سوال:حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک حقیقی مومن کون ہے؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مطابق حقیقی مومن وہ ہے جس کے اعمال اس کے ایمان پر گواہی دیتے ہوں، جس کے دل پر ایمان نقش ہو چکا ہو، جو خدا تعالیٰ اور اس کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھتا ہو، تقویٰ کی باریک اور تنگ راہوں پر چلتا ہو، خدا کی محبت میں محو ہو اور ہر اس چیز کو ترک کر دے جو اسے خدا تعالیٰ سے دور لے جاتی ہو۔
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد 21، صفحہ 209)
سوال:تقویٰ کی باریک راہوں سے حضرت مسیح موعودؑ کی کیا مراد ہے؟
جواب:حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ تقویٰ کی باریک راہیں انسان کی روحانی خوبصورتی کے لطیف نقوش اور خوشنما خط وخال ہیں۔ ان سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے تمام ظاہری اور باطنی قویٰ مثلاً آنکھ، کان، ہاتھ، پیر، دل اور دیگر اخلاقی قوتوں کو صحیح مواقع پر استعمال کرے، ناجائز استعمال سے بچائے، اللہ تعالیٰ کی امانتوں کی حفاظت کرے اور حقوق العباد کا بھی پورا خیال رکھے۔
سوال:حضرت مسیح موعودؑ نے ایمان کی نشوونما کو کس مثال سے سمجھایا ہے؟
جواب:آپؑنے ایمان کو ایک بیج سے تشبیہ دی ہے۔ پہلے خشوع اور خوفِ الٰہی کا بیج دل میں پیدا ہوتا ہے، پھر لغویات سے اجتناب کے نتیجہ میں ایمان کا نرم سبزہ نکلتا ہے۔ مالی قربانیوں سے اس میں شاخیں پیدا ہوتی ہیں، شہواتِ نفسانیہ کے خلاف جہاد سے یہ مضبوط ہوتی ہیں اور عہدوں اور امانتوں کی حفاظت سے ایمان کا درخت مضبوط تنے پر کھڑا ہو جاتا ہے۔
سوال:ایمانی عہدوں سے کیا مراد ہے؟
جواب:ایمانی عہدوں سے مراد وہ وعدے ہیں جو انسان ایمان لاتے وقت اور بیعت کرتے وقت خدا تعالیٰ سے کرتا ہے۔ ان میں توحیدِ الٰہی کا قیام، آنحضرت ﷺ کی کامل پیروی، حضرت مسیح موعودؑ کو حکم و عدل ماننا، حقوق العباد کی ادائیگی، خلافتِ احمدیہ کی اطاعت اور دینی فرائض کی بجاآوری شامل ہیں۔
سوال:اللہ تعالیٰ مومنین کے متعلق قرآن کریم میں کیا وعدہ فرماتا ہے؟
جواب:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ۙ یُخْرِجُہُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ(البقرۃ: 258) یعنی اللہ تعالیٰ مومنوں کا دوست ہے اور انہیں اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لے جاتا ہے۔
سوال:حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے اللہ تعالیٰ کی دوستی کے بارے میں کیا وضاحت فرمائی؟
جواب:حضور انور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ صرف دوست ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا بلکہ اپنے مومن بندوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے، ان کی روحانی اور دنیاوی ضروریات پوری کرتا ہے، ان کی دعائیں سنتا ہے اور ان کی زندگی میں برکتیں عطا فرماتا ہے۔
سوال:قرآن کریم کی آیت وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا کی حضرت مسیح موعودؑ نے کیا تشریح فرمائی؟
جواب:آپؑنے فرمایا کہ انسان کو اپنی تمام تر طاقت اور استطاعت کے مطابق کوشش کرنی چاہیے۔ اگر پانی بیس ہاتھ کھودنے پر نکلتا ہے تو صرف دو ہاتھ کھود کر ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ جو شخص دعا، مجاہدہ اور تزکیۂ نفس میں پوری کوشش کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے کامیابی کے راستے کھول دیتا ہے۔
سوال:خلافتِ احمدیہ کو حضور انور نے کس حیثیت سے بیان فرمایا؟
جواب:حضور انور نے فرمایا کہ خلافتِ احمدیہ اللہ تعالیٰ کے عظیم وعدوں میں سے ایک وعدہ ہے جو مومنین کے سکون، اتحاد، راہنمائی اور تمکنت کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ گزشتہ سو سال سے جماعت احمدیہ اس وعدے کو پورا ہوتے دیکھ رہی ہے۔
سوال:اللہ تعالیٰ مومنین اور کافروں کے متعلق کیا فرق بیان فرماتا ہے؟
جواب:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ مَوْلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاَنَّ الْکٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰی لَھُمْ(محمد: 12)یعنی اللہ تعالیٰ مومنوں کا مددگار اور دوست ہے جبکہ کافروں کا کوئی حقیقی مددگار نہیں۔
سوال:اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی مدد کے متعلق کیا وعدہ فرمایا ہے؟
جواب:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَکَانَ حَقًّاعَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ(الروم: 48)یعنی مومنوں کی مدد کرنا ہم نے اپنے اوپر لازم کر لیا ہے۔اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے سچے مومن بندوں کی نصرت فرماتا ہے۔
سوال:جنگ بدر کے واقعہ سے مومنین کے لیے کیا سبق ملتا ہے؟
جواب:جنگ بدر میں مسلمانوں کی تعداد اور سازوسامان نہایت کم تھا جبکہ کفار تعداد اور طاقت میں بہت زیادہ تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی مدد فرمائی اور انہیں عظیم فتح عطا کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کامیابی ظاہری وسائل پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت پر موقوف ہے۔
سوال:حضرت مسیح موعودؑ کو ملنے والا الہام ’’وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ‘‘کیا پیغام دیتا ہے؟
جواب:اس الہام میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح
موعودؑ کو یقین دلایا کہ آپؑکی تمام کوششیں دراصل خدائی تائید کے ساتھ ہیں اور آپؑکی جماعت کی کامیابی اور غلبہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں شامل ہے۔ یہ آپؑکی صداقت اور جماعت احمدیہ کی کامیابی کی ایک عظیم بشارت ہے۔
سوال:حضرت مسیح موعودؑ کے نزدیک متقی کون ہے؟
جواب:آپؑفرماتے ہیں کہ متقی وہ نہیں جس میں صرف ایک یا دو اچھی صفات ہوں بلکہ متقی وہ شخص ہے جو تمام اخلاقِ فاضلہ کا جامع ہو اور مجموعی طور پر نیکیوں کا پیکر بن جائے۔
سوال:مومنین کی کامیابی کے لیے کون سی شرط ضروری ہے؟
جواب:اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی کامل اطاعت، حضرت مسیح موعودؑ کی تعلیمات پر عمل، خلافتِ احمدیہ سے وفاداری، تقویٰ، دعا، حقوق العباد کی ادائیگی اور نیکیوں میں ترقی مومنین کی کامیابی کی بنیادی شرائط ہیں۔