اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-04-23

سچے مومن کی کامل پہچان:ایمان، عبادت، قربانی، محبتِ الٰہی اور اطاعتِ کامل کا جامع قرآنی و روحانی معیار خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ13؍جولائی2007ء بطرز سوال وجواب

سوال:اللہ تعالیٰ کی صفت مؤمن سے کیا مراد ہے؟
جواب:اللہ تعالیٰ کی صفت مؤمن کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی مخلوق کو امن دینے والا ہے، اپنے انبیاء کی تصدیق کرنے والا ہے، اور ان کی تائید میں نشانات و معجزات ظاہر فرماتا ہے۔ جو لوگ انبیاء پر ایمان لاتے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں دنیا و آخرت میں امن، سکونِ قلب اور اپنی رضا سے نوازتا ہے۔
 سوال:ایک انسان اللہ تعالیٰ کی صفت ’’مؤمن‘‘ سے کیسے فیض پا سکتا ہے؟
جواب:اس کے لیے ضروری ہے کہ انسان خود بھی حقیقی مومن بنے۔ یعنی وہ ایمان کے مختلف درجات طے کرے،قرآن کریم کی بیان کردہ صفات کو اپنائے، اور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر مکمل عمل کرے۔
 سوال:قرآن کریم کے مطابق مومن کی بنیادی صفات کیا ہیں؟
جواب:سورۃ البقرہ کے آغاز میں مومن کی درج ذیل صفات بیان ہوئی ہیں:
غیب پر ایمان، نمازوں کا قیام، اللہ کی راہ میں خرچ کرنا، آنحضرت ﷺ پر نازل شدہ تعلیم پر ایمان، سابقہ انبیاء پر ایمان، آخرت پر کامل یقین
 سوال:غیب پر ایمان سے کیا مراد ہے؟
جواب:غیب پر ایمان کا مطلب یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ، فرشتوں، تقدیر، اور مرنے کے بعد کی زندگی پر کامل یقین رکھے۔ نیز ہر حالت میں اللہ کے احکامات پر عمل کرے، چاہے کوئی دیکھے یا نہ دیکھے، اور دنیاوی خوف یا لالچ اس کے ایمان کو کمزور نہ کرے۔
 سوال:نمازوں کا قیام مومن کے لیے کیوں ضروری ہے؟
جواب:نماز مومن کی روحانی زندگی کی بنیاد ہے۔ نمازوں کا قیام یہ ہے کہ:
باقاعدگی سے نماز ادا کی جائے، وقت پر ادا کی جائے، پوری توجہ اور خشوع کے ساتھ پڑھی جائے، حتی الوسع باجماعت ادا کی جائے، نماز کی حفاظت ایک مومن کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے،اور اس میں غفلت ایمان کو کمزور کر دیتی ہے۔
 سوال:باجماعت نماز کی کیا اہمیت بیان ہوئی ہے؟
جواب:باجماعت نماز کا ثواب اکیلے نماز سے 27 گنا زیادہ ہے۔ یہ نہ صرف روحانیت میں اضافہ کرتی ہے بلکہ جماعتی اتحاد اور بھائی چارے کو بھی مضبوط کرتی ہے۔
سوال:اگر نماز قضاء ہو جائے تو مومن کا کیا رویہ ہونا چاہیے؟
جواب:ایک سچا مومن نماز کے ضائع ہونے پر بےچین ہو جاتا ہے، استغفار کرتا ہے، اور آئندہ اس کو بہتر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ بے چینی اس کے ایمان کی علامت ہے۔
سوال:مومن دوسروں کو نماز کی تلقین کیوں کرتا ہے؟
جواب:کیونکہ مومن صرف اپنی اصلاح نہیں کرتا بلکہ دوسروں کی بھلائی بھی چاہتا ہے۔ قرآن کریم نے اہل و عیال کو نماز کی تلقین کا حکم دیا ہے، اور یہی عمل جماعتی مضبوطی کا باعث بنتا ہے۔
سوال: وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ کی وضاحت کیا ہے؟
جواب:اس کا مطلب ہے کہ مومن اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے مال اور صلاحیتوں میں سے خرچ کرتا ہے:
اللہ کی راہ میں، ضرورت مندوں کی مدد کے لیے، جماعتی ترقی کے لیے
یہی عمل معاشرے میں محبت، اتحاد اور امن پیدا کرتا ہے۔
سوال:مالی قربانی سے معاشرے پر کیا اثر پڑتا ہے؟
جواب:مالی قربانی سے:
غریب و امیر کے درمیان فرق کم ہوتا ہے
خاندان مضبوط ہوتے ہیں
معاشرے میں محبت، ہمدردی اور بھائی چارہ پیدا ہوتا ہے
جماعتی ترقی کے دروازے کھلتے ہیں
سوال:آنحضرت ﷺ اور دیگر انبیاء پر ایمان کیوں ضروری ہے؟
جواب:ایک مومن کے لیے ضروری ہے کہ:
آنحضرت ﷺ کو خاتم الانبیاء مانے، قرآن کریم کو آخری شریعت تسلیم کرے، تمام سابقہ انبیاء کی صداقت پر ایمان رکھے۔ یہ ایمان انسان کو جامع اور کامل ایمان کی طرف لے جاتا ہے۔
سوال:آخرت پر ایمان سے کیا مراد ہے؟
جواب:آخرت پر ایمان کا مطلب صرف مرنے کے بعد کی زندگی پر یقین نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں، جزا و سزا، اور اس کے جاری نظامِ ہدایت (بشمول مسیح موعودؑ کی بعثت) پر یقین رکھنا بھی ہے۔
سوال:اللہ تعالیٰ سے محبت مومن کی زندگی میں کیا مقام رکھتی ہے؟
جواب:مومن کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے۔ اس کی زندگی کا ہر عمل اللہ کی رضا کے لیے ہوتا ہے۔ یہی محبت اسے عبادات، قربانی اور اطاعت کی طرف لے جاتی ہے۔
سوال:مومن کے دل کی کیفیت اللہ کے ذکر کے وقت کیسی ہوتی ہے؟
جواب:جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو مومن کا دل خوفِ الٰہی سے بھر جاتا ہے، اور جب اس کی آیات سنی جائیں تو اس کا ایمان مزید بڑھ جاتا ہے۔ یہ کیفیت اس کے اخلاص اور تعلق باللہ کی علامت ہے۔
سوال:توکل کیا ہے اور مومن میں کیسے پیدا ہوتا ہے؟
جواب:توکل یہ ہے کہ انسان اپنی پوری کوشش کے بعد نتائج اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دے۔ مومن اسباب اختیار کرتا ہے لیکن مکمل بھروسہ اللہ تعالیٰ پر رکھتا ہے۔
سوال:اطاعتِ الٰہی اور اطاعتِ رسول کی کیا اہمیت ہے؟
جواب:مومن کی شان یہ ہے کہ جب اسے اللہ اور رسول کی طرف بلایا جائے تو وہ کہے:
سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا(ہم نے سنا اور اطاعت کی)
یہ اطاعت مکمل، خوش دلی سے اور بغیر کسی اعتراض کے ہونی چاہیے۔
سوال:نظامِ جماعت کی اطاعت کیوں ضروری ہے؟
جواب:نظامِ جماعت کی اطاعت:
اتحاد قائم رکھتی ہے، فتنہ سے بچاتی ہے، ایمان کو محفوظ رکھتی ہے۔ مومن کو چاہیے کہ فیصلوں کو خوشی سے قبول کرے، نہ کہ دل میں تنگی پیدا کرے۔
سوال:مومن میں عاجزی اور عبادت کا کیا معیار ہونا چاہیے؟
جواب:جب اللہ کی آیات سنائی جائیں تو مومن عاجزی سے سجدہ کرتا ہے، اللہ کی حمد و تسبیح بیان کرتا ہے، اور تکبر سے بچتا ہے۔ یہی عاجزی اسے اللہ کے قریب کرتی ہے۔
سوال:حضرت مسیح موعودؑکے مطابق مومن کی تعریف کیا ہے؟
جواب:حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں کہ مومن وہ ہے:
جو اخلاص کے ساتھ نیکیاں کرے، ریا اور دکھاوے سے بچے، اللہ تعالیٰ سے سچا تعلق قائم کرے، ایسا شخص اللہ کے قریب ہو جاتا ہے، حتیٰ کہ اس کے تمام اعمال اللہ کی رضا کے تابع ہو جاتے ہیں۔
سوال:اس خطبہ کا مرکزی سبق کیا ہے؟
جواب:اس خطبہ کا خلاصہ یہ ہے کہ:
سچا مومن بننے کے لیے ایمان،عبادت،قربانی، محبتِ الٰہی، اطاعت اور توکل کو اپنانا ضروری ہے
صرف دعویٰ کافی نہیں بلکہ عملی زندگی میں ان صفات کا اظہار ہونا چاہیے
یہی راستہ انسان کو اللہ تعالیٰ کے قرب اور اس کی رضا تک پہنچاتا ہے