سوال: آنحضرت ﷺ نے اپنی امت کے لیے کس دعا کا خاص اہتمام فرمایا؟
جواب:آنحضرت ﷺ نے نہایت درد دل کے ساتھ تین مرتبہ دعا فرمائی:
’’اے اللہ! مجھے اور میری امت کو بخش دے۔‘‘
اس کے بعد فرمایا کہ میں اپنے اور تمہارے لیے اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔
یہ دعا آپ ﷺ کی اپنی امت سے بے پناہ محبت اور شفقت کو ظاہر کرتی ہے۔
سوال:: حضرت مصلح موعودؓ نے صحابہ کرامؓ کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب:حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ صحابہؓ وہ لوگ تھے جو ہر خطرے کے وقت اپنی جان بلا دریغ پیش کر دیتے تھے۔
کوئی تکلیف انہیں تکلیف محسوس نہ ہوتی تھی بلکہ ہر خدمت کو خوشی سے قبول کرتے تھے۔
سوال: غزوۂ تبوک کے موقع پر خواتین نے کس طرح قربانی کا مظاہرہ کیا؟
جواب:خواتین نے بھی غیر معمولی قربانی کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے اپنے زیورات اتار کر حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کیے اور اپنے شوہروں اور بیٹوں کو جہاد کے لیے ترغیب دی۔
سوال: ایک صحابی اور ان کی اہلیہ کا واقعہ کیا سبق دیتا ہے؟
جواب:جب ایک صحابی گھر آئے تو ان کی بیوی نے انہیں محبت سے روک کر کہا کہ رسول اللہ ﷺ میدان میں ہیں اور تم آرام کر رہے ہو؟یہ سن کر وہ فوراً لشکر میں شامل ہو گئے۔یہ واقعہ دین کو دنیاوی تعلقات پر ترجیح دینے کا درس دیتا ہے۔
سوال: غزوۂ تبوک کے سفر میں آنحضرت ﷺ نے کیا اہم خطاب فرمایا؟
جواب:آپ ﷺ نے فرمایا:
سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے،بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے،جھوٹ بولنا بڑا گناہ ہے،دل کا اندھا ہونا سب سے برا اندھا پن ہے،بہترین دولت دل کی دولت ہے۔یہ خطاب ایک جامع اخلاقی و روحانی نصیحت ہے۔
سوال:بہترین اور بدترین انسان کے متعلق کیا ارشاد فرمایا گیا؟
جواب:بہترین انسان وہ ہے جو اللہ کی راہ میں کوشش کرے اور لوگوں کو فائدہ پہنچائے۔
بدترین وہ ہے جو قرآن پڑھتا ہے مگر اس پر عمل نہیں کرتا۔
سوال: مہمان نوازی کے بارے میں کیا تعلیم دی گئی؟
جواب:آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بہترین انسان وہ بھی ہے جو کشادگی کے ساتھ اپنے مہمان کی عزت
کرے اور اس کا حق ادا کرے۔
سوال: قیصر روم (ہِرَقْل) کو خط بھیجنے کا کیا واقعہ ہے؟
جواب:آپ ﷺ نے اسلام کی دعوت کے لیے خط بھیجا۔ہِرَقْل نے بظاہر دلچسپی ظاہر کی مگر اپنی حکومت کی وجہ سے ایمان نہ لایا۔یہ واقعہ دنیاوی مفاد اور حق کے درمیان کشمکش کو ظاہر کرتا ہے۔
سوال:اہلِ ایلہ اور دیگر قبائل کے ساتھ کیا معاہدات ہوئے؟
جواب:آنحضرت ﷺ نے مختلف قبائل کے ساتھ امن کے معاہدے کیے اور انہیں مکمل تحفظ فراہم کیا۔ یہ اسلام کی امن پسندی اور عدل پر مبنی تعلیم کا واضح ثبوت ہے۔
سوال: حضرت خالد بن ولیدؓ کے سریہ کا خلاصہ کیا ہے؟
جواب:حضرت خالدؓ کو دُومة الجندل بھیجا گیا جہاں انہوں نے اُکیدر کو گرفتار کیا۔بعد میں صلح ہوئی اور اسے امان دی گئی۔یہ واقعہ حکمت، بہادری اور انصاف کا نمونہ ہے۔
سوال: حضرت عبداللہ ذوالبجادینؓکے واقعہ سے کیا سبق ملتا ہے؟
جواب:آپؓنے دین کے لیے سب کچھ قربان کیا۔ آپ ﷺ نے ان کو قبر میں خود اتار کر دعا کی:
’’اے اللہ! میں اس سے راضی ہوں، تو بھی راضی ہو جا۔‘‘
یہ اللہ اور رسول کی رضا کے حصول کی اعلیٰ مثال ہے۔
سوال: تبوک میں قیام اور واپسی کے بارے میں کیا ذکر ہے؟
جواب:آپ ﷺ نے تقریباً بیس دن تبوک میں قیام فرمایا۔کوئی بڑی جنگ نہ ہوئی اور آپ ﷺ معاہدات کے بعد واپس مدینہ تشریف لے آئے۔پورا سفر تقریباً دو سے اڑھائی ماہ پر مشتمل تھا۔
سوال: موجودہ حالات کے حوالے سے کن لوگوں کے لیے دعا کی تحریک کی گئی؟
جواب:دعا کی خاص تحریک کی گئی:
بنگلہ دیش کے احمدیوں کے لیے، پاکستان کے احمدیوں کے لیے، فلسطینی مسلمانوں کے لیے،افریقہ کے احمدیوں کے لیے، اللہ تعالیٰ سے امن، حفاظت اور نصرت کی دعا کی گئی۔
سوال: مرحوم محمد حسین صاحب کا ذکر کیسے کیا گیا؟
جواب:آپ ایک نیک، مخلص، تہجد گزار اور مالی قربانی میں آگے بڑھنے والے انسان تھے۔آپ نے اپنی زندگی میں ہی مالی قربانی ادا کی اور دین کی خدمت میں نمایاں رہے۔آپ کے لیے مغفرت اور درجات کی بلندی کی دعا کی گئی۔
❖ سوال: اس خطبہ کا مرکزی پیغام کیا ہے؟
جواب:اللہ سے مغفرت کی طلب، صحابہؓ کی قربانیوں سے سبق، تقویٰ، سچائی اور اخلاص کی اہمیت، دین کو دنیا پر مقدم رکھنا، موجودہ حالات میں دعا اور صبر۔ ززز