اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-08-20

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 14؍اگست 2026ء بمطابق 14؍ظہور1405؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

تشہد،تعوذ اورسورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:

گذشتہ خطبات میں شکر گزاری کے اظہار کے لیے آنحضرت ﷺ کی تعلیم اور اسوہٴ حسنہ بیان کیا تھا۔

شکر گزاری کے اس اعلیٰ معیار کو آپؐ کے غلام صادق اور اس زمانے کے امام حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے کس طرح سمجھا اور اپنے عمل سے گھر میں بچوں کو کیسے سمجھایا، اس کے متعلق بعض حوالے پیش کروں گا۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نعمتوں پر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی اہمیت اور حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

جب انسان کسی اعلیٰ مرتبہ کو حاصل کر لیتا ہے تو پھر وہ مغرور ہو جاتا ہے حالانکہ وہ اس عرصے میں بہت کچھ نیک کام کر سکتا ہے اور بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے لَئِنۡ شَکَرۡتُمۡ لَاَزِیۡدَنَّکُم۔ اگر تم میرا شکر ادا کرو تو میں اپنے احسانات کو اور بھی زیادہ کرتا ہوں اور اگر تم کفر کرو تو پھر میرا عذاب بھی بڑا سخت ہے

یعنی انسان پر جب خدا تعالیٰ کے احسانات ہوں تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کا شکر ادا کرے اور انسانوں کی بہتری کا خیال رکھے اور اگر کوئی ایسا نہ کرے اور الٹا ظلم شروع کر دے تو پھر خدا تعالیٰ اس سے وہ نعمتیں چھین لیتا ہے اور عذاب نازل کرتا ہے ۔

پھر ایک موقع پر آپؑ فرماتے ہیں کہ

مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کا بہت شکر کرنا چاہیے کہ جس نے اُن کو ایک ایسا دین بخشا ہے جو علمی اور عملی طور پر ہر ایک قسم کے فساد اور مکروہ باتوں اور ہرایک نوع کی قباحت سے پاک ہے

پھر اسلام کی نشاۃِ ثانیہ اور سلسلہ احمدیہ کے قیام پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اے دانشمند و !تم اس سے تعجب مت کرو کہ خدا تعالیٰ نے اس ضرورت کے وقت میں اور اس گہری تاریکی کے دنوں میں ایک آسمانی روشنی نازل کی اور ایک بندہ کو مصلحت عام کے لیے خاص کر کے بغرض اعلائے کلمہٴ اسلام واشاعت نور حضرت خیر الا نام اور تائید مسلمانوں کے لیے اور نیز اُن کی اندرونی حالت کے صاف کرنے کے ارادہ سے دنیا میں بھیجا۔ تعجب تو اس بات میں ہوتا کہ وہ خدا جو حامی دین اسلام ہے، جس نے وعدہ کیا تھا کہ میں ہمیشہ تعلیم قرآنی کا نگہبان رہوں گا اور اسے سرد اور بےرونق اور بے نو رنہیں ہونے دوں گا ۔ وہ اس تاریکی کو دیکھ کر اور اِن اندرونی اور بیرونی فسادوں پر نظر ڈال کر چُپ رہتا اور اپنے اُس وعدہ کو یاد نہ کرتا جس کو اپنے پاک کلام میں مؤ کد طور پر بیان کر چکا تھا۔ پھر میں کہتا ہوں کہ اگر تعجب کی جگہ تھی تو یہ تھی کہ اس پاک رسولؐ کی یہ صاف اور کھلی کھلی پیشگوئی خطا جاتی جس میں فرمایا گیا تھا کہ ہر ایک صدی کے سر پر خدا تعالیٰ ایک ایسے بندہ کو پیدا کرتا رہے گا کہ جو اس کے دین کی تجدید کرے گا…سو یہ تعجب کا مقام نہیں بلکہ ہزار شکر کا مقام اور ایمان اور یقین کے بڑھانے کا وقت ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے وعدے کو پورا کر دیا اور اپنے رسول کی پیش گوئی میں ایک منٹ کا بھی فرق پڑنے نہیں دیا اور نہ صرف پیشگوئی کو پورا کر دیا بلکہ آئندہ کے لیے بھی ہزاروں پیشگوئیوں اور خوارق کا دروازہ کھول دیا ۔

اگرتم ایماندار ہو تو شکر کرو اور شکر کے سجدے بجا لاؤ کہ وہ زمانہ جس کا انتظار کرتے کرتے ہمارے بزرگ آباء اور بے شمار روحیں اس کے شوق میں سفر کر گئیں وہ تم نے پا لیا۔ اب اس کی قدر کرنا یا نہ کرنا، اس سے فائدہ اٹھانا یا نہ اٹھانا تمہارے ہاتھ میں ہے۔

آج کے مسلمانوں کا فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کو مان لیں اور اپنے آپ کو وحدت کی لڑی میں پرو لیں تاکہ مشکلات سے بچ سکیں۔

ایک متلاشیٴ حق کو مخاطب کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایاکہ خدا کا شکر کرو کہ اس نے عین وقت پر دستگیری فرمائی ہے اور اس سلسلے کو قائم کیا ۔اس لیے تم کو مناسب ہے کہ اس فضل کو جو تم کو دیا گیا ہے، ضائع نہ کرو اور ادب کی نگاہ سے دیکھو اور اس مدد اور نصرت کی جو تمہیں دی گئی ہے قدر کرو…

اللہ تعالیٰ کا یہ فضل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کو لوگ شناخت کر لیتے ہیں۔ پس تم پر یہ خدا تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے تمہیں یہ قوت عطا کی ہے اور شناخت کی آنکھ بخشی ہے۔

سلسلہ احمدیہ میں شامل ہونے والوں کے اخلاص و محبت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ

میں اس بات کے اظہار اور اس کے شکر ادا کرنے کے بغیر نہیں رہ سکتا کہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا، میرے ساتھ تعلقِ اخوت پکڑنے والے اور اس سلسلہ میں داخل ہونے والے، جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے، محبت اور اخلاص کے رنگ سے ایک عجیب طرز پر رنگین ہیں، نہ میں نے اپنی محنت سے بلکہ خدا تعالیٰ نے اپنے خاص احسان سے یہ صدق سے بھری ہوئی روحیں مجھے عطا کی ہیں…

پھر دعا کرتے ہوئے آپؑ فرماتے ہیں کہ

اے رب العالمین تیرے احسانوں کامیں شکر نہیں کر سکتا۔ تو نہایت ہی رحیم و کریم ہے اور تیرے بے غایت مجھ پراحسان ہیں ۔ میرے گناہ بخش تامیں ہلاک نہ ہو جاؤں ۔ میرے دل میں اپنی خاص محبت ڈال تا مجھے زندگی حاصل ہو اور میری پردہ پوشی فرما اور مجھ سے ایسے عمل کرا جن سے تو راضی ہو جائے ۔ میں تیرے وجہ کریم کے ساتھ اس بات سے پناہ مانگتاہوں کہ تیرا غضب مجھ پر وار د ہو ۔ رحم فرما اور دنیا اور آخرت کی بلاؤں سے مجھے بچا کہ ہر ایک فضل وکرم تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ آمین ثم آمین۔

ایک روایت آتی ہے کہ ایک مرتبہ آپؑ نے گھر میں بچوں کو کہانی سنائی کہ ایک گنجا اور ایک اندھا تھا ۔ اللہ نے ان کے پاس ایک فرشہ بھیجا ۔ اس نے گنجے سے پوچھا تُو کیا چاہتا ہے ۔ اس نے کہا کہ میرے سر پر بال ہوں اور مجھے مال و دولت مل جائے۔ فرشتے نےاس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس کے بال اُگ گئے اور اس کو مال ودولت مل گئی۔پھرفرشتہ اندھے کے پاس آیا۔اس نے اندھے سے پوچھا کہ تو کیا چاہتا ہے ۔ اس نے کہا میری آنکھیں ہوں اور مجھے مال و دولت مل جائے۔ فرشتے نےاس کے سر پر ہاتھ پھیرا تواس کی بینائی ٹھیک ہو گئی اور اس کو بھی مال ودولت مل گئی۔ کچھ عرصہ بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمانے کے لیے فرشتے کو دوبارہ غریب آدمی کے روپ میں بھیجا ۔ اس نے جا کر گنجے سے سوال کیا تو اس نے ترش روئی سے، بڑی بد مزاجی سے جواب دیا اور جھڑک دیا اور کہا کہ چل تیرے جیسے بہت فقیر پھرتے ہیں۔ فرشتے نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو وہ دوبارہ گنجا ہو گیا اورما ل جاتا رہا۔پھر وہ اندھے کے پاس آیا اور سوال کیا۔ اندھے نے کہا سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی نے دیا ہے اور اسی کا مال ہے تم لے لو۔ پھر اللہ نے اس کو اور مال و دولت دی۔ سو عزیز بچو تم بھی یاد رکھو کہ

خدا تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر کرو اور اس کی قدر کرو اور سوالی کو نہ جھڑکو۔ خیرات کرنا اچھی بات ہے اور سوالی کو دینا چاہیے اس سے خدا خوش ہوتا ہے اور نعمت زیادہ کرتا ہے ۔پھرایک موقع پر آپؑ نے حضرت مولوی نور الدین صاحبؓ کے بارہ میں فرمایا :

حضرت حکیم مولوی صاحب اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہیں۔ان کے ذریعے کئی غریبوں کا علاج ہو جاتا ہے ۔علاج تو دوسروں کا ہوتا تھا مگر شکر آپؑ کر رہے تھے کہ انسانی خدمت کر رہے ہیں اور انسانوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

خطبہ جمعہ کے آخر پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے چند مرحومین کا ذکر فرمایا

٭…مکرم حافظ شہباز احمد صاحب مربی سلسلہ آئیوری کوسٹ ۔۱۸؍ جولائی کو ۳۱؍ سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ موصی تھے۔۲۰۱۹ء میں جامعہ سے فارغ التحصیل ہوئے۔نمل یورنیورسٹی سے فرنچ میں ایم اے کیا۔پسماندگان میں ایک بیٹی اور اہلیہ شامل ہیں۔

٭… مکرم یلننگانہ مومنی صاحب برکینا فاسو ۔ یہ شہید ہیں۔ کھیتوں میں کام کر رہے تھے کہ دہشتگردوں نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔ ۱۹۸۹ء میں بیعت کی ۔پسماندگان میں دو بیوگان اور ۱۳؍ بچے ہیں۔

٭… مکرم یحییٰ سو ماری صاحب آف مالی۔۳۲؍سال کی عمر میں شہید ہو گئے ۔ مالی کی فوج میں شامل تھے۔۴؍ جولائی کو راوٴنڈ پر جاتےہوئے دہشتگردوں کے حملہ میں شہید ہو گئے۔

٭… مکرم سراج الحق قریشی صاحب ۔نائب افسر جلسہ سالانہ ربوہ تھے۔ قمر الحق قریشی صاحب مربی سلسلہ کے والد تھے۔

٭… مکرم لاوال طیب صاحب معلم سلسلہ نائیجیریا سے تھے۔

٭… مکرم ماسٹر غفور احمد صاحب کینیڈا۔ سانگلہ ہل میں ایک جماعت کے صدر رہے۔

اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔آمین۔