تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
غزوہ تبوک کے بارے میں بیان ہو رہا تھا۔ اس سفر کی مزید تفصیل آج بیان کروں گا۔غزوہ تبوک دراصل یہود، نصاریٰ اور منافقین کی مشترکہ سازشوں سے بھرا ہوا تھا۔ جب ہر طرف سے ان کی کوششیں ناکام ہو گئیںتو انہوں نے آخری وار کے طور پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی۔ واپسی پر ایک تنگ گھاٹی کے مقام پر انہوں نے بارہ یا پندرہ افراد کو رات کی تاریکی میں یہ کوشش کرنے کے لئے بھیجا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کو بدکا کر کھائی میں گرا دیں، مگر اللہ تعالیٰ نے بروقت اطلاع دے کر آپ کی حفاظت فرمائی۔ حضرت حذیفہ ؓاور حضرت عمار ؓکو ساتھ کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھاٹی کا راستہ اختیار کیا اور منافقین بھاگ کھڑے ہوئے۔ وحی کے ذریعہ آپ نے حضرت حذیفہ ؓکو ان منافقین کے نام بتائے جنہیں انہوں نے کبھی ظاہر نہ کیا۔سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس ضمن میں بعض تاریخی روایات کا بھی ذکر فرمایا۔
حضور انور نے فرمایا:مختلف روایتیں ہیں تویہ بھی ایک روایت ہے جس کو حضرت مصلح موعودؓ نے بیان کیا ہے۔ جیسا کہ حملہ کرنے والے بیٹھا کرتے ہیں۔ ان کے پہنچنے پر وہاں سے بھاگ گئے وہ لوگ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا تعاقب کرنا مناسب نہ معلوم ہوا۔جب آپ مدینہ پہنچے تو منافقوں نے جو اِس جنگ میں شامل نہیں ہوئے تھے قسم قسم کی معذرتیں کرنی شروع کر دیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قبول کر لیا لیکن اب وقت آگیا تھا کہ منافقوں کی حقیقت مسلمانوں پر آشکار کر دی جائے۔
چنانچہ یہ بتا دیا گیا تو بہرحال بعض بیٹھنے کا یا آگے جانے کا یا کس طرح عمل کرنے کا اس کی مختلف روایتیں ہیں لیکن واقعہ ایک ہی ہے ہر جگہ کہ کوشش ہوتی تھی کہ اس تنگ گھاٹی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہنچایا جائے نعوذ باللہ۔ جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے کہ مکہ فتح ہونے کے بعد منافقین کی سازشوں میں ایک قسم کی تیزی آ گئی تھی اور جب انہوں نے دیکھا کہ عرب کے ارد گرد قبائل بشمول یہود کے قبائل اپنی طاقت کھو چکے ہیں اور مفتوح ہو چکے ہیں تو اب انہوں نے عرب سے باہر قیصر روم جیسی بیرونی اور بڑی طاقتوں سے مدد مانگنے کا منصوبہ بنایا اور اس کے ساتھ ساتھ مدینہ میں ایک مستقل مرکز بنانے کا پروگرام بنایا جہاں یہ مستقل طور پر اپنی میٹنگز کریں۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشی منصوبہ بندیاں کریں اور اسلحہ وغیرہ بھی جہاں جمع رکھیں لیکن وہ مرکز ایسا ہو کہ دوسرے مسلمانوں کو شک بھی نہ گزرے۔ چنانچہ ابوعامر جو کچھ عرصہ منظر عام سے غائب رہا تھا وہ اچانک سامنے آ گیا اور منافقین کے حق میں پروپیگنڈہ کرنے والوں نے اس کو ابوعامر راہب کہنا شروع کر دیا۔ اس نے یہ تجویز دی کہ اس مرکز کے لئے تم لوگ قبا میں ایک مسجد بناؤ۔ ابوعامر کے متعلق تاریخ میں مزید ملتا ہے۔ ابوعامر راہب کے نام سے مشہور تھا اور قبیلہ خزرج سے تعلق رکھتا تھا۔ جیسا کہ دوسرے خطبات میں اس بارے میں بیان بھی ہو چکا ہے۔
روایات میں ابوعامر کے خلاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا کا بھی ذکر ملتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خلاف دعا کی کہ یہ اپنے وطن سے دور تنہائی کی موت مرے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نشانیاں اور معجزے روز بروز ظاہر ہو رہے تھے اور آپ کے پیروکار بھی بڑھتے جا رہے تھے خاص طور پر ابوعامر کے قبیلے کے لوگ جس سے وہ۔ شامل ہو رہے تھے نہ اسلام میں جس سے وہ ابو عامر اور بھی زیادہ غصہ میں آ گیا۔ اس نے منافقین کے ساتھ مل کر ایک مسجد بنائی جسے تاریخ اسلام میں مسجد ضرار کے نام سے جانا جاتا ہے تا کہ وہاں لوگوں کو جمع کر کے ان سے بات چیت کرے اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے روکے۔
ابو عامر شام میں رومی بادشاہ قیصر سے بھی ملا اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف جنگ پر اُکسانے کی کوشش کی۔ اسی مقصد کے لیے منافقوں نے قبا میں مسجد بنائی۔ اس مسجد کو مسجد ضرار کہا جاتا ہے۔ لیکن یہ خواہش بھی پوری نہ ہوئی اور آخر کار ابوعامر شام میں ہی تنہائی اور بے وطنی کی حالت میں مر گیا۔ اس میں اختلاف ہے کہ وہ کب مرا۔ بعض کے نزدیک یہ نو ہجری میں مرا اور بعض کے نزدیک یہ دس ہجری میں مرا لیکن بہرحال تنہائی میں مرا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی الٰہی کے بعد حضرت مالک بن دحشم ؓاور حضرت معن بن عدی ؓکو بلایا اور ان کو مسجد ضرار گرانے کا حکم دیا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وسیع رحمت وسعت حوصلہ اور عفو و درگذر کی ایک روشن ترین مثال ہے کہ قدم قدم پر منافقین کی طرف سے خطرناک سازشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس میں دکھ تکلیف اور قتل تک کی سازشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ سازشیں کر رہے ہیں اور منافق پھر اس حالت میں رنگے ہاتھوں پکڑے بھی جاتے ہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ ہر موقع پر انہیں معاف فرماتے رہے۔ صرف وہاں سزا دی کہ جہاں ریاست اور نظام کو خطرہ تھا اور وہاں بھی صرف اس حد تک کارروائی کی گئی کہ وہ خطرہ ختم ہو جائے ورنہ وہاں بھی سخت سزائیں نہیں دی گئیں جبکہ دی جا سکتی تھیں۔
غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے دو بڑے گروہ تھے ایک منافقین کا جن سے اللہ تعالیٰ نے ناراضگی کا اظہار فرمایا اور دوسرا گروہ ان لوگوں پر مشتمل تھا جو اپنے ایمان میں مخلص تھے اور جہاد میں شامل بھی ہونا چاہتے تھے لیکن یا تو اتنے غریب تھے کہ باوجود کوشش کے ان کو جانے کے وسائل اور ذرائع مہیا نہیں ہو سکے یا وہ کسی بیماری اور معذوری کی وجہ سے شامل نہیں ہو سکے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سورۃ توبہ آیت اکانوے بانوے میں ان کے عذر کو قبول فرمایا۔
جنگ تبوک سے واپسی پر اہل مدینہ کے والہانہ استقبال کا ذکر ملتا ہے لکھا ہے کہ غزوہ تبوک سے واپسی پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لئے مدینہ کے لوگ کیا مرد اور کیا عورتیں اور کیا بچے سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور دیدار و زیارت کے اشتیاق سے بیتاب ہو کر مدینہ سے باہر ثنیۃ الوداع کے پاس آ گئے اور یہ شعر پڑھنے لگے
طلع البدر علینا من ثنیات الوداع وجب الشکر علینا ما دعا للہ داع
کہ چودھویں کے رات کا چاند ہم پر ثنیۃ الوداع کی جانب سے طلوع ہوا۔ ہم پر اللہ کا شکر واجب ہو گیا ہے جب تک کہ اللہ کا کوئی نہ کوئی پکارنے والا رہے گا۔ مدینہ کے لوگوں کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت کے جذبات کے ساتھ یہ شعر پڑھ کر آپ کا استقبال کرنا دو مواقع پر بیان ہوتا ہے۔ ایک اس موقع پر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ ہجرت کر کے تشریف لائے تھے اور دوسرا موقع یہ تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک سے واپسی پر مدینہ میں داخل ہوئے۔
آخر میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ انشاء اللہ باقی کچھ اور بھی واقعات ہیں سیرت کے پہلو ہیں۔وہ آئندہ انشاء اللہ بیان کروں گا۔ ٭٭٭