اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-04-23

مالی قربانی کی برکات، تحریکِ جدید کی اہمیت اور روحانی ترقی کا راستہ خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ7؍نومبر2025ءبطرز سوال وجواب بمنظوری سیّدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

خطبہ جمعہ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ7؍نومبر2025ءبطرز سوال وجواب
بمنظوری سیّدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

سوال:خطبہ کے آغاز میں کون سی آیت تلاوت کی گئی؟
جواب:خطبہ کے آغاز میں سورۃ البقرہ کی نہایت بابرکت آیت تلاوت کی گئی: مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ... اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں خرچ کرنے والوں کو ایک دانے کی مثال دے کر سمجھایا کہ وہ دانہ سات بالیاں پیدا کرتا ہے اور ہر بالی میں سو دانے ہوتے ہیں، یعنی کم از کم سات سو گنا اضافہ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق اس سے بھی زیادہ بڑھا دیتا ہے۔
سوال: اس آیت کا بنیادی پیغام کیا ہے؟
جواب:خاس آیت کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اخلاص کے ساتھ خرچ کیا گیا مال کبھی ضائع نہیں جاتا بلکہ کئی گنا بڑھ کر واپس ملتا ہے۔ یہ اضافہ صرف دنیاوی مال و دولت تک محدود نہیں بلکہ روحانی برکتوں، سکونِ قلب اور آخرت کے عظیم اجر کی صورت میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔
سوال:تحریک جدید کا آغاز کب اور کس نے کیا؟
جواب:تحریک جدید کا آغاز 1934ء میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی ؓنے فرمایا۔ یہ ایک عظیم الشان مالی و روحانی تحریک تھی جس کا مقصد دینِ اسلام کی عالمی اشاعت تھا۔
سوال: تحریک جدید شروع کرنے کی بنیادی وجہ کیا تھی؟
جواب:خاس تحریک کی بنیادی وجہ اس وقت کی شدید مخالفت تھی، خصوصاً احرار کی طرف سے احمدیت کو ختم کرنے کے دعوے کیے جا رہے تھے۔ اس نازک وقت میں جماعت کو مضبوط کرنے، اسلام کا پیغام دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے اور مخالفین کے پراپیگنڈے کا مؤثر جواب دینے کے لیے یہ تحریک شروع کی گئی۔سوال: مخالفین کے دعوؤں کا جواب کس طرح دیا گیا؟
جواب: مخالفین کے دعوؤں کا جواب الفاظ سے نہیں بلکہ عملی طور پر دیا گیا۔ جماعت احمدیہ کی مسلسل ترقی، لاکھوں افراد کی بیعت، اور دنیا کے 220 ممالک میں جماعت کا قیام اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ خود اس جماعت کی تائید و نصرت فرما رہا ہے۔

سوال: مالی قربانی کی اہمیت کیا بیان کی گئی؟
جواب:مالی قربانی کو ایک نہایت اہم عبادت قرار دیا گیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، انسان کے ایمان کو مضبوط کرتی ہے، اور اس کے مال و جان میں برکت کا باعث بنتی ہے۔ اس کے ذریعے انسان اپنے اخلاص اور سچائی کا عملی ثبوت پیش کرتا ہے۔
سوال: کیا صرف مالی قربانی کافی ہے؟
جواب:نہیں، صرف مالی قربانی کافی نہیں۔ اس کے ساتھ نماز، روزہ، ذکرِ الٰہی اور دیگر عبادات بھی لازمی ہیں۔ جیسا کہ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ مکمل نیکی اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب مالی قربانی کے ساتھ روحانی عبادات بھی شامل ہوں۔
سوال: حضرت مسیح موعودؑ نے مالی قربانی کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب:حضرت مرزا غلام احمد نے فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے مال میں غیر معمولی برکت عطا فرماتا ہے اور اسے کئی گنا بڑھا کر واپس دیتا ہےیہ اجر دنیا میں بھی ملتا ہے اور آخرت میں بھی۔
سوال: صحابہؓ کی کون سی مثالیں دی گئیں؟
جواب:صحابہ کرامؓکی بے مثال قربانیوں کا ذکر کیا گیا، جن میں خاص طور پر حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر بن خطاب اور حضرت عثمان بن عفان شامل ہیں۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنا مال، وقت اور حتیٰ کہ اپنی جان تک قربان کرنے میں کوئی دریغ نہیں کیا۔
سوال:سب سے افضل صدقہ کون سا ہے؟
جواب:سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو انسان اپنی ضرورت، خواہش اور مالی تنگی کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے پیش کرے۔ یہی وہ قربانی ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ مقبول ہوتی ہے۔
سوال: تحریک جدید کے 91ویں سال میں کتنی قربانی پیش کی گئی؟
جواب:اللہ تعالیٰ کے فضل سے تحریک جدید کے 91ویں سال میں جماعت کو 19.55 ملین پاؤنڈ کی مالی قربانی پیش کرنے کی توفیق ملی، جو گزشتہ سال سے نمایاں اضافہ تھا۔
سوال: تحریک جدید کے نئے سال کا آغاز کب ہوتا ہے؟
جواب:تحریک جدید کا نیا مالی سال ہر سال یکم نومبر سے شروع ہوتا ہے، جس میں نئے وعدے اور قربانیوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
سوال:دنیا میں جماعت کی ترقی کا کیا ثبوت دیا گیا؟
جواب:دنیا کے 220 ممالک میں جماعت کا قیام، مسلسل بڑھتی ہوئی بیعتیں، اور دنیا بھر میں مساجد، مشن ہاؤسز، سکولز اور ہسپتالوں کا قیام اس ترقی کا واضح ثبوت ہے۔
سوال: مالی قربانی کے نتیجے میں کیا روحانی فائدہ ہوتا ہے؟
جواب:مالی قربانی انسان کے ایمان کو مضبوط کرتی ہے، اسے اللہ تعالیٰ کا قرب عطا کرتی ہے، اور دل میں ایک خاص سکون اور اطمینان پیدا کرتی ہے۔ یہ قربانی انسان کے اندر ایثار، اخلاص اور اللہ پر توکل کی صفات پیدا کرتی ہے۔
سوال:حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے کیا نصیحت فرمائی؟
جواب:حضور نے نصیحت فرمائی کہ احمدیوں کو چاہیے کہ مالی قربانی کے ساتھ ساتھ اپنی عبادات کے معیار کو بھی بلند کریں اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کو مضبوط بنائیں۔
سوال:اللہ تعالیٰ مالی قربانی کرنے والوں سے کیا وعدہ کرتا ہے؟
جواب:اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ جو اس کی راہ میں خرچ کرے گا، وہ اسے کئی گنا بڑھا کر عطا کرے گا، اس کے مال میں برکت ڈالے گا، اور دنیا و آخرت میں بے حساب اجر سے نوازے گا۔
سوال: تحریک جدید کا مقصد کیا ہے؟
جواب:تحریک جدید کا بنیادی مقصد اسلام و احمدیت کا پیغام دنیا کے ہر گوشے تک پہنچانا، جماعت کے نظام کو مضبوط بنانا، اور تبلیغِ اسلام کے لیے وسائل فراہم کرنا ہے۔