تشہد،تعوذ ،اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: آنحضرت ﷺ کے غزوات اور غزوات میں آپ کی سیرت کے حوالے سے ذکر ہو رہا ہے گذشتہ خطبوں میں۔ اس ضمن میں غزوہ تبوک کی تفصیل بیان ہو رہی تھی۔ اس کی مزید تفصیل یہ ہے۔ لکھا ہے کہ اس موقع پر ایک خاتون نے بڑے اخلاص اور جوش کا اظہار کیا۔ اس کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ جنگ کے لئے خواتین نے بھی جس طرح بھی ہوا کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ مالی قربانی میں بھی پیش پیش رہیں جس میں انہوں نے اپنے زیورات اتار اتار کر حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کئے۔ ایسا ہی جذبات کی قربانی کا بھی ایک واقعہ تاریخی کتب میں محفوظ رہ گیا ہے جس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیںکہ :
چونکہ لشکر کو شام کی طرف جانا تھا اور موتہ کی جنگ کا نظارہ مسلمانوں کی آنکھوں کے سامنے تھا اس لئے ہر مسلمان کے دل میں رسول اللہ ﷺ کی جان کی حفاظت کا خیال سب خیالوں پر مقدم تھا۔ عورتیں تک بھی اس خطرہ کو محسوس کر رہی تھیں اور اپنے خاوندوں اور اپنے بیٹوں کو جنگ پر جانے کی تلقین کر رہی تھیں۔ اس اخلاص اور اس جوش کا اندازہ اس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک صحابی جو کسی کام کے لئے باہر گئے ہوئے تھے اس وقت واپس لوٹے جب رسول اللہ ﷺ لشکر سمیت مدینہ سے روانہ ہو چکے تھے۔ ایک عرصہ کی جدائی کے بعد جب وہ اِس خیال سے اپنے گھر میں داخل ہوئے کہ اپنی بیوی کو جا کر دیکھیں گے اور خوش ہو ںگے تو انہوں نے اپنی بیوی کو صحن میں بیٹھے ہوئے دیکھا اور محبت سے آگے بڑھے پیار کرنے کے لئے۔ جب وہ بیوی کے قریب گئے تو ان کی بیوی نے ددنوں ہاتھوںسے ان کو دھکا دے دیا اور پیچھے ہٹا دیا۔ اس صحابی نے حیرت سے اپنی بیوی کا منہ دیکھا اور پوچھا اتنی مدت کے بعد ملنے پر آخر یہ سلوک کیوں ہے؟ بیوی نے کہا کیا تمہیں شرم نہیں آتی۔ خدا کا رسول اس خطرہ کی جگہ پر جار ہا ہے اور تم اپنی بیوی سے پیار کرنے کی جرات کرتے ہو۔ پہلے جائو اور اپنا فرض ادا کرو اس کے بعد یہ باتیں دیکھی جائیں گی۔ وہ صحابی فوراً گھر سے باہر نکل گئے۔ اپنی سواری پر زین کسی اور رسول اللہ ﷺ کو تین منزل پر جا کر مل گئے۔
بہرحال پندرہ یا بعض روایات کے مطابق انیس مقامات پر پڑاؤ کرتے ہوئے آپ ﷺ اپنے صحابہ سمیت تبوک کے مقام پر پہنچ گئے۔ تبوک کے اس سفر میں جن جگہوں پر پڑاؤ کیا گیا اس کی الگ سے تفصیل نہیں ملتی البتہ بعد میں ان جگہوں پر مساجد تعمیر کی گئیں اور ان مقامات کے نام پر مساجد کے نام رکھے گئے۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عقبہ بن عامر یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ ہم غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے تو رسول اللہ ﷺ سو گئے ایک رات ۔ کافی لمبا سفر تھا تھکاوٹ تھی اور اس وقت بیدار ہوئے جب سورج نیزہ بھر بلند ہو چکا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اے بلال کیا میں نے تجھے نہیں کہا تھا کہ ہمارے لئے فجر کا انتظار کرنا۔ جاگتے رہنا اور ہمیں جگا دینا۔ حضرت بلال نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ کی طرح نیند مجھے بھی لے گئی۔ مجھ پر بھی نیند کا غلبہ ہو گیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے لشکر کو روانگی کا حکم دیا اور پھر کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد سواری سے اتر کر سنتیں ادا کیں اور صحابہ کو نماز پڑھائی پھر آپ ﷺ سارا دن اور ساری رات سفر کرتے رہے یہاں تک کہ اگلے روز صبح کے وقت آپ ﷺ تبوک پہنچ گئے۔ اس عرصہ میں لکھا تو نہیں ہوا لیکن بہرحال نمازوں کے وقت میں نمازیں ادا کی گئی ہوں گی اس کا وقفہ ہوا ہو گا۔ وہاں جا کے آپ ﷺ نے صحابہ سے خطاب فرمایا تبوک پہنچ کے۔ آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثناء کی پھر فرمایا۔ اے لوگو سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے اور مضبوط ترین کڑا تقویٰ کی بات ہے اور بہترین مذہب حضرت ابراہیم کا مذہب ہے اور بہترین سنت محمد ﷺ کی سنت ہے اور سب سے بلند بات ذکر الٰہی ہے اور بہترین قصہ یہ قرآن ہے اور بہترین امور وہ ہیں جن کو پختہ ارادے سے کیا جائے اور بدترین امور بدعات ہیں اور بہترین ہدایت انبیاء کی ہدایت ہے اور سب سے افضل موت شہادت کی موت ہے اور ہدایت کے بعد سب سے بڑا اندھا پن ضلالت ہے گمراہی ہے اور بہترین اعمال وہ ہیں جو نفع مند ہوں اور بہترین ہدایت وہ ہے جس کی پیروی کی جائے اور سب سے برا اندھا پن دل کا اندھا ہونا ہے۔ آنکھوں کا اندھا نہیں دل کا اندھا ہونا ہے جب اللہ تعالیٰ کی باتیں سمجھ نہ آئیں۔ پھر فرمایا کہ اوپر کا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہے اور جو تھوڑا اور کفایت کرنے والا ہو وہ زیادہ اور غافل کر دینے والے سے بہتر ہے اور سب سے بری معذرت وہ ہے جو موت کے وقت کی جائے اور سب سے بری شرمندگی قیامت کے روز ہوگی اور کچھ لوگ نماز جمعہ کے لئے بہت دیر سے آتے ہیں اور کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو چھوڑ چھوڑ کر ذکر الٰہی کرتے ہیں اور سب سے عظیم گناہوں میں سے ایک گناہ جھوٹی زبان ہے اور بہترین دولت مندی تو دل کا دولت مند ہونا ہے۔ یعنی کہ چھوڑ چھوڑ کے نماز ادا کرنے اور دیر سے آنے والوں کو بھی آپ نے پسند نہیں فرمایا آپ نے کہا بہت بری بات ہے یہ۔ فرمایا کہ عظیم گناہوں میں سے ایک گناہ جھوٹی زبان ہے اور بہترین دولتمندی تو دل کا دولتمند ہونا ہے اور بہترین زاد راہ تقویٰ ہے اور دانائی کا کمال
اللہ کا خوف ہے اور بہترین بات وہ ہے جو دلوں میں یقین کو جاگزیں کرے اور شک کرنا کفر کا حصہ ہے اور نوحہ کرنا جاہلیت کا عمل ہے اور خیانت جہنم کی آگ ہے اور برا شعر ابلیس کی جانب سے ہے اور شراب گناہ کی جامع ہے اور عورتیں شیطان کے جال ہیں اور جوانی جنون کا ایک حصہ ہے اور سب سے بری کمائی سود کی کمائی ہے اور سب سے برا کھانا یتیم کا مال کھانا ہے اور نیک بخت وہ ہے جو دوسروں سے نصیحت حاصل کرے اور بدبخت وہ ہے جو ماں کے پیٹ سے ہی بدبخت ہو اور تم میں سے ہر ایک آدمی چار ہاتھ جگہ کی طرف جانے والا ہے یعنی آخر میں مرنا ہی ہے قبر میں جانا ہے اور معاملہ آخرت پر موقوف ہے اور کام کا دارومدار انجام پر موقوف ہے اور سب سے برے راوی جھوٹے راوی ہیں اور جو کچھ آنے والا ہے وہ قریب ہے اور مؤمن کو گالی دینا فسق ہے اور مؤمن سے جنگ کرنا کفر ہے اور مؤمن کی غیبت کرنا اللہ کی معصیت ہے اور اس کے مال کی حرمت اس کے خون کی طرح ہے اور جو اللہ کے مقابل پر قسم کھائے گا وہ اس کی تکذیب کرے گا اور جو اس سے مغفرت طلب کرے گا وہ اسے بخش دے گا اور جو اپنے بھائی کو معاف کرے گا اللہ اسے معاف کر دے گا اور جو غصہ کو پی جائے گا اللہ اسے اجر دے گا اور جو مصیبت پر صبر کرے گا اللہ اسے اس کا بدلہ دے گا اور جو شہرت پسند ہو گا اللہ اسے شہرت دے گا اور جو صبر کرے گا اللہ اسے دگنا دے گااور جو اللہ کی نافرمانی کرے گا اللہ اسے عذاب دے گا پھر آگے فرمایا کہ اے اللہ مجھے اور میری امت کو بخش دے اے اللہ مجھے اور میری امت کو بخش دے اے اللہ مجھے اور میری امت کو بخش دے۔ آپ نے یہ بات تین دفعہ دہرائی۔ پھر فرمایا میں اللہ سے اپنے اور تمہارے لئے مغفرت طلب کرتا ہوں۔
اس موقع پر ہرقل کو دعوت اسلام کے لئے خط کا بھی ذکر ملتا ہے۔ جب آنحضرت ﷺ تبوک پہنچے تو ہرقل یعنی قیصر روم ہرقل اس کا نام تھا اس وقت حمص میں موجود تھا۔ آپ نے فرمایا جو میرا مکتوب قیصر تک لے جائے گا اس کے لئے جنت ہے۔ ایک شخص نے عرض کی کہ اگر وہ اس خط کو قبول نہ بھی کرے۔ آپ نے فرمایا وہ اسے قبول نہ بھی کرے تو بھی۔ بہرحال لے کر جاؤ۔ چنانچہ وہ شخص آپ کا خط لے کر گیا اور ہرقل کو دے دیا۔ اس نے اسے پڑھا اور کہا تم اپنے نبی کے پاس چلے جاؤ اور اسے بتا دو کہ میں اس کا پیروکار ہوں لیکن میں اپنی سلطنت کو نہیں چھوڑنا چاہتا۔ اس نے کچھ دینار بھی آپ کی خدمت میں بھیجے۔ وہ شخص واپس آیا آپ کو اس کے متعلق بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس نے جھوٹ بولا ہے۔ سچی بات نہیں کی اس نے اور آپ ﷺ نے دینار تقسیم کر دئیے لوگوں میں۔
غزوہ تبوک کے حوالے سے ہی ایک سریہ کا بھی ذکر ملتا ہے یہ سریہ حضرت خالد بن ولید بطرف اکیدر بن عبدالملک کہلاتا ہے۔ حضور ﷺ نے تبوک ہی میں حضرت خالد بن ولید کو رجب نو ہجری میں چار سو بیس سواروں کا ایک لشکر دے کر اکیدر بن عبدالملک کی طرف دومۃ الجندل روانہ کیا۔ چنانچہ حضرت خالد بن ولید ؓکو اللہ تعالیٰ نے فتح عطا کی اور بہت مال غنیمت مسلمانوں کو حاصل ہوا۔
یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ تبوک میں پہنچنے کے بعد مزید پیش قدمی کے لئے صحابہ سے آنحضرت ﷺ نے مشورہ کیا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے پیش قدمی کے متعلق صحابہ سے مشاورت کی۔ حضرت عمرنے عرض کی یا رسول اللہ اگر آپ کو آگے بڑھنے کا حکم ہے تو آپ ضرور تشریف لے چلیں۔ ٹھیک ہے ہم چلیں گے ساتھ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر مجھے آگے جانے کا حکم ہوتا اللہ کی طرف سے تو میں تم سے مشاورت نہ کرتا۔ تو انہوں نے عرض کی۔ حضرت عمر نے پھر یہ کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ ۔ اہل روم کے پاس بہت سے لشکر ہیں ان میں اہل اسلام میں سے کوئی بھی نہیں ہے۔ ہم ان کے قریب آ گئے ہیں۔ آپ کے قریب آنے نے ہی ان کو خوفزدہ کر دیا ہے۔ ہم اس سال واپس چلے جاتے ہیں حتی کہ کوئی رائے پیدا کر لیں یا اللہ تعالیٰ کوئی صورتحال پیدا فرما دے۔ بہرحال اس بات کو سن کر رسول اللہ ﷺ نے تبوک میں بیس دن قیام فرمایا، اور پھر جانے کا فیصلہ کیا اور ایک دوسرے قول کے مطابق آپ نے بیس سے کم دن تبوک میں قیام فرمایا۔ ان دو مختلف روایات میں تطبیق کی گئی ہے۔ بیس والے قول میں تبوک پہنچنے اور تبوک سے رخت سفر باندھنے والے دو دن بھی شمار ہوئے ہیں جبکہ دوسرے قول میں یہ دونوں دن شمار نہیں کئے گئے۔
مدینہ سے روانگی اور مدینہ واپسی تک دو ماہ یا اس سے زائد عرصہ لگا ہے چنانچہ ابن سعد کے مطابق رجب نو ہجری میں آنحضرت ﷺ اس غزوے کے لئے روانہ ہوئے اور رمضان نو ہجری میں مدینہ واپس تشریف لائے۔ ان دونوں کے درمیان میں شعبان کا مہینہ ہے۔ اس طرح دو ماہ یا اس سے زیادہ عرصہ تک آنحضرت ﷺ مدینہ سے باہر رہے۔ واللہ اعلم۔ حضرت مصلح موعود نے بھی اسکی وضاحت فرمائی ہے کہ جب آپ شام کے قریب تبوک مقام پر پہنچے تو آپ نے اِدھر ادھر آدمی بھیجے تاکہ وہ معلوم کریں کہ حقیقت کیا ہے اور یہ سفرا متفقہ طور پر یہ خبریں لائے کہ کوئی شامی لشکر اِس وقت جمع نہیں ہو رہا۔ حضرت عمر نے بھی یہی کہا تھا کہ کوئی جنگ کے لئے تو آ نہیں رہا اور ابھی خوفزدہ ہیں بعض ارد گرد کے علاقے تو پھر ضرورت کیا ہے جنگ کی۔ اِس پر کچھ دن رسول اللہ ﷺ وہاں ٹھہرے اور اِردگرد کے بعض قبائل سے معاہدات کر کے بغیر لڑائی کے واپس آگئے۔یہ کل سفر آپ کا دو اڑھائی مہینے کا تھا۔
باقی انشاء اللہ آئندہ بیان کروں گا۔
بنگلہ دیش کے بارے میں میں نے پہلے بھی کہا تھا دعا کے لئے۔ وہاں مولوی طبقہ جو احمدیت مخالف طبقہ ہے وہ کافی شور مچا رہا ہے۔ کل ان کا ایک جلسہ بھی ہے شاید تو دعا کریں اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو محفوظ رکھے ان کے شر سے بچائے۔اسی طرح پاکستانی احمدیوں کے لئے بھی اور فلسطینی بھائیوں کیلئے اور افریقہ کے احمدیوں کیلئے دُعا کریں۔ آخر پر حضور انور نے مکرم محمد حُسین صاحب ولد مکرم محمد اسماعیل صاحب آف ربوہ کے حالات بیان کئے اور بعد نماز جمعہ مرحوم کی نماز جنازہ غائب پڑھائی۔
٭٭٭