سوال: اس خطبہ کا مرکزی موضوع کیا تھا؟
جواب:اس خطبہ جمعہ کا مرکزی موضوع تبلیغِ اسلام کے اصول، آداب، حکمت اور داعیانِ الی اللہ کی ذمہ داریاں تھا۔ حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے قرآنِ کریم، احادیثِ نبویہ ﷺ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مصلح موعودؓ کے ارشادات کی روشنی میں واضح فرمایا کہ تبلیغ صرف بحث و مباحثہ کا نام نہیں بلکہ ایک عظیم روحانی ذمہ داری ہے جس کے لیے علم، اخلاق، دعا، حکمت، صبر اور اللہ تعالیٰ سے تعلق بنیادی شرائط ہیں۔
سوال: حضورِ انور نے تبلیغ کے متعلق کون سی قرآنی آیت پیش فرمائی؟
جواب:حضورِ انور نے سورۃ النحل کی یہ آیت تلاوت فرمائی:اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ (النحل: 126)
ترجمہ:’’اپنے ربّ کے راستہ کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے ایسے طریق پر بحث کرو جو بہترین ہو۔‘‘
سوال: اس آیت میں تبلیغ کے کون سے بنیادی اصول بیان ہوئے ہیں؟
جواب:اس آیت میں تبلیغ کے تین بنیادی اصول بیان ہوئے:حکمت کے ساتھ تبلیغ، موعظتِ حسنہ یعنی نرم اور دلنشین نصیحت، احسن انداز میں گفتگو اور بحث
حضورِ انور نے فرمایا کہ اگر داعی ان اصولوں کو اپنائے تو تبلیغ اثر پیدا کرتی ہے اور لوگوں کے دلوں تک پہنچتی ہے۔
سوال: حضورِ انور نے سوشل میڈیا کے مبلغین کو کیا نصیحت فرمائی؟
جواب:حضورِ انور نے فرمایا کہ آج کل لوگ سمجھتے ہیں کہ سوشل میڈیا کی وجہ سے تبلیغ بہت آسان ہو گئی ہے، مگر تبلیغ کے بھی آداب اور شرائط ہیں۔ اگر علم، حکمت اور اخلاق نہ ہوں تو الٹا نقصان ہو سکتا ہے اور جماعت پر اعتراضات کا موقع مل جاتا ہے۔
سوال:حضرت مسیح موعودؑ نے صرف زبان جاننے والوں کے متعلق کیا فرمایا؟
جواب:حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ صرف انگریزی یا کسی زبان کا جاننا کافی نہیں بلکہ مبلغ کو: اسلامی تعلیم پر کامل عبور،اعتراضات کے جوابات،روحانی تعلق،اور روح القدس سے تائیدحاصل ہونی چاہیے، ورنہ فائدہ سے زیادہ نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے۔
(ازالۂ اوہام، روحانی خزائن جلد 3، صفحہ 516-517)
سوال: حضورِ انور نے داعی الی اللہ کے لیے کون سی بنیادی شرط بیان فرمائی؟
جواب:حضورِ انور نے فرمایا کہ داعی الی اللہ کو:
علم حاصل کرنا چاہیے،اعتراضات کے جواب سیکھنے چاہئیں،اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنا چاہیے،اور اخلاقِ حسنہ اختیار کرنے چاہئیں۔تبھی تبلیغ صحیح رنگ میں کامیاب ہو سکتی ہے۔
سوال:آنحضرت ﷺ نے تبلیغ کے متعلق کیا اصول بیان فرمایا؟
جواب:آنحضرت ﷺ نے فرمایا:’’لوگوں سے ان کی عقلوں کے مطابق بات کرو۔‘‘یعنی ہر شخص کے فہم، مزاج اور مذہبی پس منظر کے مطابق گفتگو کی جائے۔
(کنزالعمال، جلد 5، حدیث 29268)
سوال: حضورِ انور نے مخالفین کی بدزبانی کے مقابل پر کیا ہدایت دی؟
جواب:حضورِ انور نے فرمایا کہ اگر مخالفین سخت زبان استعمال کریں تب بھی احمدی مبلغین کو اخلاق کے دائرہ میں رہنا چاہیے کیونکہ:’’اگر ہم بھی غلط زبان استعمال کریں گے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ہمارے پاس بھی دلیل نہیں۔‘‘
سوال:حضرت مسیح موعودؑ نے سخت الفاظ کے استعمال کے متعلق کیا وضاحت فرمائی؟
جواب:حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ جہاں کبھی سختی اختیار کی گئی وہ ذاتی غصہ یا انتقام کے لیے نہیں تھی بلکہ:
اسلام اور آنحضرت ﷺ کے دفاع، فساد روکنے، اور حکمتِ عملی کے طور پر تھی۔
(البلاغ، روحانی خزائن جلد 13، صفحہ 385)
سوال: حضرت مصلح موعودؓ نے “حکمت” کے کیا معنی بیان فرمائے؟
جواب:حضرت مصلح موعودؓ نے حکمت کے کئی معنی بیان فرمائے:نرمی اور حلم، عقل کے مطابق گفتگو، الٰہی دلائل سے استدلال، جہالت کو دور کرنے والی بات، سچی اور حقیقت پر مبنی گفتگو، موقع و محل کے مطابق کلام
(تفسیر کبیر جلد 4، صفحہ 271-274)
سوال:تبلیغ میں مبالغہ آرائی کے متعلق کیا ہدایت دی گئی؟
جواب:حضورِ انور نے فرمایا کہ تبلیغ میں مبالغہ کی ضرورت نہیں۔ مبلغ کو چاہیے کہ:
قرآن کریم،احادیث،اور حضرت مسیح موعودؑ کے ارشادات کی روشنی میں سچی بات پیش کرے اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دے۔
سوال: قول و فعل کی مطابقت کیوں ضروری ہے؟
جواب:حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ اگر مبلغ خود عمل نہ کرے تو اس کی بات اثر نہیں کرتی۔ آنحضرت ﷺ کی تبلیغ کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ:
’’آپؐکے قول اور فعل میں کامل مطابقت تھی۔‘‘
(ملفوظات جلد 1 صفحہ 67-68)
سوال:حضرت مسیح موعودؑ نے تبلیغ میں نرمی کی کیا اہمیت بیان فرمائی؟
جواب:آپؑ نے فرمایا:’’ایک ہی بات ایک پیرایہ میں دشمن بنا دیتی ہے اور دوسرے پیرایہ میں دوست بنا دیتی ہے۔‘‘
یعنی نرم، محبت بھرے اور حکیمانہ انداز میں بات کرنا تبلیغ کی کامیابی کا راز ہے۔
سوال:حضورِ انور نے’’جہاد‘‘ کے متعلق کیا وضاحت فرمائی؟
جواب:حضورِ انور نے فرمایا کہ موجودہ زمانہ تلوار کے جہاد کا نہیں بلکہ:قلم،علم،دعا،اور تبلیغ کے جہاد کا زمانہ ہے۔حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا:’’تمہارے قلم کی نوکیں اب تلواروں کی نوکیں ہیں۔‘‘
سوال: جماعت احمدیہ کا اصل تبلیغی مقصد کیا ہے؟
جواب:حضورِ انور نے فرمایا کہ ہمارا مقصد صرف بحث جیتنا نہیں بلکہ:دنیا تک حقیقی اسلام کا پیغام پہنچانا،حضرت مسیح موعودؑ کی صداقت واضح کرنا،اور لوگوں کی اصلاح کرنا ہے۔
سوال:مربیان کے متعلق حضورِ انور نے کیا ارشاد فرمایا؟
جواب:حضورِ انور نے فرمایا کہ مربیان کی ذمہ داری صرف تربیت نہیں بلکہ:افراد جماعت کو اللہ تعالیٰ سے جوڑنا،ان کا علم بڑھانا،اور انہیں داعی الی اللہ بنانا بھی ہے۔
سوال:ایک کامیاب مربی کی کون سی صفات بیان ہوئیں؟
جواب: حضرت مصلح موعودؓ کی نصائح کے مطابق کامیاب مربی میں یہ صفات ہونی چاہئیں: تزکیۂ نفس، تہجد کی پابندی، قرآن کریم کا گہرا مطالعہ، ذکرِ الٰہی،توکل علی اللہ،مستقل مزاجی،بدی کے خلاف جرأت،تعلقاتِ عامہ کی صلاحیت، مطالعہ کا شوق، جماعت میں روحانیت پیدا کرنے کی کوشش۔