تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نےفرمایا : غزوۂ تبوک کے متعلق کچھ مختصر ذکر ہوا تھا، اُس کی کچھ مزید تفصیل آج بیان کروں گا۔ حضرت مصلح موعودؓ غزوۂ تبوک کا پس منظر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ نے مکّہ فتح کیا تو ابوعامرمدنی جو خزرج قبیلے میں سے تھا اور یہودیوں اور عیسائیوں سے میل ملاقات کی وجہ سے ذکرو وظائف کا عادی تھا اور لوگ اسے راہب کہتے تھے۔ مگر مذہباً عیسائی نہیں تھا۔ یہ شخص رسول اللہﷺ کی مدینے آمد کے بعد مکے بھاگ گیاجب مکہ بھی فتح ہوگیا تو یہ سوچنے لگا کہ اسلام کے خلاف شورش پیدا کرنے کے لیے کوئی نئی تدبیر سوچنی چاہیے۔ آخر اس نے اپنا نام اور طرز بدلی اور مدینے کے پاس قبا نامی گاؤں میں رہنا شروع کیا۔ سالہا سال باہر رہنے کی وجہ سے مدینے کے لوگوں نے اسے نہ پہچانا۔ اس نے مدینے کے منافقوں کے ساتھ مل کر یہ تدبیر کی کہ مَیں شام میں جاکر عیسائی حکومت اور عرب عیسائی قبائل کو بہکاتا ہوں اور انہیں مدینے پر حملہ کرنے کے لیے تحریک کرتا ہوں۔ اِدھر تم یہ مشہور کردو کہ شامی فوجیں مدینے پر حملہ کرنے والی ہیں۔
آمدہ خبروں کے پیشِ نظر آنحضور ﷺ اس نتیجے پر پہنچے کہ اگر رومیوں سے مقابلہ کرنےمیں تاخیر کی تو اس کے نقصان زیادہ ہوں گے لہٰذا آپؐنے فیصلہ کیا کہ رومیوں کو حملے کا موقع دیے بغیر اُن کے علاقے میں جاکر فیصلہ کُن جنگ کی جائے۔ آنحضور ﷺ عموماً اپنی جنگی مہمات کو خفیہ رکھا کرتے تھے مگر خیبر کے بعد تبوک کی مہم ایسی تھی کہ آپؐنےعام اعلان فرمادیا اورراستے کی مشکلات اور دشمن کی کثرت کا پہلے سے بتا دیا۔
یہ قحط کا سال تھا، غذا کی تنگی تھی، لوگ اپنی فصلیں سمیٹنے کی فکر اور تیاری میں تھے کہ جہاد پر نکلنے کا اعلان ہوگیا۔ گرمی کا موسم تھا، سینکڑوں مِیل کا سفر اور زادِ راہ کی تنگی اس کے علاوہ تھی۔ ان سب مسائل کے ہوتے ہوئے آنحضور ﷺ کی طرف سے جب جہاد پر جانے کا حکم ہوا تو جاںنثار صحابہ جہاد کی تیاری کرنے لگے۔
اس موقعے پر مخیر صحابہ ؓکو آنحضور ﷺ نے قربانی کی تحریک کی تو سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے گھر کا سارا مال لے کر حاضر ہوگئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے تین سواونٹ پالانوں اور کجاووں سمیت پیش کئے۔ آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ عثمان پر کوئی گرفت نہیں ہوگی جو بھی اس کے بعد وہ کریگا۔ ایک روایت کے مطابق حضرت عثمانؓنے اس موقع پر ایک ہزار دینار بھی پیش کئے تھے۔ ایک اَور روایت کے مطابق حضرت عثمانؓنے اس موقعے پر ایک ہزار اونٹ اور ستّر گھوڑے پیش کئے اور بعض روایات کے مطابق اس جنگ کے جملہ اخراجات حضرت عثمانؓنے برداشت کئے تھے۔
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے متعلق مذکور ہے کہ انہوں نے مختلف روایات کےمطابق ایک سَو یا دو سَو یا چار سَو اوقیہ چاندی پیش کی تھی۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا عثمان بن عفان اور عبدالرحمن بن عوف زمین پر اللہ کے خزانوں میں سے خزانے ہیں جو اللہ کی رضا کے لئے خرچ کرتے ہیں۔
حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ جماعتِ احمدیہ کے افراد بھی اس بات کو سمجھتے ہیں کہ مالی قربانیوں کی کیا اہمیت ہے۔ اکثر مَیں واقعات بیان کرتا ہوں، بعض لوگ حقیقت میں ان کے پاس جو کچھ ہو وہ پیش کر دیتے ہیں۔ امراء کو بھی ، صاحبِ حیثیت لوگوں کو بھی حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓکے نمونے اپنے سامنے رکھنے چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سے امراء ایسے ہیں جو اعلیٰ معیار کی قربانیاں کر رہے ہیں۔
اس موقع پرغریب اور نادار صحابہؓ نے بھی حسبِ توفیق مالی قربانیاں پیش کیں۔ ایک صحابی حضرت عروہ بھی نادار تھے۔ رات نماز کیلئے کھڑے ہوئے اور گریہ و زاری کرتے ہوئے عرض کی کہ اَے اللہ تُو نے جہاد کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کی ترغیب دی ہے لیکن میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے، البتہ میں اپنی جان مال اور عزت پر ہونے والے ہر ظلم و زیادتی کو معاف کر کے وہی مسلمانوں پر صدقہ کرتا ہوں۔ جب صبح ہوئی تو یہ دیگر صحابہ کے ساتھ نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آنحضرت ﷺنے دریافت فرمایا کہ آج رات اپنی عزت کا صدقہ کرنے والا کہاں ہے؟ کوئی کھڑا نہیں ہوا۔ آپؐنے پھر پوچھا، لیکن کوئی کھڑا نہیں ہوا۔ بالآخر حضرت عُروہ کھڑے ہوئے اور آپ کو ساری بات بتائی۔ آنحضرت ﷺنے عروہ سے فرمایا خوش ہو جاؤ! مجھے اُس ذات کی قسم ہے جسکے ہاتھ میں میری جان ہے، تم ان لوگوں میں لکھ دئیے گئے ہو جن کا صدقہ قبول کیا گیا ہے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا خوبصورت اور انوکھا اخلاص اور قربانی کا جذبہ ہے۔ اللہ تعالیٰ جو دلوں کا حال جانتا ہے ، اُس نے بھی اُن کا یہ جذبہ قبول کیا اور اس کی اطلاع بھی رسول اللہ ﷺ کو دی۔
بعض غریب صحابہ اور صحابیات جب ایک ایک دو دو مدّ غلہ پیش کرتے تو ان کے دل بھر جاتے کہ کاش ان کے پاس زیادہ ہوتا تو اسے بھی پیش کر دیتے مگر منافق اُن پر ہنستے اور کہتے کہ یہ لوگ اِن مٹھی بھر دانوں سے قیصر کو شکست دینے چلے ہیں۔عورتوں نے بھی اس جنگ کی تیاری کے لئے اپنے زیورات پیش کر دئیے۔حضرت اُمّ سنان اسلمیہ بیان کرتی ہیںکہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں رسول اللہ ﷺکے سامنے ایک کپڑا بچھا ہوا دیکھا جس میں خوشبو، بازو بند، کنگن، کانٹے، انگوٹھیاں اور پازیبیں بھی تھیں جو عورتوں نے مسلمانوں کے جہاد کی تیاری کیلئے دی تھیں۔
منافقین حضور ﷺ کے سامنے پیش ہوتے اور جنگ پر نہ جانے کیلئےعذر پیش کرتے، حضور ﷺ ان سب کو اجازت دے دیتے۔تاہم قرآن کریم نے ان سب منافقین کی پردہ دری کردی کہ صرف وہی لوگ تجھ سے رخصت طلب کرتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے۔حضورانور نے فرمایا باقی تفصیل اِنشاء اللہ آئندہ بیان کروں گا۔
حضور انور نے فرمایا : ربوہ کی مسجد پر دہشت گردانہ حملے کے نتیجے میںجو احمدی خدام زخمی ہیں اُن
کے لیے دعا بھی کریں اللہ اُنہیں صحتِ کاملہ عطا فرمائےاور بعد کی بھی ہر پیچیدگی سے اُنہیں بچائے۔ اس وقت تین خدام ہسپتال میں زیر علاج ہیں جو زیادہ زخمی ہیں۔ باقیوں کے زخم بھرنے میں بھی ابھی وقت لگے گا۔ اللہ تعالیٰ سب کو شفائے کاملہ عطا فرمائے اور آئندہ افرادِ جماعت کو ہر جگہ ہر شر سے ہر نقصان سے محفوظ رکھے۔
خطبہ کے آخر پر حضور انور نے مکرم سام علی نینا صاحب آف مارشل آئی لینڈزکا ذکر خیر فرمایا۔ مرحوم گزشتہ دنوں 83برس کی عمر میں کیلیفورنیا میں وفات پاگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم نے 1980ءکی دہائی میں احمدیت قبول کی ۔مرحوم کی بڑی مخالفت ہوئی مگر بہادری سے اپنے ایمان پر ڈٹے رہے۔ ان کی محنت اور کوشش سے جماعت وہاں رجسٹر ہو ئی۔ لمبا عرصہ وہاں کوئی مربی نہیں تھا ، خود ہی اپنی وفات تک جماعت کو سنبھالا اور تبلیغ بھی کرتے رہے اور جماعت کے نام کو کبھی ماند نہیں پڑنے دیا۔مارشل آئی لینڈ میں جماعت قائم کرنے میں اوّل مقام رکھتے ہیں۔ زیادہ تر نومبائعین آپ کی کوششوں کے نتیجہ میں احمدی ہوئے۔ ان کی اہلیہ نے اپنا ایک قطعہ زمین دیا جس پر آج جزائر مارشل آئی لینڈ میں پہلی مسجد بھی قائم ہے۔آپ مقامی معاشرے میں بااثر شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ مرحوم بڑی تبلیغ کرنے والے، جماعتی کاموں میں معاونت کرنے والے، دین کی خاطر قربانی کرنے والے نیک بزرگ تھے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور ان کے خاندان کے کچھ لوگ احمدی نہیں ہیں اللہ تعالیٰ انہیں بھی توفیق دے کہ ان کی نسل میں وہ بھی احمدی ہو جائیں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نماز جمعہ کے بعد ان کی نماز جنازہ غائب ادا فرمائی۔
…٭…٭…