اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-12-04

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا حضرت اقدس امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 28؍نومبر 2025 بمقام مسجد مبارک اسلام آباد ٹلفورڈ. یوکے

تشہد،تعوذ ،تسمیہ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:تبوک کے سفرکی مزید تفصیلات جو ملتی ہیں وہ آج بیان کروں گا۔ گذشتہ خطبات میں جیسا کہ بیان ہو چکا ہے کہ بعض منافقین نے غزوہ پر جانے سے انکار کیا تھا اور مختلف عذر بیان کئے تھے لیکن مدینہ تشریف آوری کے بعد بھی منافقین کے ساتھ نہ جانے پر عذر اور بہانوں کا ذکر ملتا ہے بلکہ قرآن شریف میں بھی اس کا ذکر ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت تھی کہ جب سفر سے مدینہ واپس تشریف لاتے تو پہلے مسجد میں پہنچ کر دو رکعت نماز ادا کرتے۔ چنانچہ آپ تبوک سے واپس تشریف لائے تو مدینہ میں چاشت کے وقت داخل ہوئے اور پہلے مسجد میں دو رکعت نماز ادا کی۔ نوافل سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ہی تشریف فرما ہو گئے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات اور زیارت کے لئے حاضر ہونے لگے۔ اسی طرح وہ لوگ جو اپنی کمزوریٔ ایمان اور نفاق کی وجہ سے ساتھ نہیں گئے تھے وہ بھی آنے لگے۔ خاص طور پر منافقین جن کی امیدیں تو خاک میں مل چکی تھیں وہ اب مزید شرمندگی اور ندامت سے بچنے کے لئے قسمیں کھانے لگے اور مختلف بہانے اور عذر پیش کرنے لگے۔ سیرت نگار لکھتے ہیں کہ یہ لوگ تقریباً اسّی تھے لیکن بعض روایات کے مطابق اس سے بھی زیادہ لوگ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان کے ظاہری عذر مان لئے اور ان سے بیعت لی اور ان کے لئے مغفرت کی دعا کی اور ان کا اندرونہ اللہ کے سپرد کیا لیکن ان منافقین کا یہ جرم ناقابل معافی تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی فرما دیا تھا کہ یہ ایسے ناپاک لوگ ہیں کہ خدا ان سے اب راضی نہیں ہو گا۔ جنگ تبوک میں پیچھے رہ جانے والوں پر اللہ تعالیٰ نے اپنی سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا جیسا کہ اس سے ظاہر ہے۔ ان لوگوں کو فاسق قرار دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی نماز جنازہ پڑھنے اور قبر پر دعا کرنے سے منع فرما دیا اور یہ پابندی بھی لگا دی کہ آئندہ وہ کسی تحریک میں حصہ نہ لیں گے اور نہ ہی کسی جنگ میں شامل ہوں گے۔
جنگ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے چار طرح کے لوگ تھے۔ وہ خوش نصیب افراد جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر کسی فرض کی ادائیگی کے لئے پیچھے رہے جیسے حضرت علی اور ابن ام مکتوم اور محمد بن مسلمہ وغیرہ۔ یہ نمبر ایک قسم ہے۔ دوسری طرح کے وہ لوگ ہیں جو معذور اور بیمار تھے کمزور تھے یہ بہت ہی نادار اور غریب تھے اور سواری وغیرہ کی استطاعت نہ رکھتے تھے۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ یہ حقیقی عذر رکھتے ہیں اس کے لئے اللہ نے ان کو معاف کر رکھا ہے۔ بلکہ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا کہ وہ ہر جگہ ہمارے ساتھ ساتھ ہی تھے۔ یعنی اللہ نے ان کو ہمارے اجرو ثواب میں بھی شامل فرمایا تھا۔ تیسرے منافق جن کے کردار کی سخت مذمت کی گئی ہے اور قرآن کریم میں ہمیشہ ہمیش کے لئے ان سے ناراضگی اور سخت سزا اور وعید کا حکم نازل ہوا۔ چوتھے وہ لوگ تھے جو محض سستی کی وجہ سے شامل نہ ہوئے تھے اور پیچھے رہ گئے تھے۔ ان میں سے تین اصحاب خاص طور پر قابل ذکر ہیں اور وہ ہیں حضرت کعب بن مالک حضرت مرارۃ بن ربیع اور حضرت ہلال بن امیہ۔
حضرت کعب بن مالک کہتے تھے کہ جب مجھے یہ خبر پہنچی کہ آپ واپس آ رہے ہیں مجھے فکر ہوئی اور میں جھوٹی باتیں سوچنے لگا کہ کس بات سے کل آپ کی ناراضگی سے بچ جاؤں۔ بہانہ بناؤں اور اپنے گھر والوں میں ہر ایک اہل رائے سے میں نے اس بارے میں مشورہ لیا۔ جب یہ کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آن پہنچے ہیں میرے دل سے سارے جھوٹے خیالات کافور ہو گئے اور میں نے سمجھ لیا کہ میں کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ سے ایسی بات سے بچنے کا نہیں جس میں جھوٹ ہو۔ اس لئے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچ سچ بیان کرنے کی ٹھان لی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ جب آپ کسی سفر سے آتے پہلے مسجد میں جاتے اس میں دو رکعتیں پڑھتے پھر لوگوں سے ملنے کے لئے بیٹھ جاتے۔ جب آپ نے یہ کیا تو پیچھے رہے ہوئے لوگ آپ کے پاس آ گئے اور لگے آپ سے معذرتیں کرنے اور قسمیں کھانے اور ایسے لوگ اسّی سے کچھ اوپر تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان کے ظاہری عذر مان لئے اور ان سے بیعت لی اور ان کے لئے مغفرت کی دعا کی اور ان کا اندرونہ اللہ کے سپرد کیا۔ جب میں آپ کے پاس آیا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ ناراض شخص کی طرح مسکرائے۔ مسکراہٹ تھی لیکن ناراضگی والی۔ پھر آپ نے فرمایا آگے آؤ۔ میں چل کر آیا اور آپ کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپ نے مجھے پوچھا کس بات نے تمہیں پیچھے رکھا ہے۔ کیا تم نے سواری نہیں خریدی تھی۔ میں نے کہا جی ہاں اللہ کی قسم میں ایسا ہوں کہ اگر آپ کے سوا دنیا کے لوگوں میں سے کسی اور کے پاس بیٹھا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ میں ضرور ہی اس کی ناراضگی سے عذر کر کے بچ جاتا۔ مجھے خوش بیانی دی گئی ہے مگر اللہ کی قسم میں خوب سمجھ چکا ہوں۔ اگر میں نے آج آپ سے کوئی ایسی جھوٹی بات بیان کی جس سے آپ مجھ پر راضی ہو جائیں تو اللہ عنقریب مجھ پر آپ کو ناراض کر دے گا۔ اور اگر آپ سے سچی بات بیان کروں گا جس کی وجہ سے آپ مجھ پر ناراض ہوں تو میں اس میں اللہ کے عفو کی امید رکھتا ہوں۔
کہنے لگے کہ نہیں اللہ کی قسم میرے لئے کوئی عذر نہیں تھا اللہ کی قسم میں کبھی بھی ایسا تنومند اور آسودہ حال نہیں ہوا جتنا کہ اس وقت تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا اس نے تو سچ بیان کر دیا ہے۔ اٹھو!جاؤ !یہاں تک کہ اللہ تمہارے متعلق کوئی فیصلہ کرے۔ آپ نے فرمایا سچ تو بول دیا تم نے لیکن اب یہاں سے جاؤ اب اللہ تمہارے متعلق فیصلہ کرے گا کہ تمہارے سے کیا سلوک کرنا ہے۔ میں اٹھ کر چلا گیا اور بنو سلمیٰ میں سے بعض لوگ بھی اٹھ کر میرے پیچھے ہو لئے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ اللہ کی قسم ہمیں علم نہیں کہ تم نے اس سے پہلے کوئی قصور کیا ہو اور تم یہ بھی نہ کر سکے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی بہانہ ہی بناتے جیسا کہ ان پیچھے رہنے والوں نے آپ کے سامنے بنائے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تمہارے لئے مغفرت کی دعا کر دینا ہی تمہارے اس گناہ کو بخشانے کے لئے کافی تھا۔ اللہ کی قسم یہ لوگ مجھے ملامت ہی کرتے رہے یہانتک کہ میں نے بھی ارادہ کر لیا۔ کہتے ہیں میری نیت بدل گئی پھر کہ لوٹ جاؤں اور اپنے آپ کو جھٹلا دوں۔ کہ پہلے جو میں نے بات کی تھی غلط کی تھی بہانہ بنا لوں کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے۔ پھر میں نے ان سے پوچھا ان ساتھیوں سے جو مجھے کہہ رہے تھے کہ جاؤ معافی مانگو۔ کوئی اور عذر پیش کر دو۔ کہتے ہیں میں نے پھر ان سے پوچھا کہ کیا کوئی میرے ساتھ اور بھی ہے جس نے آپ سے اس قسم کا اقرار کیا ہو یا سچی بات بیان کی ہو۔ انہوں نے کہا ہاں دو اور شخص ہیں انہوں نے بھی وہی کہا ہے جو تم نے کہا ہے اور ان کو بھی وہی جواب ملا ہے جو تمہیں دیا گیا ہے۔ میں نے کہا وہ کون ہیں۔ کہنے لگے مرارۃ بن ربیع عمری اور ہلال بن امیہ واقفی۔ انہوں نے مجھ سے ایسے دو نیک آدمیوں کا ذکر کیا جو بدر میں شریک ہو چکے تھے۔ ان دونوں میں میرے لئے نمونہ تھا۔ جب لوگوں نے ان دونوں کا مجھ سے ذکر کیا تو میں چلا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہم سے بات چیت کرنے سے منع کر دیا۔یعنی پھر میں واپس نہیں گیا بہانہ بنانے کے لئے بلکہ میں چلا گیا گھر۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے ہمارا مقاطعہ کروا دیا۔ لوگ ہم سے کترانے لگے گویا کہ ہم سے بالکل ناآشنا ہیں یہانتک کہ یہ زمین بھی مجھے اوپری نظر آنے لگی۔ وہ نہ تھی جس کو میں جانتا تھا۔ میرے جو ساتھی تھے وہ تو غمزدہ ہو ہو کر گھروں میں رہ گئے اور اپنے گھروں میں بیٹھ کر رونے لگے اور میں ان لوگوںمیں سے زیادہ جوان تھا اور ان لوگوں سے مصیبت کو زیادہ برداشت کرنے والا تھا۔اسی اثناء میں حضرت کعب بن مالک کو عیسائی بادشاہ کا خط ملا جس نے لالچ دیتے ہوئے آپ کو بلایا لیکن آپ نے اس کا خط جلتے تنور میں جھونک دیا۔ جب چالیس دن گزرے حضور نے ہمیں بیویوں سے الگ رہنے کا حکم دیا۔ جب مقاطعے کو پچاس دن گزر گئے اور میں صبح کو نماز فجر پڑھ چکا اور میں اس وقت اپنے گھروں میں سے ایک گھر کی چھت پر تھا اور میں اسی حالت میں بیٹھا ہوا تھا جس کا اللہ نے ذکر کیا ہے یعنی مجھ پر میری جان تنگ ہو چکی تھی اور مجھ پر زمین بھی باوجود کشادہ ہونے کے تنگ ہو گئی تھی اس اثناء میں میں نے ایک پکارنے والے کی آواز سنی جو سلع پہاڑ پر چڑھ کر بلند آواز سے پکار رہا تھا اے کعب بن مالک تمہیں بشارت ہو۔ میں یہ سن کر سجدے میں گر پڑا اور سمجھ گیا کہ مصیبت دور ہو گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آپ فجر کی نماز پڑھ چکے اعلان فرمایا کہ اللہ نے مہربانی کر کے ہماری غلطی کو معاف کر دیا ہے۔ اور حضرت کعب کہتے تھے اور ہم تینوں کا فیصلہ ان لوگوں کے فیصلہ سے زیادہ موخر رکھا گیا جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عذر قبول کیا تھا جب انہوں نے آپ کے سامنے قسمیں کھائیں اور آپ نے ان سے بیعت لی اور ان کے لئے مغفرت کی دعا کی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے فیصلے کو ملتوی کر دیا یہاں تک کہ اللہ نے اس کے متعلق فیصلہ فرمایا سو وہ یہی بات ہے کہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اسی طرح ان تینوں پر بھی اس نے فضل کیا جو کہ پیچھے چھوڑے گئے تھے اور جو پیچھے رکھے جانے کا اللہ نے اس میں ذکر کیا ہے وہ غزوے سے ہمارا پیچھے رہنا نہیں بلکہ اللہ کے فیصلے میں ہمیں ان لوگوں سے پیچھے رکھنا مراد ہے کہ جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قسمیں کھائی تھیں اور آپ کے پاس معذرتیں کی تھیں اور آپ نے ان کی معذرت قبول کر لی تھی لیکن ہم نے سچ بولا تھا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ اس کا باقی حصہ جو حضرت مصلح موعود نے بیان فرمایا ہے اپنے انداز میں وہ انشاء اللہ آئندہ بیان کر دوں گا۔
سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تین مرحومین ،حافظ محمد ابراہیم عابد صاحب مربی سلسلہ،شیخ ابوبکر جورج صاحب (معلم سلسلہ، لائبیریا)اورثمینہ بھنوں صاحبہ (اہلیہ ڈاکٹر فضل محمود بھنوں صاحب) نواسی حضرت مولانا عبدالرحیم دردؓ کی نواسی کا ذکر خیر فرمایا ۔
٭٭٭