اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-11-13

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا حضرت اقدس امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 07؍نومبر 2025 بمقام مسجد مبارک اسلام آباد ٹلفورڈ. یوکے

تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی: مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ كَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْۢبَتَتْ سَـبْعَ سَـنَابِلَ فِيْ كُلِّ سُنْۢبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ۝۰ۭ وَاللہُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ۝۰ۭ وَاللہُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ۝(البقرہ : 262)
فرمایا: اس کا ترجمہ یہ ہے کہ جو لوگ اپنے مالوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کے اس فعل کی حالت اس دانہ کی حالت کے مشابہ ہے جو سات بالیں اگائے اور ہر بالی میں سو دانہ ہو۔ اور اللہ جس کے لئے چاہتا ہے اس سے بھی بڑھا بڑھا کر دیتا ہے اور اللہ وسعت دینے والا اور بہت جاننے والا ہے۔
پھر فرمایا:یکم نومبر سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کا تحریک جدید کا نیا مالی سال شروع ہوتا ہے۔ اس حوالے سے نئے سال کے تحریک جدید کا اعلان بھی کیا جاتا ہے اور گذشتہ سال جو گزرا ہے اس کی مالی قربانیوں کا بھی ذکرہوتا ہے جو جماعتوں کی طرف سے ہوئی ہیں۔ اسی طرح مالی قربانی کی اہمیت کے بارے میں بھی کچھ بیان ہوتا ہے۔ یہ بیان کرنے سے پہلے قربانیوں کی اہمیت تحریک جدید کا مختصر پس منظر بیان کر دیتا ہوں۔
تحریک جدید کا آغاز 1934ء میں ہوا تھا۔ اس کی وجہ یہ بنی تھی کہ اس وقت جماعت کے خلاف احرار نے ایک فتنہ اٹھایا تھا اور بڑا شور مچایا تھا۔ مخالفت کا ایک طوفان تھا اور یہ نعرہ تھا کہ ہم احمدیت کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے۔ ایسے وقت میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جماعت کو تحریک کی کہ ایک فنڈ مہیا کریں تا کہ ہم احمدیت اور اسلام کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچائیں اور جماعت کے نظام کو مضبوط تر کریں۔ پس اس سوچ کے ساتھ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تحریک جدید کا اعلان فرمایا تھا اور یہ بھی فرمایا تھا کہ ملک میں بھی اور دنیا میں بھی ہم نے اسلام اور احمدیت کے پیغام کو پھیلانا ہے تا کہ دشمن ہمارے منصوبوں کو کہیں بھی نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کرے۔ ایک جگہ اگر مخالفت ہے تو دوسری جگہ ترقی نظر آتی ہو اور جماعت کا نظام پھیلتا چلا جائے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا کے تمام ممالک میں احمدیت اور حقیقی اسلام کا پیغام پہنچا ہوا ہے اور ہمارے مشنریز مبلغین وہاں کام کر رہے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں ہم نے مسجدیں بنائی ہیں ہمارے سکول کام کر رہے ہیں ہسپتال کام کر رہے ہیں۔ مبلغین اور مربیان سلسلہ خدمت کی توفیق پا رہے ہیں۔ اشاعت لٹریچر ہو رہی ہے ایم۔ ٹی۔ اے کے سٹوڈیوز کئی ملکوں میں قائم ہیں علاوہ مرکزی سٹوڈیو کے جو دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ ریڈیو سٹیشنز قائم ہیں۔ گو یہ سارے جو کام ہیں ان کا بہت سا خرچ باقی چندوں سے بھی پورا کیا جاتا ہے لیکن تحریک جدید اس میں بڑا اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
خدا کی راہ میں جو لوگ مال خرچ کرتے ہیں ان کے مالوں میں خدا اس طرح برکت دیتا ہے جیسے ایک دانہ جب بویا جاتا ہے تو بویا وہ ایک ہی ہوتا ہے مگر خدا اس میں سے سات خوشے نکال سکتا ہے اور ہر خوشے میں سو دانے پیدا کر سکتا ہے یعنی اصل چیز سے زیادہ کر دینا یہ اصولی بات ہے کہ اصل چیز سے زیادہ کردینا یہ خدا کی قدرت میں داخل ہے اور درحقیقت ہم تمام لوگ خدا کی اسی قدرت سے ہی زندہ ہیں اور اگر خدا اپنی طرف سے کسی چیز کو زیادہ کرنے پر قادر نہ ہوتا تو تمام دنیا ہلاک ہو جاتی اور ایک جاندار بھی روئے زمین پر باقی نہ رہتا۔
حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں سب سخیوں سے بڑھ کر سخی کے بارے میں نہ بتاؤں۔ لوگوں نے عرض کیا کیوں نہیںیا رسول اللہ تو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمام سخاوت کرنے والوں سے بہت بڑھ کر سخاوت کرنے والا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے بارے میں بتایا کہ میںتمام انسانوں میںسے سب سے بڑا سخی ہوں۔ پھر آپ ﷺ نے نماز روزہ اور مالی قربانی کی طرف بھی توجہ دلائی۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نماز روزہ اور ذکر کرنا اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کئے گئے مال کو سات سو گنا بڑھا دیتا ہے۔
پس یہ ہدایت ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے مالی قربانیاں دیں کہ وہ اپنی عبادتوں کے معیار کو بھی بڑھائیں۔ صرف مالی قربانی کر کے یہ نہ سمجھ لیں کہ بہت ہو گیا اور اپنے معیار عبادتوں کے بھی بڑھائیں اور اونچے کریں۔ مالی قربانی کر کے یہ نہ سمجھ لینا چاہئے کہ ہم عبادتوں سے فارغ ہو گئے۔ آنحضرت ﷺنے ایک حدیث میں فرمایا روایت آتی ہے کہ آپ ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ثواب کے لحاظ سے سب سے بڑا صدقہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا سب سے بڑا صدقہ یہ ہے کہ تو اس حالت میں صدقہ کرے کہ تو تندرست ہو مال کی ضرورت ہو حرص رکھتا ہو اس کی غربت سے ڈرتا ہو اور خوشحالی چاہتا ہو اس وقت صدقہ و خیرات میں دیر نہ کر۔ یہ ساری جو اپنی خواہشات ہیں جو دنیاوی چیزیں ہیں ان کی خواہشات ہوں لیکن اس کے باوجود تم صدقہ کرو خیرات کرو اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ فرمایا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تیری جان حلق میں آ پہنچے جب تو مرنے کے قریب ہو کہے کہ فلاں کو اتنا دے دو اور فلاں کو اتنا دے دو فرمایا کہ وہ مال تو اب تیرا رہا ہی نہیں وہ تو فلاں کا ہو ہی چکا ہے وہ تو اب ورثاء کو ملنا ہی ملنا ہے اس لئے فرمایا کہ صحت کی حالت میں اور ضرورت کی حالت میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہی اصل قربانی ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: یہ وعدے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے دے گا میں اس کو چند گنا برکت دوں گا۔ دنیا ہی میں اسے بہت کچھ ملے گا اور مرنے کے بعد آخرت کی جزا بھی دیکھ لے گا کہ کس قدر آرام میسر آتا ہے۔
اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : اگر اس وقت میں اس امر کی طرف تم سب کو توجہ دلاتا ہوں کہ اسلام کی ترقی کے لیے اپنے مالوں کو خرچ کرو۔ برکت اس میں بھی ملتی ہے اور اگلے جہان میں بھی۔ برکت اس دنیا میں بھی ملتی ہے اور اگلے جہان میں بھی اور یہ صرف کہنے کی بات نہیں ہے بلکہ آج بھی ہم دیکھتے ہیں۔ یہ اس زمانے کی بات نہیں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرما رہے ہیں آج بھی میرے پاس بہت سے ایسے واقعات آتے ہیں جو اظہار کرتے ہیں کہ ہمیں کس طرح اللہ تعالیٰ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے بعد ہمارے مالوں میں برکت عطا فرماتا ہے۔ ہمارے زندگیوں کے مسائل کو دور فرماتا ہے اور ہمارے ایمانوں کو مضبوط کرتا ہے۔ چند ایک واقعات کا بھی ذکر کر دیتا ہوں۔ اس ضمن میں حضور انور نے البانیہ، انڈونیشیا، گھانا اور ہندوستان کے مخلصین کی مالی قربانیوں کے اور ان پر افضال الٰہیہ کے نزول کے واقعات بیان فرمائے۔
حضور انور نے فرمایا: تحریک جدید بھارت کے انسپکٹر تلنگانہ کے ایک شخص کے بارے میں لکھتے ہیں کہ جو حیدرآباد کے ایک جگہ کے ہیں ان کا وعدہ سات ہزار روپے کا تھا مگر ملازمت ختم ہونے کی وجہ سے وہ ادائیگی نہیں کر سکے۔ اگلے سال کے لئے انہوں نے دس ہزار کا وعدہ لکھوا دیا۔ ان سے کہا گیا گذشتہ سال کا وعدہ تو آپ نے پورا نہیں کیا آئندہ کے لئے بڑھا کر دے رہے ہیں وعدہ کر رہے ہیں تو موصوف نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا انتظام فرمائے گا مجھے یقین ہے کیونکہ میں اللہ کی خاطر دے رہا ہوں۔ چنانچہ چند روز میں ہی انہیں پہلے سے بہتر ملازمت مل گئی اور انہوں نے گذشتہ دو سالوں کا بھی چندہ ادا کیا اور نئے مالی سال میں اپنا وعدہ بھی سات ہزار کی بجائے اب تیس ہزار پیش کر دیا اور اس کی ادائیگی بھی کر دی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے حسن ظن کو نوازا۔
اس ضمن میں حضور انور نے دنیا بھر کے احمدیوں کی مالی قربانیوں کے ایمان افروز واقعات بیان فرمائے۔
ان ایمان افروز واقعات کے بعد حضور اقدس نے عالمگیر جماعت احمدیہ کی طرف سے تحریک جدید کے حوالہ سے گزشتہ سال کی جانے والی قربانی کا خلاصہ پیش فرمایا۔
فرمایا: کہ تحریک جدید کا جو گذشتہ سال اکانوے واں سال تھا وہ ختم ہوا اور آج بانویں واں سال شروع ہوا ہے جس کا میں اعلان کر رہا ہوں اور اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کو 19.55ملین پاؤنڈ کی قربانی پیش کرنے کی توفیق ملی جو گذشتہ سال سے تقریباً ڈیڑھ ملین سے پندرہ لاکھ چونسٹھ ہزار پاؤنڈ سے زیادہ بنتے ہیں۔
مجموعی وصولی کے لحاظ سے پاکستان کے علاوہ جو جماعتیں ہیں وہ تو شمار نہیں ہوتا لیکن عمومی طور پر جو دنیا میں اول جماعت ہے وہ فی الحال جرمنی ہے اور دوسرے نمبر پر برطانیہ ہے۔ برطانیہ نے بھی اس سال غیر معمولی وصولی کی ہے اور جرمنی کے بالکل قریب پہنچ گئے ہیں۔ پھر اسی طرح امریکہ اور کینیڈا نے بھی گذشتہ سال کی نسبت غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔ پھر بھارت نے بھی کافی پچھلے سال کی نسبت اضافہ کیا ہے۔ آسٹریلیا ، انڈونیشیا اور اسی طرح مڈل ایسٹ کی جماعتوں نے بھی غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔ پھر گھانا نے بھی اس سال قربانی میں بہت اضافہ کیا ہے اور نمایاں اضافے کرنے والوں میں ماریشس اور ہالینڈ بھی شامل ہیں۔
انڈیا کے پہلے دس صوبہ جات اس طرح ہیں :کیرالہ ۔ تامل ناڈو۔ تلنگانہ۔اڈیشہ ۔ جموں و کشمیر۔ کرناٹک۔ پنجاب۔ بنگال۔ مہاراشٹرا۔ اور اور پہلی دس جماعتیںقربانی کے لحاظ سے جو ہیں حیدرآباد۔ کوئمبی ٹور پھر قادیان۔ کالی کٹ۔ میلا پالم۔ مینجری۔ کیرالہ۔ بنگلور۔ کیرنگ۔ کلکتہ۔ کیرولائی۔
تحریک جدید کا بانواں سال شروع ہوا ہے تو دفتر اول کا بانواں سال ہو گا اس کے جو پرانے کھاتے ہیں وہ جاری ہیں۔ دفتر دوم کا بیاسیواں سال ہے دفتر سوم کا اکسٹھواں سال ہے دفتر چہارم کا اکتالیسواں سال ہے دفتر پنجم کا بائیسواں سال ہے اور دفتر ششم کا تیسرا سال شروع ہو گا اب۔ جیسا کہ پہلے میں نے کہا کہ نئے آنے والے جو ہیں وہ دفتر ششم میں شمار کئے جائیں۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں میرے پیارے دوستو میں آپ کو یقین دلاتاہوں کہ مجھے خدا تعالیٰ نے سچا جوش آپ لوگوں کی ہمدردی کے لئے بخشا ہے اور ایک سچی معرفت آپ صاحبوں کی زیادت اور ایمان اور عرفان کے لئے مجھے عطا کی گئی ہے۔ اس معرفت کی آپ کو اور آپ کی ذریت کو نہایت ضرورت ہے۔ سو میں اس لئے مستعد کھڑاہوں کہ آپ لوگ اپنے اموال طیبہ سے یعنی اپنے پاکیزہ اموال سے اپنی دینی مہمات کے لئے مدد دیں اور ہر یک شخص جہاں تک خدا تعالیٰ نے اس کو وسعت وطاقت و مقدرت دی ہے اس راہ میں دریغ نہ کرے۔ اللہ اور رسول سے اپنے اموال کو مقدم نہ سمجھے اور پھر میں جہاں تک میرے امکان میں ہے تالیفات کے ذریعہ سے ا ن علوم او ر برکات کو ایشیااور یورپ کے ممالک میں پھیلاؤں جو خدا تعالیٰ کی پاک روح نے مجھے دی ہیں۔
پس اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سپرد جو مشن کیا ہے اب ہمارا کام ہے کہ ہم اس مشن کو پورا کریں۔ اللہ تعالیٰ احباب جماعت کی قربانیوں کو قبول فرمائے اور ان کے اموال و نفوس میں برکت ڈالے اور ہماری کوششوں میں بے انتہا برکت ڈالے اور ان کے بہترین نتائج پیدا فرمائے اور ہم جلد از جلد دنیا میں خدائے واحد کی حکومت کو قائم ہوتا ہوا دیکھیں اور آنحضرت ﷺکے جھنڈے کو لہراتا ہوا دیکھیں۔آمین ٭٭٭