اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-06-18

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ24؍اگست2007ء بطرز سوال وجواب بمنظوری سیّدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

سوال: اس خطبہ جمعہ کا مرکزی موضوع کیا تھا؟
جواب:اس خطبہ کا مرکزی موضوع اسلام، بانیٔ اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور قرآن کریم پر کیے جانے والے اعتراضات کا مدلل جواب، خدا تعالیٰ کی معرفت کی اہمیت، مادیت پرستی کے نقصانات، دنیا میں بڑھتی ہوئی قدرتی آفات کی تنبیہی حیثیت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا بیان تھا۔ حضورِ انور نے واضح فرمایا کہ اسلام ہی وہ مذہب ہے جو موجودہ دور میں خدا تعالیٰ کا حقیقی اور زندہ تصور پیش کرتا ہے۔
سوال: حضورِ انور نے موجودہ دنیا کی سب سے بڑی روحانی بیماری کیا بیان فرمائی؟
جواب:حضورِ انور نے فرمایا کہ موجودہ دنیا کی سب سے بڑی بیماری مادیت پرستی ہے۔ انسان مادی ترقی، سائنسی ایجادات اور دنیاوی آسائشوں میں اس قدر محو ہو چکا ہے کہ اپنے خالق کو بھول گیا ہے۔ حالانکہ تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہیں اور ان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان خدا کا شکر گزار بنے اور اس کی عبادت کرے۔
سوال: مغربی دنیا میں مذہب سے دوری کی کیا وجوہات بیان کی گئیں؟
جواب:حضورِ انور نے فرمایا کہ مغربی دنیا میں بہت سے لوگ اس لیے مذہب سے دور ہوئے کیونکہ ان کے مذاہب انہیں زندہ خدا کا تعارف نہ کرا سکے۔ تثلیث اور متعدد خداؤں کے تصورات نے انہیں حقیقی اطمینان نہ دیا۔ دعا کے فلسفہ اور خدا تعالیٰ سے زندہ تعلق کے فقدان نے انہیں مذہب سے متنفر کر دیا، جس کے نتیجہ میں بعض لوگ خدا کے وجود کے ہی منکر بن گئے۔
سوال: خیرت ولڈرز (Geert Wilders) نے اسلام اور آنحضرت ﷺ پر کیا اعتراضات کیے؟
جواب:اس ڈچ سیاستدان نے یہ دعویٰ کیا کہ:آنحضرت ﷺ مکہ میں نرم مزاج تھے لیکن مدینہ میں جا کر (نعوذ باللہ) متشدد بن گئے۔قرآن کریم تشدد کی تعلیم دیتا ہے۔سورۃ التوبہ کی بعض آیات عیسائیوں، یہودیوں اور مرتدوں کے خلاف تشدد پر اکسانے والی ہیں۔قرآن پر پابندی لگنی چاہیے کیونکہ (نعوذ باللہ) یہ فاشسٹ کتاب ہے۔اسلام اور مسلمانوں کو ہالینڈ میں جگہ نہیں ملنی چاہیے۔
سوال: حضورِ انور نے آنحضرت ﷺ کے متعلق تشدد کے الزام کا کیا جواب دیا؟
جواب:حضورِ انور نے فرمایا کہ یہ اعتراض تاریخ اور قرآن دونوں سے لاعلمی کا نتیجہ ہے۔ اگر آنحضرت ﷺ واقعی (نعوذ باللہ) عمر کے آخری حصے میں متشدد ہو گئے تھے تو پھر قرآن کی آخری نازل ہونے والی تعلیمات میں یہ حکم کیوں موجود ہے:"کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔"یہ تعلیم ثابت کرتی ہے کہ اسلام انصاف، رحم اور تقویٰ کا مذہب ہے، نہ کہ تشدد کا۔
سوال: سورۃ التوبہ کی آیت 5 کے متعلق اعتراض کا کیا جواب دیا گیا؟
جواب:حضورِ انور نے وضاحت فرمائی کہ یہ آیت عام عیسائیوں، یہودیوں یا غیر مسلموں کے خلاف نہیں بلکہ ان مشرکین کے متعلق ہے جو معاہدے توڑ رہے تھے، مسلمانوں کے خلاف جنگ کر رہے تھے اور ملک میں فساد پھیلا رہے تھے۔ ایسی صورت میں ہر حکومت اپنے دفاع کا حق رکھتی ہے۔ اسلام نے بھی صرف انہی جنگجو عناصر کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔
سوال: اسلام کی کون سی تعلیم اعتراضات کا سب سے بڑا جواب ہے؟
جواب:اسلام کی یہ تعلیم کہ:’’کسی قوم کی دشمنی تمہیں انصاف سے نہ روک دے‘‘اعتراضات کا سب سے بڑا جواب ہے۔ دنیا کے مذاہب اور سیاسی نظاموں میں بھی ایسی اعلیٰ اور عالمگیر تعلیم کم ہی ملتی ہے جو دشمن کے ساتھ بھی عدل کا حکم دیتی ہو۔
سوال: ہالینڈ کے انصاف پسند افراد نے خیرت ولڈرز کے بیان پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟
جواب:متعدد سیاستدانوں، وکلاء اور دانشوروں نے اس کے بیان کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا:مذہبی آزادی سلب کرنا غلط ہے۔قرآن پر پابندی لگانے کا مطالبہ غیر جمہوری ہے۔ایسے خیالات نسل پرستی (Racism) کے مترادف ہیں۔ہالینڈ میں ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہے۔
سوال: احمدیوں کو اس صورتحال میں کیا ذمہ داری سونپی گئی؟
جواب:حضورِ انور نے فرمایا کہ احمدیوں کو:اسلام کے خلاف اعتراضات کا علمی جواب دینا چاہیے۔انصاف پسند لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔اسلام کی حقیقی تعلیم دنیا تک پہنچانی چاہیے۔خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا پیغام عام کرنا چاہیے۔دنیا کو یہ بتانا چاہیے کہ حقیقی سکون خدا تعالیٰ کے قرب میں ہے۔
سوال: قدرتی آفات کے بارے میں حضورِ انور نے کیا فرمایا؟
جواب:حضورِ انور نے فرمایا کہ دنیا بھر میں آنے والے طوفان، زلزلے، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات انسانیت کے لیے تنبیہ ہیں۔ یہ آفات انسان کو خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ کرتی ہیں اور یاد دلاتی ہیں کہ انسان اپنی طاقت اور ترقی پر غرور نہ کرے۔
سوال: ہالینڈ کے سمندری حفاظتی منصوبے (Delta Works) کا ذکر کیوں کیا گیا؟
جواب:حضورِ انور نے فرمایا کہ اگرچہ انسان اپنی حفاظت کے لیے بہترین منصوبے بناتا ہے لیکن حقیقی حفاظت صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ انسانی تدابیر مفید ضرور ہیں مگر وہ خدا تعالیٰ کی تقدیر کے مقابلہ میں مکمل ضمانت نہیں بن سکتیں۔
سوال: حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے زمانہ میں آفات کے بارے میں کیا پیشگوئی فرمائی تھی؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:’’اگر میں نہ آیا ہوتا تو ان بلاؤں میں کچھ تاخیر ہو جاتی، پر میرے آنے کے ساتھ خدا کے غضب کے وہ مخفی ارادے ظاہر ہو گئے۔‘‘یعنی آپؑ کی بعثت انسانیت کے لیے تنبیہ اور اتمامِ حجت کا ذریعہ تھی۔
سوال: حضورِ انور نے 2007ء میں آنے والی آفات سے کیا راہنمائی فرمائی؟
جواب:حضورِ انور نے فرمایا کہ دنیا کے تقریباً ہر خطہ میں زلزلے، سیلاب، طوفان اور دیگر آفات کا آنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ انسان کو متنبہ کر رہا ہے کہ وہ اپنی سرکشی اور خدا فراموشی سے باز آئے۔