تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نےفرمایا : آنحضرتﷺ فتح مکہ کے بعد جب مدینہ واپس تشریف لے آئے تو آپ نے دعوت اسلام کے لئے مختلف علاقوں کی طرف لشکر روانہ کئے۔چنانچہ مہاجر بن ابی امیہ کو صنعاء جو یمن کا دارالحکومت ہے اس کی طرف اور زیاد بن لبید کو حضر موت کی طرف روانہ فرمایا اور ایک لشکر تیار کیا جس کا امیر قیس بن سعد کو مقرر فرمایا۔ آپؐنے قیس بن سعد کو چار سو آدمیوں کے ساتھ روانہ فرمایا تا کہ وہ یمن کے قبیلہ صداع کو اسلام کی دعوت دیں۔ حضرت قیس خزرج کے سردار حضرت سعد بن عبادۃ کے بیٹے تھے۔ حضرت قیس بن سعد کا شمار جلیل القدر صحابہ میں ہوتا تھا۔ فتح مکہ کے موقع پر آنحضرت ﷺ نے جب حضرت سعد بن عبادہ سے جھنڈا واپس لیا تھا تو ان کے اسی بیٹے قیس کو دیا تھا۔ یہ بہت صائب الرائے اور بہادر شہسوار سمجھے جاتے تھے۔ جودو سخا میں بھی بہت مشہور تھے۔ حضرت قیس قناع میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے کہ قبیلہ صداع کے ایک شخص جیاد بن حارث کا ادھر سے گزر ہوا۔ یہ کچھ عرصہ پہلے مسلمان ہو چکا تھا۔ جب اس کو علم ہوا کہ یہ لشکر ان کے قبیلے پر حملہ کرنے جا رہا ہے تو وہ وہاں سے سیدھا رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور درخواست کی کہ آپ نے جو لشکر بھیجا ہے وہ واپس بلا لیں میں اپنی قوم کی ضمانت دیتا ہوں اوراسکے قبول اسلام کا بھی وعدہ کرتا ہوں۔ یعنی ایک ضمانت تو یہ کہ وہ مسلمانوں پر حملہ نہیں کریں گے نقصان نہیں پہنچائیں گے اور دوسرا اسلام بھی آہستہ آہستہ قبول کر لیںگے۔ آپ نے اس کی بات قبول کرتے ہوئے لشکر کو واپس بلا لیا۔ حضور انور نے فرمایا کہ اس بات سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علاقہ فتح کرنے کی غرض سے یا قوم کو زیر نگیں کرنے کی غرض سے آپ نے لشکر نہیں بھیجا بلکہ اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے بھیجا تھا اور مسلمانوں کو محفوظ کرنا مقصد تھا۔
سریہ حضرت عُیَیْنَہ بِنْ حِصْنْ فَزَارِیْ بطرف بنی تمیم کا بھی ذکر ملتا ہے۔ یہ سریہ محرم 9 ہجری میں بنو تمیم کی طرف حضرت عیینہ بن حصن کی قیادت میں ہوا۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت بِشْرْ بِنْ سُفْیَانْ کو قبیلہ خزاعہ کی شاخ بنو کعب کی طرف صدقات یعنی اموال زکوۃ کی وصولی کے لئے بھجوایا۔ چنانچہ حضرت بشر بن سفیان کے حکم پر بنو خزاعہ کا مال ہر طرف سے ان کے پاس جمع ہونے لگا۔ بنو تمیم جو مسلمان نہیں تھے کہنے لگے وہ کیوں ناحق ہمارے اموال لے رہا ہے اور اپنی تلواریں نکال لیں۔ بنو خزاعہ نے کہا کہ ہم نے دین اسلام قبول کر لیا ہے اور یہ ہمارے دین کا حکم ہے ہم دے رہے ہیں تمہیں کیا تکلیف ہے؟ لیکن بنو تمیم نہ مانے۔جنگ و جدال کی کیفیت کو دیکھ کر حضرت بشر بن سفیان بغیر کسی قسم کی وصولی کے خود ہی وہاںسے واپس چلے آئے۔ یہ بات بنو خزاعہ پر نہایت گراں گزری۔ بنو خزاعہ نے بنو تمیم کو وہاں سے نکال دیا اور کہا کہ اگر تمہاری رشتہ داری نہ ہوتی تو تم اپنے شہروں تک نہ پہنچ پاتے۔
دوسری طرف حضرت بشر بن سفیان نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو حالات سے آگاہ کیا۔ آپ ﷺنے فرمایا کون اس قوم کو سبق سکھائے گا؟ سب سے پہلے حضرت عیینہ بن حصن نے لبیک کہا۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت عیینہ بن حصن کو پچاس عرب شہسواروں کے ہمراہ بنو تمیم کی طرف روانہ فرمایا جن میں مہاجرین اور انصار میں سے کوئی بھی نہیں تھا۔ عیینہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ روانہ ہوئے۔ وہ رات کو چلتے اور صبح کو چھپ جاتے حتی کہ وہ صحراء میں پہنچ گئے جہاں بنو تمیم فروکش تھے اور اپنے مویشی چرا رہے تھے۔ جب بنو تمیم نے اس لشکر کو دیکھا تو وہ سب کچھ چھوڑ کر وہاں سے بھاگ گئے۔ ان کے گیارہ مرد گیارہ عورتیں اور تیس بچے قید ہوئے جنہیں وہ مدینہ لے آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق حضرت رملہ بنت حارث کے گھر ٹھہرا دیا گیا۔ بعد میں بنو تمیم کے80یا 90 سرکردہ افراد پر مشتمل ایک وفد آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وفد میں اس قبیلے کے قادر الکلام شعراء اور خطیب بھی شامل تھے بعض۔وفد کے امیر نے کہا کہ ہم اشعار اور خطاب میں آپؐسے مقابلہ چاہتے ہیں۔ یعنی ہم سے مقابلہ کر لیں کہ کس قوم کا خطیب اور شاعر بلند پائے کا ہے۔ آپؐنے فرمایا کہ شعر و بیان میں مفاخرت میری بعثت کا مقصد نہیں ہےتاہم تمہاری آمد کی یہی غرض ہے تو اپنے فن کا مظاہرہ کرو۔ وفد والوں نے اپنے خطیب عُطَارِدْ بِنْ حَاجِبْکو آگے کیا اور اُس نے تقریر کی۔ رسول اللہ ﷺنے حضرت ثابت بن قیس بن شِماس کو جواب دینے کیلئے کہا۔ انہوں نے اس کے جواب میں زبردست تقریر کی جو اُس کی تقریر پر غالب آ گئی ۔ اس کے بعد وفد کے شاعر ذِبْرِقَانْ بِنْ بَدْرْ نے اپنے اشعار پیش کئے ۔ آنحضرت ﷺنے حسان سے فرمایا کہ وہ اس کے مقابل پر اپنا کلام سنائیں۔ حضرت حسان نے اس کا برجستہ جواب دیا۔ جب حضرت حسان فارغ ہوئے تو وفد کے لوگ آپس میں اکٹھے بیٹھے تو اَقْرَعْ بن حابِس جو اس وفد کے ساتھ آئے تھے انہوں نے اپنے ساتھیوں کے سامنے بے ساختہ تبصرہ کیا کہ ان کا خطیب ہمارے خطیب سے بڑھ کر ہے اور ان کا شاعر ہمارے شاعر سے کہیں زیادہ بلند پائے کا ہے۔اس کے بعد ان لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ آنحضرت ﷺنے بنو تمیم کے اسلام قبول کر لینے کے بعد ان کے قیدی واپس لوٹا دیئے اور سب کو انعام و اکرام سے بھی نوازا۔ ایک روایت کے مطابق وفد میں شامل ہر ایک شخص کو پانچ پانچ سو درہم عطا فرمائے۔
پھر سریہ حضرت علقمہ بن مُجَزِّزْ بطرف جدّہ کا ذکر ہے۔ اس مہم کا ایک واقعہ قابل ذکر ہے۔حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مَیں بھی اس لشکر میں تھا۔ جب لشکرمہم سے فارغ ہوگیا تو ایک گروہ نے جلد واپس جانے کے لئے اپنے امیر سے اجازت چاہی تو انہوں نے اجازت دی اور اُن پر عبداللہ بن حذافہ سمہی کو امیر مقرر کیا۔ اِن کی طبیعت میں مزاح تھا۔ یہ لوگ راستے میں اترے۔ ان لوگوں نے آگ جلائی تا کہ وہ آگ تاپیں۔ سنن ابن ماجہ میں آیا ہے کہ عبداللہ سہمی نے کہا کہ کیا میرا تم پر حق نہیں کہ تم سنو اور اطاعت کرو۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔اس نے کہا کہ میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تم اس آگ میں کود جاؤ۔ کچھ لوگ کھڑے ہو گئے اور کودنے کے لئے تیار ہو گئے۔ جب اسے یقین ہو گیا کہ وہ تو کودنے لگے ہیں تو اس نے کہا اپنے آپ کو روک لو کیونکہ میں تو تم سے صرف مذاق کر رہا تھا۔ جب واپس آئے تو لوگوں نے اس بات کا ذکرنبی کریم ﷺسے کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو امیر تمہیں اللہ کی نافرمانی کا حکم دے تو اس کی اطاعت نہ کرو۔ ایک روایت میںیہ ہے کہ آپ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا اگر وہ اس میں داخل ہوتے تو قیامت تک اس میں سے نہ نکلتے ۔
پھر سریہ حضرت علی بطرف فُلْسْ بنو طے کا ذکر بھی آتا ہے۔ ربیع الثانی 9 ہجری میں ہوا۔ فلس نجد کے علاقے کا ایک بت تھا اور قبیلہ طے اس کی عبادت کرتا تھا۔ رسول اللہ ﷺنے حضرت علی کو ڈیڑھ سو انصار کے ہمراہ بنو طے کے بت فلس کو گرانے کے لئے روانہ فرمایا۔ اس لشکر کی ایک خصوصیت تھی کہ سوائے حضرت علی کے باقی سب لوگ انصار تھے۔ مہاجرین میں سے کوئی نہیں تھا۔ حضرت علی صبح کے وقت حملہ آور ہوئے اور ان کے بت فلس کو منہدم کر دیا۔مشہور سخی حاتم طائی کا یہ قبیلہ تھا اور قیدیوں میں حاتم طائی کی بیٹی سَفَانہ بھی شامل تھی۔ حاتم طائی کی بیٹی سفانہ کو تمام قیدیوںکے ساتھ مسجد نبوی کے دروازے کے ساتھ ایک خیمے میں رکھا گیا۔ سفانہ نے جب بار بار آنحضرت ﷺ کی خدمت میں معافی کی درخواست پیش کی تو تیسرے دن آنحضرت ﷺ نے اُس سے فرمایا مَیں نے تیری درخواست قبول کر لی ہےتُو اب آزاد ہے لیکن یہاں سے جانے میں جلد بازی سے کام نہ لینا جب کوئی قابل اعتبار شخص میسر ہوا توتمہیں اس کے ساتھ تمہارے بھائی کے پاس شام روانہ کر دیا جائے گا۔اور بعد میں کچھ معتبر لوگوں کے ساتھ اُسے شام بھیج دیا۔
حضور انور نے فرمایا : اب غزوہ تبوک کے بارے میں بعض ابتدائی باتیں پیش کر دیتا ہوں۔ رجب 9 ہجری ستمبر 630 عیسوی میں یہ ہوا۔یہ آنحضرتﷺ کی حیات مبارکہ کا آخری غزوہ تھا۔ تبوک مدینہ سے قریبا 685 کلومیٹر کے فاصلہ پر تھا۔ تبوک نام کے چشمہ پر ٹھہرنے کی وجہ سے اس غزوہ کو غزوہ تبوک کہا جاتا ہے۔ رسول اللہﷺ نے تبوک کے قریب پہنچ کر شرکائے قافلہ سے فرمایا۔ قرآن کریم میں غزوہ تبوک کا ذکر سَاعَۃُ الْعُسْر یعنی تکلیف کی گھڑی کے نام سے کیا گیا ہے۔چونکہ مسلمانوں کو اس میں بہت دشواری اور تنگی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مثلاً شدید گرمی، دُور کا سفر سواریوں کی کمی، پانی کی قلت، اخراجات کی کمی۔ ان سب تکالیف کی وجہ سے اس کو جَیْشُ العُسْرٰی بھی کہا جاتا ہے یعنی تنگی اور تکلیف والا لشکر۔ غزوہ تبوک کے اسباب اور عوامل یہ تھے کہ مسلمانوں کو رومیوں کے حمایت یافتہ بنو غسان کے حملے کا ہر وقت خطرہ رہتا تھا اور ایسی اطلاعات بھی تھیں کہ یہ دونوں یعنی رومی اور غسانی جنگ کی تیاری کر رہے ہیں۔
خطبہ کے آخر پر حضور انور نے فرمایا : آج مسجد مہدی گولبازار ربوہ میں دہشت گردوں نے حملہ کیا ہے۔ ہمارے پانچ چھ لوگ زخمی ہیں۔ دو بہت زیادہ زخمی ہیں آپریشن وغیرہ بھی ہو رہا تھا ان کا۔ اللہ کرے کہ انکی حالت بہتر ہو گئی ہو۔ باقی زخمیوں پر بھی اللہ فضل فرمائے ۔ ایک دہشت گرد کو سکیورٹی والوں نے ماردیا ہے،ایک دوڑ گیا ہے۔اللہ تعالیٰ ان دہشت گردوں اور قانون توڑنے والوں اور جماعت کے مخالفین کو جلد پکڑے۔ جلداللہ تعالیٰ جماعت کے حق میں نشان ظاہر فرمائے۔ …٭…٭…