اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-11-06

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا حضرت اقدس امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 31؍اکتوبر 2025 بمقام مسجد مبارک اسلام آباد ٹلفورڈ. یوکے

تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نےفرمایا :غزوہ تبوک کا آجکل ذکر ہو رہا ہے۔ آپ ﷺ اس غزوہ کے لئے روانہ ہوئے اس بارے میں تاریخ ہمیںمزید یہ بتاتی ہے کہ اسلامی لشکر کی تبوک کے لئے روانگی کے بعد آنحضرت ﷺ نے پہلا پڑاؤ ذو خشب مقام پر کیا۔ ذو خشب مدینہ سے ایک رات کی مسافت پر شام کے راستے پر ایک وادی ہے جہاں بڑی تعداد میں پانی کے چشمے ہیں۔ وہاں سے آنحضرت ﷺ نے نماز ظہر اور عصر جمع کر کے ادا کرنی شروع فرمائی۔ اس سفر کے دوران ظہر اور عصر اور مغرب عشاء مستقل طور پر بھی جمع کر کے ادا کرتے رہے۔
ذکر آتا ہے کہ اس سفر میں حضرت عبدالرحمن بن عوف کو امامت کی سعادت ملی جس کا واقعہ یوں ہے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک میں شریک ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے لئے فجر کی نماز سے پہلے تشریف لے گئے۔ میںنے آپ کے ساتھ پانی کی چھاگل اٹھا لی یعنی آپ کے ساتھ ہی چل پڑا پانی اٹھا کے۔ جب رسول اللہ ﷺ میری طرف واپس آئے تو میں فاصلے پر کھڑا تھا تو میں چھاگل سے آپؐکے ہاتھ پر پانی ڈالنے لگا اور آپؐنے اپنے دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھوئے۔ یہاں یہ وضو کا طریقہ بیان کر رہے ہیں۔ پھر آپؐنے اپنا چہرہ مبارک دھویا پھر آپؐاپنے بازوؤں کو اپنے جبہ سے باہر نکالنے لگے لیکن جبے کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے آپؐنے اپنے ہاتھ جبے کے اندر داخل کئے اور اپنے بازو جبے کے نیچے سے نکال کر کہنیوں تک دھوئے۔ پھر آپؐنے اپنے موزوں پر مسح کیا یعنی جرابیں پہنی ہوئی تھیں اس وقت تو جرابوں پر مسح کیا ان کو صاف کیا پھر آگے چل پڑے۔ مغیرہ کہتے ہیں کہ میں بھی آپؐکے ساتھ آگے چلا یہاں تک کہ ہم نے لوگوں کو پایا کہ وہ حضرت عبدالرحمن بن عوف کو آگے کر چکے تھے وہ ان کو نماز پڑھا رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے دو میں سے ایک رکعت پائی یعنی ایک رکعت پہلے پڑھ چکے تھے لوگ اور آپؐنے دوسری رکعت لوگوں کے ساتھ پڑھی۔ جب حضرت عبدالرحمن بن عوف نے سلام پھیرا اور رسول اللہ ﷺ اپنی نماز پوری کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو اس بات نے مسلمانوں میں گھبراہٹ پیدا کر دی اور بکثرت تسبیح کرنے لگے جب نبی ﷺ نے اپنی نماز ختم کر لی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ تم نے ٹھیک کیا یا فرمایا اچھا کیا۔ آپؐنے نماز اپنے وقت پر ادا کرنے کی وجہ سے ان کی تعریف کی۔
قوم ثمود کے کھنڈروں سے بھی گزرنے کا بھی ذکر ملتا ہے۔ حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب غزوہ تبوک کے دوران حجر میں قیام فرمایا تو آپ ﷺ نے انہیں ارشاد فرمایا کہ وہ اس کے کنوئیں سے نہ پئیں اور نہ اس سے پلائیں۔
اس سفر میں آنحضرت ﷺ کی اونٹنی گم ہونے کا واقعہ بھی ملتا ہے۔ اس کی تفصیل یوں ہے کہ جب رسول کریم ﷺ تبوک کی طرف تشریف لے جا رہے تھے تو راستے میں ایک جگہ آپ ﷺ کی اونٹنی قُصویٰ گم ہو گئی۔ صحابہ رسول ﷺ اسے ڈھونڈنے کے لئے نکلے۔ رسول کریم ﷺ کے پاس حضرت عمارہ بن حزم بھی تھے جو کہ بیعت عقبہ میں شامل ہوئے تھے اور بدری صحابی تھے۔ حضرت عمارہ کے خیمے میں زید بن ثلط تھا جو یہودی قبیلہ بنو قینقاع سے تعلق رکھتا تھا اور یہودی تھا پھر مسلمان ہوا لیکن مسلمان ایسا ہی تھا کہ اس نے منافقت کا اظہار کیا پوری طرح ایمان مضبوط نہیں تھا تو اس طرح یہاں بھی اظہار اس کا ہوا ہے اور وہ اس طرح ہوا کہ زید نے خیمے والوں سے کہا جبکہ حضرت عمارہ رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھے کہ کیا محمد ﷺ یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ وہ نبی ہیں اور وہ تمہیں آسمان کی خبروں سے آگاہ کرتے ہیں لیکن حال یہ ہے کہ وہ خود نہیں جانتے کہ ان کی اونٹنی کہاں گئی ہے۔ زید اپنے خیمے میں یہ بات کر رہا تھا تو عین اس وقت رسول کریم ﷺ نے حضرت عمارہ سے فرمایا جبکہ وہ آپ ﷺ کے پاس تھے کہ ایک شخص نے یہ کہا ہے کہ محمد ﷺ تم لوگوں کو تو بتاتا ہے کہ وہ نبی ہے اور گمان کرتا ہے کہ وہ تم لوگوں کو آسمان کی خبروں سے آگاہ کرتا ہے جبکہ وہ خود نہیں جانتا کہ اس کی اونٹنی کہاں ہے۔ خدا کی قسم آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم میں نہیں جانتا ماسوا اس کے جس کا اللہ تعالیٰ نے مجھے علم دیا ہے غیب کا علم تو میں نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ جو بتاتا ہے میں وہی بتاتا ہوں اور یقینا اللہ تعالیٰ نے مجھے اونٹنی کے متعلق بتا دیا ہے کہ وہ فلاں فلاں گھاٹی میں ہے اور ایک گھاٹی کی طرف اشارہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس منافق کی بات سن کے فوراً غیرت دکھائی اور آپ کو کشفاً بتا بھی دیا ہے کہ اُونٹنی فلاں جگہ ہے یا الہاماً بتایا۔ اس کی مہار ایک درخت سے اٹکی ہوئی ہے پس جاؤ اور اسے میرے پاس لے آؤ۔ پس صحابہ گئے اور اسے لے آئے۔
اس سفر میں زاد راہ یعنی راشن کھانے پینے کا سامان بھی کم ہو گیا۔ اس کی تفصیل میں لکھا ہے جو حضرت ابوہریرۃ سے روایت ہے کہ غزوہ تبوک کے سفر میں لوگوں کو سخت بھوک لگی۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اگر آپ ہمیں اجازت دیں تو ہم اپنے پانی لانے والے اونٹ ذبح کر لیں اور ہم کھائیں اور چکنائی استعمال کریں۔ آپ نے فرمایا کر لو۔ کافی حالت خراب ہے بھوک سے۔ راوی کہتے ہیں اس پر حضرت عمر آئے ان کو جب پتہ لگا وہ آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اگر آپ نے ایسا کیا تو سواریاں کم ہو جائیں گی ہاں لوگوں کو اپنا باقی ماندہ زادہ راہ لانے کا ارشاد فرمائیں اور پھر ان کے لئے اس پر برکت کے لئے دعا کریں۔ بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس میں برکت رکھ دے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں یہ ٹھیک ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ایک چمڑے کا دستر خوان منگوایا اور بچھا دیا اور پھر سب کے باقی ماندہ زاد یعنی کھانے کے سامان منگوائے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس پر برکت کی دعا فرمائی اور پھر فرمایا کہ اپنے برتنوں میں لے لو۔ انہوں نے برتنوں میں اس کو لے لیا یہاں تک کہ لشکر میں کوئی برتن نہ چھوڑا مگر اس کو بھر لیا پھر سب نے کھایا اور سیر ہو گئے اور کچھ بچ بھی گیا۔ تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں اور جو شخص بغیر کسی شک کے ان دونوں شہادتوں کے ساتھ خدا سے ملے گا وہ جنت سے روکا نہیں جائے گا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب سے یہ کہا گیا کہ آپ ہمیں غزوہ تبوک کے بارے میں کچھ بتائیں تو انہوں نے بتایا کہ ہم شدید گرمی کے موسم میں تبوک کی طرف روانہ ہوئے۔ ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا۔ ہمیں پیاس لاحق ہو گئی یہاں تک کہ ہمیں یوں محسوس ہوا جیسے ہماری گردنیں کٹ جائیں گی یہاں تک کہ یہ عالم ہو گیا کہ ایک شخص پانی کی تلاش میں جاتا اور وہ واپس نہ آتا تو ہم یہ گمان کرتے کہ شاید وہ مر گیا ہے۔ ایک شخص اپنے اونٹ کو قربان کرتا وہ اس کے معدے سے پانی نچوڑ کر اسے پیتا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق نے عرض کی یا رسول اللہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا میں بھلائی رکھی ہے تو آپ ہمارے لئے دعا کریں۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں دعا کروں اس کے لئے ہم نے عرض کی جی ہاں تو نبی کریم ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کر لئے ابھی آپ کے ہاتھ واپس نہیں آئے تھے کہ بادل نے سایہ کر دیا اور بارش شروع ہو گئی۔ لوگوں نے اپنے پاس موجود سب چیزیں بھر لیں پھر اس کے بعد ہم نے اس چیز کا جائزہ لیا تو لشکر سے آگے کہیں بارش نہیں ہوئی تھی۔
غزوہ تبوک میں پہرے داری کی ذمہ داری کے بارے میں بھی لکھا ہوا ہے کہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ نے حفاظت خاص پر حضرت عباد بن بشر کو مامور فرمایا۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ لشکر کے ارد گرد چکر لگاتے تھے۔ ایک دن وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ ہم اپنے پیچھے صبح ہونے تک تکبیر کی آواز سنتے ہیں کیا آپ نے ہم میں سے کسی اور کو حفاظت کے لئے چکر لگانے کا ارشاد فرمایا ہے۔ آپ نے فرمایا میں نے ایسا نہیں کیا لیکن شاید بعض مسلمان رضاکارانہ طور پر یہ کام سرانجام دے رہے ہوں۔ جس پر حضرت سلقان بن سلامہ جن کی ڈیوٹی نہیں لگائی گئی تھی لیکن محبت رسول ﷺ میں ازخود یہ کام کر رہے تھے انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں اپنے دس گھڑ سوار مسلمانوں کے ساتھ نکلتا ہوں اور ان ڈیوٹی والوں کی حفاظت کرتا ہوں۔اس پر آپ نے دعا دیتے ہوئے فرمایا اللہ تعالیٰ راہ خدا میں حفاظت کرنے والوں پر رحم کرے۔
اسی طرح حضرت ابو خیثمہ کا لشکر کے ساتھ ملنے کا واقعہ بھی ملتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے اس قافلے سے پیچھے رہ جانے والوں میں سے ایک صحابی حضرت ابوخیثمہ بھی تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان دنوں یہ مدینہ میں نہیں تھے۔ رسول اللہ ﷺ کے تبوک کے سفر پر روانہ ہونے کے کچھ دن بعد یہ مدینہ میں اپنے گھر ایک سخت گرم دن میں پہنچے۔ انہوں نے دیکھا کہ ان کی دونوں بیویوں نے باغ میں اپنے اپنے چھپر پر پانی چھڑکا ہوا تھا اور ان کے لئے پانی ٹھنڈا کیا ہوا تھا ان کے لئے اور ان کے لئے کھانا تیار کیا ہوا تھا۔ حضرت ابو خیثمہ چھپر کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور ان کی بیویوں نے جو ان کے لئے انتظام کیا ہوا تھا وہ دیکھا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ تو سخت چلچلاتی دھوپ سخت گرمی اور لو کے سفر میں ہوں اور ابو خیثمہ ٹھنڈے سایوں میں عمدہ کھانوں اور خوبصورت بیویوں اور اپنے مال مویشیوں میں مقیم ہوں۔ یہ ہرگز انصاف نہیں ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم میں تم میں سے کسی کے پاس بھی نہیں آؤں گا یہاں تک کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچ جاؤں۔ پس تم دونوں میرے لئے سامان سفر تیار کرو چنانچہ ان دونوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر ابوخیثمہ اونٹ پر سوار ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کے پیچھے روانہ ہو گئے اور ایک دوپہر شدید گرمی اور لُو میں آپ ﷺ کو دور صحراء میں ایک سوار آتا ہوا دکھائی دیا۔ ابن ہشام کی روایت کے مطابق آپ ﷺ تبوک پہنچ چکے تھے۔ آپ نے فرمایا۔ کن ابا خیثمہ کہ کاش یہ ابو خیثمہ ہو۔ جب وہ قریب آئے تو صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ خدا کی قسم وہ ابو خیثمہ انصاری ہی ہیں۔ وہ اپنے اونٹ کو بٹھا کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضرہوئے اور سلام عرض کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا کہ اے ابو خیثمہ تم کیوں پیچھے رہ گئے تھے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ساری بات بتائی اس پر آپ نے ان کے لئے خیر کی دعا فرمائی۔
باقی انشاء اللہ آئندہ بیان کروں گا۔
آخر پر حضور انور نے ربوہ کی مسجد مہدی میں زخمی ہونے والے خدام کا ذکر کرتے ہوئے ان کی شفایابی کے لئے دُعا کی درخواست کی نیز عمومی طور پر پاکستان، بنگلہ دیش اور فلسطین کے مظلومین کے لئے بھی دُعا کی تحریک فرمائی۔
…٭…٭…