ہوجاتا ہے۔ محض تعداد میں اضافہ یا حاضری کا بڑھ جانا حضرت مسیح موعودؑ کی بعثت کے مقصد کو پورا نہیں کرتا بلکہ اصل کامیابی تقویٰ اور روحانی ترقی ہے۔
سوال:حضرت مسیح موعودؑ کے نزدیک بیعت کا حقیقی مقصد کیا ہے؟
جواب:حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا:’’بیعت کرنے سے غرض یہ ہے کہ تا دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو اور اپنے مولا کریم اور رسول مقبول ﷺ کی محبت دل پر غالب آجائے‘‘یعنی بیعت کا مقصد دنیاوی محبتوں کو کم کرکے اللہ تعالیٰ اور رسول کریم ﷺ کی محبت کو زندگی پر غالب کرنا ہے۔
سوال:اللہ تعالیٰ اور رسول کریم ﷺ کی محبت کا حقیقی تقاضا کیا ہے؟
جواب:اس کا تقاضا یہ ہے کہ:انسان دین کو دنیا پر مقدم کرے۔عبادتوں کا حق ادا کرے۔قرآن و سنت کی تعلیم پر عمل کرے۔تقویٰ اختیار کرے۔دنیاوی نعمتوں کو اللہ تعالیٰ سے دور ہونے کا ذریعہ نہ بنائے۔ہر معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھے۔
سوال:حضرت مسیح موعودؑ نے جماعت احمدیہ کے قیام کی غرض کیا بیان فرمائی؟
جواب:حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا:’’خدا تعالیٰ نے جو اس جماعت کو بنانا چاہا ہے تو اس سے یہی غرض رکھی ہے کہ وہ حقیقی معرفت جو دنیا سے مفقود ہوگئی تھی اور وہ حقیقی تقویٰ و طہارت جو اس زمانہ میں پائی نہیں جاتی تھی اسے دوبارہ قائم کرے۔‘‘
سوال:حضرت مسیح موعودؑ نے جماعت کو کس بلند روحانی مقام کے حصول کی تلقین فرمائی؟
جواب:آپؑنے فرمایا:"ہماری جماعت تقویٰ سے کام لے اور اولیاء بننے کی کوشش کرے۔"یعنی ہر احمدی کو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے، عبادت گزار بننے اور روحانی ترقی کی راہوں پر چلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
سوال:اولیاء اللہ کی کیا علامات ہیں؟
جواب:اولیاء اللہ:ہر وقت خدا تعالیٰ کی رضا کے طالب ہوتے ہیں۔ذکرِ الٰہی میں مشغول رہتے ہیں۔عبادتوں کی پابندی کرتے ہیں۔دنیاوی مصروفیات کے باوجود خدا کو یاد رکھتے ہیں۔اپنے ہر عمل میں خدا تعالیٰ کی خوشنودی تلاش کرتے ہیں۔
سوال:حضرت مسیح موعودؑ نے اللہ تعالیٰ کی یاد اور محبت کو کس مثال سے سمجھایا؟
جواب:آپؑ نے فرمایا کہ جس طرح کسی بیمار بچے کا باپ ہر وقت اپنے بچے کی فکر میں رہتا ہے، اسی طرح خدا تعالیٰ سے حقیقی محبت رکھنے والا شخص ہر حالت میں خدا کو یاد رکھتا ہے اور اس سے غافل نہیں ہوتا۔
٭…٭…٭