اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-05-21

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ28؍نومبر2025ءبطرز سوال وجواب بمنظوری سیّدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

سوال:اس خطبہ میں حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے کس غزوہ کے واقعات بیان فرمائے؟
جواب:حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے غزوۂ تبوک کے واقعات اور خصوصاً اس میں پیچھے رہ جانے والے افراد کے حالات بیان فرمائے۔
سوال: منافقین نے غزوۂ تبوک میں شریک نہ ہونے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا؟
جواب:منافقین نے مختلف جھوٹے بہانے اور عذر پیش کیے، قسمیں کھائیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی غیر حاضری کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کی۔
سوال: منافقین کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ التوبہ میں کیا فرمایا؟
جواب:اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ لوگ جھوٹے عذر پیش کریں گے، ان پر اعتبار نہ کیا جائے، یہ رجس (ناپاک) ہیں، اللہ ان سے راضی نہیں اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
سوال: جنگِ تبوک سے پیچھے رہ جانے والوں پر کیا سزا نافذ کی گئی؟
جواب:اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت ناراضگی ظاہر فرمائی، انہیں فاسق قرار دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی نماز جنازہ پڑھنے اور ان کی قبروں پر دعا کرنے سے منع فرمایا، اور آئندہ کسی جنگ میں شرکت کی اجازت نہ دینے کا حکم دیا۔
سوال: جنگِ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے لوگ کتنی اقسام کے تھے؟
جواب:چار اقسام کے تھے:
وہ جو رسول اللہ ﷺ کے حکم سے پیچھے رہےحقیقی معذور، بیمار اور نادار افراد منافقین وہ مخلص صحابہ جو محض سستی کی وجہ سے پیچھے رہ گئے۔
سوال: وہ تین صحابہ کون تھے جو سستی کی وجہ سے پیچھے رہ گئے؟
جواب:حضرت کعب بن مالکؓ،حضرت مرارہ بن ربیعؓ،حضرت ہلال بن امیہؓ
سوال:حضرت کعب بن مالکؓنے اپنی غیر حاضری کے متعلق کیا مؤقف اختیار کیا؟
جواب:انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سچ سچ اعتراف کیا کہ ان کے پاس کوئی حقیقی عذر نہیں تھا اور وہ محض سستی کی وجہ سے پیچھے رہ گئے۔
سوال: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت کعبؓکو کیا فرمایا؟
جواب:آپؐنے فرمایا:
’’اس شخص نے سچ کہا ہے۔ اٹھو اور انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ تمہارے متعلق فیصلہ فرمائے۔‘‘
سوال: ان تین صحابہ کے ساتھ مسلمانوں کو کیا رویہ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا؟
جواب:مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ ان سے مقاطعہ کریں اور ان سے بات چیت نہ کریں۔
سوال: یہ مقاطعہ کتنے دن جاری رہا؟
جواب:یہ مقاطعہ پچاس دن جاری رہا۔
سوال: حضرت کعبؓکے لیے غسان کے بادشاہ کا خط کیا معنی رکھتا تھا؟
جواب:یہ ان کے لیے ایک آزمائش تھی کیونکہ اس میں انہیں مدینہ چھوڑ کر غسان آنے کی دعوت دی گئی تھی، مگر حضرت کعبؓنے اسے فوراً جلا دیا۔
سوال: حضرت کعبؓنے غسان کے بادشاہ کے خط کے ساتھ کیا کیا؟
جواب:انہوں نے اسے تنور میں ڈال کر جلا دیا تاکہ اپنی وفاداری اور ایمان کا ثبوت دیں۔
سوال: اللہ تعالیٰ نے ان تین صحابہ کی توبہ کب قبول فرمائی؟
جواب:پچاسویں دن فجر کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔
سوال: حضرت کعبؓکو خوشخبری کس طرح ملی؟
جواب:ایک شخص نے پہاڑ پر چڑھ کر بلند آواز سے اعلان کیا:’’اے کعب بن مالک! تمہیں بشارت ہو!‘‘
سوال: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت کعبؓکو کیا بشارت دی؟
جواب:آپؐنے فرمایا:
’’تمہیں اس بہترین دن کی خوشخبری ہو جو تمہاری پیدائش کے دن سے لے کر آج تک تم پر آیا ہے۔‘‘
سوال: حضرت کعبؓنے اپنی نجات کا سبب کیا قرار دیا؟
جواب:انہوں نے فرمایا کہ ان کی نجات کا سبب سچ بولنا تھا۔
سوال: حضرت کعبؓکا مشہور قول کیا ہے؟
جواب:انہوں نے فرمایا:
’’اللہ کی قسم! اسلام کی ہدایت کے بعد مجھ پر اللہ کا سب سے بڑا انعام یہ تھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچ بولا۔‘‘
سوال: اس واقعہ سے کیا اخلاقی سبق ملتا ہے؟
جواب:یہ سبق ملتا ہے کہ:سچائی نجات کا ذریعہ ہے، جھوٹ ہلاکت کا باعث ہے،اللہ کے حضور عاجزی اور توبہ قبولیت کا راستہ ہے،آزمائش میں ثابت قدمی کامیابی دیتی ہے۔
سوال: پہلے مرحوم کون تھے؟
جواب:مکرم حافظ محمد ابراہیم عابد صاحب مربی سلسلہ۔
سوال:حافظ محمد ابراہیم عابد صاحب کی نمایاں خصوصیات کیا تھیں؟
جواب:پیدائشی نابینا تھے،حافظ قرآن تھے،جامعہ احمدیہ سے شاہد کی ڈگری حاصل کی،غیر معمولی حافظہ رکھتے تھے،بریل زبان سیکھی۔تقریباً 47 سال خدمتِ سلسلہ کی توفیق پائی۔
سوال: دوسرے مرحوم کون تھے؟
جواب:مکرم شیخ ابوبکر جارج صاحب (معلم سلسلہ لائبیریا)۔
سوال: شیخ ابوبکر جارج صاحب کی نمایاں قربانیاں کیا تھیں؟
جواب:اپنا مکان بطور سینٹر وقف کیا مسجد اور مشن ہاؤس کے لیے زمین دی بڑھاپے کے باوجود تبلیغی دورے کرتے رہے مالی قربانی میں نمایاں تھے۔
سوال: تیسرے مرحوم کا نام کیا تھا؟
جواب:مکرمہ ثمینہ بھنوں صاحبہ۔
سوال: ثمینہ بھنوں صاحبہ کی نمایاں صفات کیا تھیں؟
جواب:نہایت سادہ، صابرہ، شاکرہ، وقف زندگی کے تقاضے خوشدلی سے پورے کیے، مہمان نواز اور غریب پرور خلافت سے بے پناہ محبت رکھنے والی۔
سوال: اس خطبہ کا مرکزی پیغام کیا تھا؟
جواب:اس خطبہ کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ:
سچائی، اخلاص، توبہ اور اللہ و رسول سے وفاداری انسان کو نجات دیتی ہے جبکہ نفاق، جھوٹ اور بہانے بازی انسان کو اللہ کی ناراضگی کا مستحق بناتے ہیں۔