تشہد،تعوذ ،تسمیہ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
گذشتہ خطبہ میں حضرت کعب بن مالک اور دوسرے صحابہ کا غزوہ تبوک میں پیچھے رہ جانے اور اس پر آنحضرتﷺ کی ناراضگی کا ذکر ہوا تھا۔
اس بارے میں حضرت مصلح موعودؓ نے بھی ذکر فرمایا ہے اور جماعت کو نصیحت فرمائی ہے۔یہ ۱۹۳۶ء کی بات ہے۔ آپؓ اس واقعہ کا ذکر کرکے فرماتے ہیں کہ یہاں (قادیان) میںتو مَیں نے دیکھا ہے کہ جن لوگوں سے بات چیت منع ہے وہ محلوں میں احمدیوں کے محلے میں بھی چلے جاتے ہیں، محلے والے سوئے رہتے ہیں کہ ان کو پتا ہی نہیں لگتا۔ یہاں کے بعض احمدی سانپوں کو پالتے ہیں مگر وہ یاد رکھیں کہ یہ سانپ نہ خدا کو ڈس سکتے ہیں، نہ خدا کے رسول کو اور نہ خلیفہ کو۔ یہ انہی کو ڈسیں گے جو ان کو پالتے ہیں۔ ہم تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے محفوظ ہیں کیونکہ جس کو اللہ تعالیٰ اپنی حفاظت میں لے لے اس کو کون ڈس سکتا ہے۔
حضورانور نے فرمایا کہ اُس زمانے میں بعض فتنے اٹھے تھے جس وجہ سے حضورؓ کو یہ فرمانا پڑا۔
غزوۂ تبوک کا سفر ایسا پُر حکمت اور بابرکت ثابت ہو اکہ سارے عرب میں مسلمانوں کا رعب بیٹھ گیا اور تھوڑی ہی دیر میں سارے عرب پر اسلام کا جھنڈا لہرانے لگا۔
اس بارے میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ تبوک سے واپسی کے بعد طائف کے لوگوں نے بھی اطاعت قبول کرلی اور اس کے بعد عرب کے متفرق قبائل نے بھی باری باری آکر اسلامی حکومت میں داخلے کی اجازت چاہی اور سارے عرب پر اسلامی جھنڈا لہرانے لگا۔
غزوۂ تبوک سے واپسی کے بعد ایک سریہ بھی ہوا تھا جسے سریہ حضرت خالد بن ولید ؓکہا جاتا ہے جو نجران میں بنو عبدالمدان جو بنو حارث بن کعب میں سے تھے ان کی طرف تھا۔ عبدالمدان جس کی طرف قبیلے کی نسبت کی گئی ہے بنو حارث کا جد امجد تھا اور اس کا نام عمرو بن یزید تھا۔ ابن سعد کی روایت کے مطابق یہ سریہ ربیع الاول دس ہجری کو پیش آیا جبکہ ابن ہشام کے مطابق یہ سریہ ربیع الآخر یا جمادی
الاول دس ہجری کو ہوا۔ سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سریہ خالدبن ولید بطرف نجران کی تاریخ ربیع الاول دس ہجری بیان کی ہے۔ بہرحال اس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ آپ نے حضرت خالد کو حکم دیا کہ لڑنے سے پہلے تین بار ان کو دعوت اسلام دینا۔ اگر وہ قبول کریں تو بہتر ہے ورنہ پھر جنگ کرنا۔ یعنی اگر جنگ کی کوشش کریں تو تم پھر بھی تین دفعہ ان کو اسلام کی تعلیم کی دعوت دینا۔ اگر پھر بھی جنگ کرنا چاہیں تو پھر ٹھیک ہے جنگ کرو ان سے۔ چنانچہ حضرت خالدؓ نے ایسا ہی کیا اوریہ سب لوگ مسلمان ہو گئے۔ چنانچہ حضرت خالد،نے ان میں قیام کر لیا یعنی تبلیغ کی صرف جنگ نہیں ہوئی اور وہ مسلمان ہو گئے۔ حضرت خالد نے ان میں قیام کر لیا اور ان کو اسلام کتاب اللہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی تعلیم دینی شروع کی اور یہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد کو حکم دیا تھا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قیس بن حسین کو بنو حارث کا امیر مقرر فرمایا اور شوال کے آخر یا ذوالقعدہ کے شروع میں ان لوگوں کو رخصت فرمایا۔ ان لوگوں کے اپنی قوم میں پہنچنے کے چار مہینے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری غزوہ غزوہ تبوک تھا اور آخری لشکر یا سریہ جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا وہ لشکر اسامہ تھا۔
لشکر اسامہ کی تیاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے دو روز قبل بروز ہفتہ مکمل ہوئی اور اس کا آغاز آپ کی بیماری سے قبل ہو چکا تھا۔ آپ نے ماہ صفر کے آخر میں رومیوں سے جنگ کی تیاری کا حکم دیا۔ حضرت اسامہ کو بلایا اور فرمایا اپنے والد کی شہادت گاہ کی طرف روانہ ہو جاؤ۔ حضرت زید کو جہاں شہید کیا گیا تھا پہلی جنگ میں آپ نے فرمایا کہ وہاں جاؤ اور انہیں یعنی دشمنوں کو گھوڑوں سے روند ڈالو۔ میں نے تم کو اس لشکر کا امیر مقرر کیا ہے۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلقاء اور داروم کو گھوڑوں کے ذریعہ روند ڈالو۔ بلقاء ملک شام میں واقع ایک علاقہ ہے جو دمشق اور وادی القریٰ کے درمیان میں ہے۔ داروم مصر جاتے ہوئے فلسطین میں غزہ کے بعد ایک مقام ہے اور ملک شام کے لئے روانگی کا ارشاد کرتے ہوئے فرمایاپھر صبح ہوتے ہی اہل ابناء پر حملہ کرو۔ ابناء ملک شام میں بلقاء کی جانب ایک جگہ کا نام ہے اور فرمایا کہ تیزی کے ساتھ سفر کرو تا ان تک اطلاع پہنچنے سے پہلے پہنچ جاؤ۔ پس اگر اللہ تعالیٰ تمہیں کامیابی عطا کرے تو وہاں قیام مختصر رکھنا اور اپنے ساتھ راستہ دکھانے والے لے جانا اور مخبروں اور جاسوسوں کو اپنے آگے روانہ کر دو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسامہ کے لئے اپنے ہاتھ سے ایک جھنڈا باندھا پھر کہا اللہ کے نام کے ساتھ اس کی راہ میں جہاد کرو اور اس سے جنگ کرو جس نے اللہ کا انکار کیا اور دھوکہ نہ دو۔ بچوں اور عورتوں کو قتل نہ کرو اور دشمن سے مقابلے کی تمنا نہ کرو ۔ یہ فقرہ بھی دشمن کے خطرے کے مقابلے کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ دشمن اگر حملہ کرے تو کرنا ہے لیکن تم نے مقابلے کی تمنانہیں کرنی دشمن سے۔ پس فرمایا کہ بیشک تمہیں معلوم نہیں شاید تم اس کی وجہ سے آزمائے جاؤ لیکن تم یہ کہو کہ اے اللہ تو ہمیں ان کے مقابلے میں کافی ہو جیسا تو چاہے اور ان کی جنگ کو ہم سے دور کر دے۔ یہ دعا بھی سکھائی کہ جنگ ضروری نہیں ہے جنگ ٹل سکتی ہے تو ٹالو۔ پس اگر ان کی تمہارے ساتھ مڈھ بھیڑ ہو جائے لیکن پھر بھی اگر جنگ ہو جائے اور وہ اکٹھے ہو کر شور کریں تو تمہارے اوپر وقار اور خاموشی لازم ہے۔ پھر خاموشی سے اور وقار سے جنگ کرو اور تم آپس میں نہ جھگڑو ورنہ تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہارا رعب اور دبدبہ جاتا رہے گا۔ اکائی پیدا کرو اپنے اندر اور تم کہو اے اللہ ہم تیرے بندے ہیں اور وہ بھی تیرے بندے ہیں۔ تمہاری پیشانیاں اور ان کی پیشانیاں اسکے قبضہ قدرت میں ہے اور تو ہی ان سے کافی ہو سکتا ہے اور تم جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے۔
حضرت اسامہ آنحضرت ﷺ کے ہاتھ سے بندھا ہوا جھنڈا لے کر نکلے اور اسے حضرت بریدہ بن حسیب کے سپرد کیا اور جرف مقام پر لشکر کو جمع کیا۔
ایک روایت کے مطابق جب حضرت اسامہ کا لشکر ذوخشب میں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تھی۔ ذوخشب بھی مدینہ سے ایک رات کی مسافت پر واقع ہے شام کے راستے پر یہ وادی ہے لیکن بہرحال یہ لوگ واپس آئے۔
جب آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر کی بیعت کر لی گئی تو حضرت ابوبکر نے حضرت بریدہ بن حسیب کو حکم دیا کہ جھنڈا لے کر اسامہ کے گھر جاؤ کہ وہ اپنے مقصد کے لئے روانہ ہوں۔ حضرت بریدہ جھنڈے کو لشکر کی پہلی جگہ پر لے آئے۔ اس لشکر کی تعداد تین ہزار بیان کی جاتی ہے جس میں سے ایک ہزار گھڑ سوار تھے اور ایک دوسری روایت کے مطابق حضرت اسامہ بن زید کو سات سو آدمیوں کے ساتھ شام کی طرف بھیجا گیا تھا۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے دوسرے روز حضرت ابوبکر نے منادی کرا دی کہ اسامہ کی مہم پایہ تکمیل کو پہنچے گی۔ اسامہ کے لشکر میں سے کوئی شخص بھی مدینہ میں باقی نہ رہے مگر یہ کہ وہ سب جرف میں ان کے لشکر میں جا ملیں۔
یہ لشکر جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کامیاب ہو کر واپس آیا۔ دشمن یا قتل ہوا یا قیدی بن گیا۔ اس جنگ میں کسی مسلمان کا بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ روایات کے مطابق یہ لشکر چالیس سے لے کر ستر روز تک باہر رہنے کے بعد مدینہ واپس پہنچا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت ابوبکر کی محبت تھی کہ اسامہ کے جس جھنڈے کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے گرہ لگائی تھی اور حضرت ابوبکر نے فرمایا تھاکہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ابن ابو قحافہ اس جھنڈے کی گرہ کھول دے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے لگائی ہے چنانچہ لشکر اسامہ کی واپسی پر اس جھنڈے کی گرہ نہ کھولی گئی اور وہ جھنڈا بعد میں بھی حضرت اسامہ کے گھر میں ہی رہا یہاںتک کہ حضرت اسامہ کی وفات ہو گئی۔ اللھم صل علیٰ محمد واٰل محمد
غزوات کا یہ سلسلہ اب ختم ہوا ۔ آئندہ سیرت کے کچھ اور پہلو دیکھنے ہوں گے انشاء اللہ۔
آخر پر سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دو مرحومین مکرم عزیز الرحمن خالد صاحب مربی سلسلہ امریکہ اور مکرم ایدی حمایدی صاحب آف انڈونیشیا کا ذکر خیر فرمایا ۔
حضورانور نے دونوں مرحومین کی مغفرت اور بلندیٔ درجات کے لیے دعا کی۔