اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-01-08

حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے بصیرت افروز اختتامی خطاب کا خلاصہ فرمودہ ۲۸؍دسمبر۲۰۲۵ء بمقام ایوانِ مسرور، اسلام آباد ٹلفورڈ، برطانیہ

تشہد، تعوذ اور سورۃ الفاتحہ کے بعد حضور انور ایّدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جلسہ سالانہ قادیان آج اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس جلسے کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلائے کلمۂ اسلام پر بنیاد ہے۔ اس لیے یہ جلسہ عام جلسوں کی طرح نہیں ہے ۔ اس جلسے کی بنیادی اینٹ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اور اس کے لیے قومیں تیار کی ہیں جو عنقریب اس میں آ ملیں گی۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا میں ہر جگہ جلسے منعقد ہو رہے ہیں اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا تھا، قومیں اس میں شامل ہو رہی ہیں۔
آج کے جلسے میں مختلف ممالک کے لوگ اور قومیں شامل ہیں۔ اس وقت کی اطلاع کے مطابق ۳۷؍ ملکوں کی نمائندگی ہے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ جلسہ خدا تعالیٰ کی خاص تائید اپنے ساتھ لیے ہوئے ہے۔
لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس جلسہ کی برکات سے وہ شخص فائدہ اٹھائے گا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کیے ہوئے اپنےعہد بیعت پر قائم ہوگا ۔جو لوگ اپنی روحانی، اخلاقی بہتری اور ترقی کی طرف توجہ نہیں دیتے، وہ اس کی برکات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہم سے جو عہد بیعت لیا ہے، اس کی ہر احمدی کو ہروقت جگالی کرتے رہنا چاہیے اور خاص طور پر اس جلسے میں شامل ہو کر اس طرف خاص توجہ دینی چاہیے تبھی ہم آپؑ کی دعاؤں کے وارث بنیں گے۔ آپ نے جلسے میں شامل ہونے والوں کے لیے بہت دعائیں فرمائیں۔
آپ لوگوں نے یہاں بہت سارے علمی و دینی موضوعات پر علماء کی تقریریں سنی ہوں گی۔ یہ سب کی سب تقاریر بڑی فائدہ مند، علمی تقریریں ہوتی ہیں۔ لیکن ان تقریروں سے آپ اپنی زندگیوں میں تبھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں جب آپ اپنے عہد بیعت کو اپنے سامنے رکھیں گے اور سچے دل سے اس کو دہراتے اور عمل کرتے رہیں گے ۔یہ ہر احمدی کا فرض ہے۔
عہد بیعت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بہت سی شرائط رکھی ہیں۔ میں ان کو مختصرطور پر بیان کر دیتا ہوں۔ سب سے پہلے آپؑ نے فرمایا کہ جو میری بیعت میں شامل ہوتا ہے اس کے لیے بنیادی چیز یہ ہے کہ وہ کبھی شرک نہیں کرے گا یہاں تک کہ اسے موت آجائے۔
پھر فرمایا کہ کسی کو بھی کسی قسم کی ناجائز تکلیف نہیں دینی۔ نہ زبان سے، نہ ہاتھ سے۔ پھر فرمایا کہ اگر تم میرے ساتھ منسلک ہو اور میرے سے عہد بیعت باندھا ہے تو یاد رکھو کہ ہر حال میں رنج کی حالت ہے یا خوشی کی حالت ہے، تنگی ہے یا آسانی کی حالت ہے ہر صورت میں خدا تعالیٰ کے ساتھ ہمیشہ وفاداری کرنی ہے اور راضی با رضا رہنا ہے۔ اسی بات پر ہم بیعت کرتے ہیں۔
ہر احمدی کو ان شرائط بیعت کو وقتاً فوقتاً اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ اب تو اس کے بارہ میں ایک کتاب بھی سامنے ہے۔ جنہوں نے شرائط بیعت اپنے گھروں میں سامنے نہیں لٹکائیں، وہ اب لگا لیں۔ اس سے پتا لگتا رہے گا کہ شرائط بیعت کیا ہیں اور جب ان کو پڑھیں گے تو اپنی اصلاح کی بھی کوشش ہوتی رہے گی اور معلوم ہوتا رہے گا کہ کس طرح میں نے حقیقی احمدی مسلمان بننا ہے اور کس طرح اپنے بیعت کے حق کو ادا کرنا ہے۔
پھر ہم نے یہ عہد کیا ہے کہ جو غلط قسم کے رسم و رواج ہیں اور ہواو ہوس کی باتیں ہیں، ہم نے ہمیشہ ان سے بچ کے رہنا ہے اور قرآن کریم کے احکامات پر مکمل طور پر عمل کرنے کی کوشش کرنی ہے۔
جب ہم عہد بیعت کا جائزہ لیں تو خود ہی پتا لگ جائے گا کہ کس حد تک ہم اس پر عمل کر رہے ہیں۔ کیا ہم اللہ اور رسولؐ کی باتوں پر سو فیصد عمل کرنے والے ہیں؟ اگر نہیں تو استغفار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔ قرآن کریم کے اوامر اور نواہی کو سامنے رکھ کر اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
پسدنیا بھر میں ہر احمدی جو اس وقت میری یہ بات سن رہا ہے اسے ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہم نے اپنی روحانی ترقی اور عہد بیعت کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی ہے۔ ان باتوں کو اپنے سامنے رکھنا ہے، عمل کرنے کی کوشش کرنی ہے اور کبھی ان چیزوں سے دور نہیں ہٹنا۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں بتایا ہے کہ کس طرح اپنی اصلاح کرنی چاہیے کن باتوں کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ سب سے بنیادی چیز آپؑ نے یہی بتائی کہ اپنے اندر تقویٰ پیداکرو تبھی اللہ تعالیٰ کا حق بھی ادا کر سکو گے۔ اس بات کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ
جب تک عمل نہ ہو لفّاظی سے کام نہیں ہوتا۔ اگر تم اسلام کی خدمت کرنا چاہتے ہو، اگر تم اپنے حق بیعت کو ادا کرنا چاہتے ہو تو پہلے تمہیں خود تقویٰ اور طہارت کو اختیار کرنا پڑے گا اور جب تم یہ کرو گے تو پھر تم خدا تعالیٰ کی پناہ کے حصن حصین میں آجاؤ گے۔ اس کے ایسے مضبوط قلعے میں آجاؤگے جہاں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاسکے گا۔
بیعت کے بارے میں حضورِ انور نے فرمایا کہ صرف بیعت کافی نہیں تقویٰ ضروری ہے۔ فتح کے لیے ضروری ہے کہ تقویٰ ہو۔ آپؑ نےتوجہ دلائی کہ ضروری امر یہ ہے کہ اخلاق اور اعمال میں ترقی کریں اور تقویٰ اختیار کریں۔ ہر ایک پر لازم ہے کہ ان حملوں کا جواب دینے میں کوتاہی نہ کریں جو اسلام پر ہورہے ہیں۔اس میں اپنی کوئی بڑائی نہیں ہے۔
ایک دن بڑے درد سے حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ اصلاح اور تقویٰ پیدا کرو۔ ایسا نہ ہو کہ تم میری راہ اور مقصد میں روک بن جاؤ۔ اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دعا اور تدبیر پر بھروسہ کرنا حماقت ہے۔ اپنی زندگی میں ایسی تبدیلی پیدا کر لو کہ معلوم ہو کہ نئی زندگی ہے۔ ایسی تبدیلی ہو جو واضح ہو اور نظر آئے۔
آپؑ نے فرمایا کہ استغفار کی کثرت کرو۔ جن لوگوں کو کم فرصتی ہے ان کو سب سے زیادہ ڈرنا چاہیے۔ ملازمت پیشہ لوگوں سے اکثر فرائض خداوندی فوت ہوجاتے ہیں۔ نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے لیکن یہ کہنا کہ بھول گیا، یہ جائز نہیں۔
پھر حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کسی کی پروا نہیں کرتا مگر صالح بندوں کی۔ آپس میں صلح کرو۔ استہزا سے دور رہو۔ آپس میں عزت سے پیش آؤ۔ دوسرے کے آرام کو ترجیح دو۔ اللہ تعالیٰ کا غضب زمین پر نازل ہو رہا ہے۔ اور وہ لوگ بچنے والے ہیں جو کامل طور پر اس کی راہ میں آتے ہیں۔
پھر حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے الہام۲۲؍جون ۱۸۹۹ء کے حوالے سے بیان فرمایا کہ بہت دفعہ خدا کی طرف سے الہام ہوا کہ تم لوگ متقی بن جاؤ اورتقویٰ کی باریک راہوں پر چلو۔
پس ہمیں جائزہ لینا چاہیے کہ ہم کس حد تک تقویٰ کی راہوں پر چلتے ہوئے اپنے عہد بیعت کو نبھانے والے ہیں۔ جس کی بیعت ہم نے کی ہے اس کا تو یہ حال ہے کہ ہمارے درد میں دعا ئیں کر کر کے اس پر غشی طاری ہو رہی ہے ضعف پیدا ہو رہاہے۔اور ہم پوری طرح بنیادی حقوق بھی ادا نہیں کر رہے۔ یا بندوں کے حقوق ادا نہیں کر رہے ۔
اللہ کرے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنی حالتوں میں پاک تبدیلی پیدا کرنے والا ہو اور اس کوشش میں ہو کہ ہم نے شرائط بیعت کو بھی پورا کرنے کی کوشش کرنی ہے۔ اس بارے میں حضرت مسیح موعودؑ نے بہت نصائح کی ہیں۔ جو دعائیں آپؑ نے کی ہیں ان کا وارث بننا ہے تو ہمیں اپنے عملوں کو بدلنا پڑے گا۔ اور واضح تبدیلی پیدا کرنی ہوگی۔ جب یہ ہوگاتو تب ہی ہم بیعت کا مقصد پانے والے ہوں گے۔
حضور انور کا خطاب ۱۱ بج کر ۴۶؍ منٹ تک جاری رہا۔ اس کے بعد حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ نے اجتماعی دعا کروائی۔ دعا کے بعد قادیان دارالامان سے اردو نظمیں اور عربی قصیدہ پیش کیا گیا۔
حاضری کے تعلق سے اعلان کرتے ہوئے حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس وقت قادیان کی حاضری ہے ۱۳؍ ہزار ۸۱۵۔مختلف قوموں کے لوگ ہیں یہاں شامل ہیں۔ ٹوٹل باہر کے لوگ جو سن رہے ہیں ۲۳؍ ہزار سے اوپر ہیں، اس طرح اللہ کے فضل سے اس وقت گھروں کے علاوہ جو لوگ سن رہے ہیں، یا مختلف مراکز میں بیٹھے جلسہ سن رہے ہیں ان کے علاوہ جو اجتماعی طور پر جلسہ سن رہے ہیں ان کی کل تعداد اس وقت تقریباً ۴۰ ہزاربن جاتی ہے۔ جزاک اللہ۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ سب شامل ہونے والوں کو اللہ تعالیٰ سب نیک باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعاؤں کا وارث بنائے۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔